’رحم مادر میں بچہ ماں کے تناؤ سے متاثر‘

ماں کے ذہنی تناؤ سے اس کے رحم میں بچہ متاثر ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنماں کے ذہنی تناؤ سے اس کے رحم میں بچہ متاثر ہوتا ہے

جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ماں اگر تناؤ کا شکار ہو تو اس کے رحم میں بچہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ اگر ماں انتہائی ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو تو اس کے جسم میں تناؤ کو موصول کرنے والے ہارمونز بظاہر رحمِ مادر میں پروش پانے والے بچے میں حیاتیاتی تبدیلی لاتے ہیں اور یہ اس کے پرتشدد ساتھی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہارمونز میں تبدیلی سے متاثر ہونے والے بچے دباؤ کو جھیلنے کی کم اہلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ پہلے ہی ذہنی بیماری اور رویے میں مسائل سے منسلک ہوتے ہیں۔

ٹرانسیشنل سائکیٹری میں شائع ہونے والی تحقیق پچیس خواتین اور ان کے بچوں پر کی گئی، جن کے عمریں اب دس سال سے انیس سال کے درمیان ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج حتمی نہیں ہیں، کیونکہ بچوں کی نشو و نماء کے دوران معاشی حالات اور دیگر عوامل بھی اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ رحمِ مادر میں بچے کا ابتدائی دور اہم ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران جین میں تبدیلی کے رجحان کا بھی مطالعہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ بچے کے ہارمونز کے معمول کے ردعمل میں تبدیلی رحم میں ہی وقوع پذیر ہوتی ہے۔

ان کے بقول ماؤوں کے جذبات میں حمل کے دوران ہیجان اس کے بچے کے ہارمونز میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق کے دوران ایسی ماؤوں کی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ حمل کے دوران اپنے ساتھی کے منفی رویے کے باعث مسلسل دباؤ کا شکار تھیں۔

اِس تحقیقی ٹیم کے رکن پروفیسر تھامس ایلبرٹ کا کہنا ہے ’ہماری تحقیق کے دوران ایسا لگا کہ وہ بچے جو اپنی ماؤوں سے پیغام موصول کرتے ہیں کہ انہیں خطرناک دنیا میں آنا ہے جہاں ردعمل تیز ہونا چاہیے، لیکن ہمیں شبہ ہے کہ دباؤ کی وجہ سے ان کی ردعمل کی رفتار کم اور حساسیت زیادہ ہوجاتی ہے۔‘

اس تحقیق کے نتائج کو مزید یقینی بنانے کے لیے سائنسدانوں کے بقول ایک اور تفصیلی تحقیق کی جائے گی اور اس تحقیق میں شامل ماؤوں اور بچوں کی تعداد بھی زیادہ ہوگی۔