کمپیوٹر، انٹرنیٹ سے یادداشت متاثر

،تصویر کا ذریعہbbc
ایک نئی سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ انسانی یادداشت کے صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے ’جنرل سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ نفسیاتی تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب لوگوں کے سامنے مشکل سوالات پیش کیے گئے تو ان کے جواب کے لیے وہ کمپیوٹر کے بارے میں سوچنے لگے۔
جن افراد پر اس تحقیق کے دوران تجربہ کیا گیا تھا انہیں یہ پتہ تھا کہ سوالات کے جواب کمپیوٹر پر موجود ہیں۔ انہیں ان سوالات کے جواب نہیں معلوم تھے لیکن یہ معلوم تھا کہ کمپیوٹر میں جواب کہاں محفوظ کیے گئے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چیزیں یاد رکھنے کے لیے ہم ’ٹرانزیکٹو میموری‘ پر انحصار کرتے ہیں یعنی یادداشت کا کام دماغ کے علاوہ کوئی اور کررہا ہے جو کام پہلے یادداشت کرتی تھی اب وہ کام کمپیوٹر کر رہا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے بیٹسی سپیرو جنہوں نے یہ تحقیق کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ’ٹرانزیکٹیو میموری‘ کا مطلب ہے کہ دماغ کے علاوہ یاد داشت کے کام کوئی اور ذرائع کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر سپیرو کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا تھا کہ انٹرنیٹ ہمارے لیے چيزیں یاد رکھنے کا کام کررہا ہے اور اسی بات کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجربہ کرنا چاہتا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ’جن معلومات کے بارے میں ہمیں یہ پتہ ہے کہ وہ آن لائن موجود ہیں ہم انہیں یاد نہیں رکھتے ہیں اور انہیں کمپیوٹر میں محفوظ کرلیتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رسرچ میں کہا کیا گیا ہے کہ اب ہم صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ معلومات ہمارے کمپیوٹر میں کہاں محفوظ کی گئی ہیں تاہم یہ یاد نہیں رکھتے کہ معلومات ہیں کیا۔







