سماجی ترقی سے ہائی بلڈ پریشر دور

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنہائی بلڈ پریشر کو دل کے دورے یا اس سے متعلق بیماریوں کا باعث بھی قرار دیا جاتا ہے۔

ایک تازہ مطالعے کے مطابق سماجی طور پر ترقی کرنا فشار خون کو بہتر بناتا ہے۔

سویڈن کے محققین نے ایک ہی جنس اور معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والے بارہ ہزار افراد کی زندگیوں کا مطالعہ کیا۔

وہ لوگ جو معاشی طور پر نچلے طبقے کے گھرانوں میں پیدا ہوئے تاہم بعد میں انہوں نے ترقی کی اُن میں غریب ہی رہ جانے والے افراد کی نسبت بلند فشار خون یعنی ہائی بلڈ پریشیر کی بیماری کم دیکھی گئی۔

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملے میں طبقاتی فرق کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بلند فشار خون یا ہائپر ٹینشن کو دل کے دورے یا اس سے متعلق بیماریوں کا باعث بھی قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم اب تک اعلی سماجی طبقے میں شامل ہونے سے صحت پر پڑنے والے اثرات کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔

ایک نظریہ یہ ہے کہ ایک ایسے سماجی طبقے سے دوسرے میں جانا جس سے آپ کے والدین اور وہ وہ لوگ تعلق رکھتے ہیں جن کے ساتھ آپ بڑے ہوئے ہیں دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔ وہیں دوسرا نظریہ اس بات پر بحث کرتا ہے کہ سماجی ترقی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

حالیہ مطالعے کے مطابق سماجی طور پر نچلے طبقے میں رہ جانے والے افراد کی نسبت بہتر سماجی مقام حاصل کر لینے والوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح کم رہی۔ غریب رہ جانے والے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح پندرہ اعشاریہ چار فیصد رہی جبکہ معاشی طور پر مضبوط ہوجانے والے افراد میں یہی شرح بارے اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔

مجموعی طور پر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد میں بلند فشار خون کی شرح سترہ اعشارہ ایک فیصد تھی اور اعلی طبقے میں بارہ اعشاریہ نو فیصد۔

ماہرین کی ٹیم کی رہنما ڈاکٹر لویزا ہوگبرگ نے طبی جریدے میں لکھا ہے کہ ’ان نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی کمزور معاشی حیثیت کے باعث پیدا ہونے والے فشار خون کے خطرات کو مستقبل میں معیارِ زندگی بہتر بنا کر دور کیا جا سکتا ہے‘۔