چرنوبل کے پرندوں کے چھوٹے دماغ

مارش واربلرز

،تصویر کا ذریعہmarek szczepanek

،تصویر کا کیپشنمارش واربلرز بھی ان پرندوں میں سے ایک ہے جو متاثر ہوئے ہیں

ایک سائنسی جریدے میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق چرنوبل کے جوہری حادثے کی جگہ کے قریب پائے جانے والے پرندوں کے دماغ دوسرے پرندوں سے پانچ فیصد چھوٹے ہیں۔

یہ نتائج چرنوبل کے علاقے میں رہنے والے48 اقسام کے 550 پرندوں پر تحقیق کے بعد سامنے آئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دماغ کے حجم کا تعلق کم ذہنی عمل سے ہے۔

یہ تحقیق ناروے، فرانس اور امریکہ کے سائنسدانوں کی ٹیم نے کی ہے جس کی قیادت امریکہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا کے ٹموتھی موسییو اور فرانس کی یونیورسٹی آف پیرس۔سڈ کے ڈاکٹر اینڈرز مولر کر رہے تھے۔

سنہ 1986 میں چرنوبل کے جوہری پلانٹ کا ری ایکٹر نمبر چار پھٹ گیا تھا جس کے بعد شمالی نصف کرہ کے تقریباً سبھی ممالک میں تابکاری مواد کے شواہد پائے گئے ہیں۔

گزشتہ سال چرنوبل کے علاقے میں جنگلی حیات کا سب سے بڑا شمار کیا گیا تھا، جس سے پتہ چلا تھا کہ جوہری توانائی کے پلانٹ میں دھماکے کے بیس سال گزرنے کے بعد بھی تابکاری کے اخراج سے علاقے میں کیڑے مکوڑے اور مکڑیوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جوہری پلانٹ کے گرد و نواح میں میملز یا دودھ پلانے والے جانوروں میں کمی ہو رہی ہے۔

جوہری پلانٹ چرنوبل کے متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے تحقیق کاروں کے مطابق جوہری آلودگی کی وجہ سے کیڑے مکوڑوں اور مکڑیوں کی تعداد میں کمی کے واضح اشارے ملے تھے۔

پروفیسر ٹموتھی موسیو اور پروفیسر اینڈرز نے مشترکہ طور پر اس منصوبے پر کام کیا تھا۔ اس سے پہلے دونوں تحقیق کاروں نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق علاقے میں کم درجے کی تابکاری کی وجہ سے پرندوں کی افزائش نسل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پروفیسر موسیو نے کہا تھا کہ وہ اپنے کام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے درختوں، حشرات، ممیملز پر بھی اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس سلسلے میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ جو پرندے اس علاقے میں رہتے ہیں ان کے دماغ ان پرندوں سے پانچ فیصد چھوٹے ہیں جو تابکاری والے علاقے سے دور رہتے ہیں۔