امیرممالک میں موٹاپے کی وجہ مالی پریشانی

ایک موٹی خاتون
،تصویر کا کیپشنپریشانی اور تناؤ کے سبب لوگ زیادہ کھاتے ہیں

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دولت مند ملکوں میں رہنے والے لوگوں میں موٹاپے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں مالی تناؤ سے موٹے لوگوں کی بڑھتی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اقتصادیات اور انسانی جسم پر اس کے اثرات سے متعلق یہ جائزہ گیارہ امیر ممالک میں 1994 سے 2004 کے درمیان کے موٹاپے کے اعدادو شمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موٹاپے کی وجہ ’سماجی حالات‘ ہوتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ناروے اور سویڈن کے لوگوں کے مقابلے میں برطانوی اور امریکی زیادہ موٹے کیوں ہوتے ہیں۔

آکسفورڈ کے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ پریشانی اور تناؤ کے سبب لوگ زیادہ کھاتے ہیں۔تحقیق کاروں نے کئی ممالک میں گزشتہ دس برس کے دوران موٹاپے پر لیے گیے جائزوں کا موازنہ کیا اور آزاد معیشت والے ممالک جیسے امریکہ ، برطانیہ ، کینڈا اور آسٹریلیا کے اعدادو شمار دیکھے۔

اس کے بعد ان اعدادو شمار کا موازنہ فن لینڈ، جرمنی،اٹلی ،ناروے، سپین اور سویڈن سے کیا گیا جہاں لوگوں کے لیے روایتی طور پر سماجی اور اقتصادی تحفظ موجود ہے ۔

جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ جن ملکوں کی معیشت آزاد ہے وہاں لوگوں میں زیادہ موٹاپا پایا جاتا ہے۔مثلاً امریکہ میں موٹے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔