ویاگرا اتنا بھی اچھا نہیں: ماہر

جنسی میڈیسن کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ویاگرا استعمال کرنے والوں کی آدھی سے زیادہ تعداد کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
ڈاکٹر جیفری ہیکٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایستادگی کے مسائل کا شکار ہونے والوں مرد لاکھوں پاؤنڈ گولیوں پر ضائع کر رہے ہوں جبکہ ان کا اصل مسئلہ جنسی عمل کے لیے کارآمد مادے یا ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہو۔
انہوں نے یہ بات جنسی مسائل کی تشخیص اور علاج کے سلسلے میں نئی ہدایات کے اجراء کے موقع پر کی ہے۔
یہ ہدایات میچوریٹاس اور ہیومن فرٹیلیٹی نامی مجلوں میں شائع ہوئی ہیں۔
برمنگھم میں واقع گُڈ ہوپ ہسپتال میں جنسی صحت کے ماہر اور برٹش سوسائٹی فار سیکشوئل میڈیسن کے سابق صدر نشین، ڈاکٹر جیفری ہیکٹ کا کہنا ہے کہ جنسی مسائل کے ساتھ جی پی کے کلینک میں آنے والے زیادہ تر افراد کو عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔
ان کہنا ہے کہ چالیس سال سے زائد عمر کے چالیس فیصد افراد کو یہ شکایت ہوتی ہے جبکہ ان میں سے ہر پانچویں شخص کا اصل مسئلہ جنسی عمل کے لیے کارآمد مادے یا ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہے۔
مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی بلند ترین سطع عموماً بیس سے تیس سال کے درمیان ہوتی ہے اور اس کے بعد اس میں عمر بھر کمی آتی رہتی ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کمی کی وجہ کوئی اور بیماری ہو۔
ڈاکٹر ہیکٹ کا کہنا ہے کہ کم ٹیسٹوسٹیرون کی وجوہات میں ذیابطیس اور دل کے امراض ہو سکتے ہیں اس لیے اس کی تشخیص بھی ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہ افراد جن کو ویاگرا سے فائدہ نہیں ہو رہا ان کے کیسوں پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ اگر جنسی مسائل کی بنیادی وجہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہو تو ویاگرا اس کا حل نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیسٹوسٹیرون کی تبدیلی کا کہا جائے تو یہ علاج مریضوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔
جنسی مسائل کی تشخیص اور علاج کے سلسلے میں نئی ہدایات میں برٹش سوسائٹی فار سیکشوئیل میڈیسن نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ ڈاکٹر مریضوں سے ان کی جنسی زندگی اور اس بارے میں پائی جانے والی کسی بھی تشویش کے بارے میں پوچھیں۔







