گندم بحران حل کرنے کا نیا طریقہ

فائل فوٹو

برطانوی سائنسدانوں نےگندم کی جنیاتی اساس کے بارے میں ایسا مربوط مسودہ شائع کیا ہے جو اُن کے خیال میں دنیا کوگندم کے بحران سے بچانے میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

محقیقن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُن کی کوششوں سے برطانوی کسانوں کو ایک نیا بیج بنانے میں مدد ملے گی جس سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے گی۔

گندم کی بین الاقوامی پیداوار کو موسمی تبدیلیوں کے باعث حالیہ برسوں میں شدید خطرہ لاحق رہا ہے۔

گندم کو انسانی استعمال کے لیے سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

تحقیق کے نتائج کو لیورپول یونیورسٹی کے نیل ہال کی سربراہی میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

جان انزسینڑ کے ڈائریکٹر مائیک بیون کا، جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا، کہنا ہے کہ اس کے ذریعے سائنسدانوں اور گندم کاشت کرنے والے دوسرے افراد کوگندم کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ایسا کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہمیں مستقبل میں خوراک کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

روس نے جو دنیا میں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والا ملک ہے اپنے ملک میں شدید قحط کے بعد گندم کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

روس کی جانب سے گندم کی ایکسپورٹ پر عائد کی جانے والی پابندی پر بین الاقوامی برادری نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی برادری کے مطابق اس پابندی سے گندم کی کمی واقعہ ہو سکتی ہے جس سے گندم کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور چین میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ نے بھی گندم کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔

کیینڈا اور دوسرے متعدد ممالک کے مطابق موسمی حالات کے باعث اُن کے ممالک میں گندم کی کٹائی اُن کے اندازوں کے برعکس کم ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ گندم دنیا بھر میں خوراک کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے اور عالمی آبادی روزانہ بیس فیصد کیلوریز گندم یا اس سے بنی اشیاء کی صورت میں حاصل کرتی ہے۔