ماحولیاتی تبدیلیاں، چاول کی پیداوار میں کمی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنماحولیات میں تبدیلی سے دھان کی پیدوار میں کمی آئی ہے

امریکہ کے سائنس دانوں کی ایک تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر حدت میں اضافے کے سبب چاول کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔

یہ تحقیق ’نیشنل اکیڈمی آف سائنس‘ میگزین میں شائع کی گئی ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق دس سے بیس فیصد کے درمیان پیداوار کم ہو رہی ہے۔

امریکی سائنس دانوں نے اس کے لیے چاول پیدا کرنے والے تھائی لینڈ، ویتنام، بھارت اور چین جیسے ممالک کے تقریباً سوا دو سو کھیتوں کا جائزہ لیا ہے۔

ماحولیات کی تبدیلی سے پیداوار میں کمی اور اس سے دنیا کو غذائی قلت کا جو خطرہ لاحق ہے اس بارے میں کی گئی تحقیق کا یہ دوسرا سلسلہ ہے۔

دو ہزار چار میں فلپائن میں ایک دیگر تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ رات میں ایک ڈگری درجہ حرارت میں اضافہ سے پیداوار میں دس فیصد کی کمی درج کی گئی تھی۔

حالیہ تحقیق کے اعداو شمار ان کھیتوں سے حاصل کیے گئے ہیں جو پوری طرح آبپاشی پر منحصر ہیں اور ’ سبز انقلاب‘ کے تحت فصل اگائی جاتی ہے۔ اس میں بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کھیتوں سے لیکر شنگھائی تک کے کھیت شامل ہیں۔

ریسرچ کے سربراہ جارڈ ویلچ کا کہنا ہے ’ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق جیسے جیسے روزانہ کم سے کم درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، یا راتیں زیادہ گرم ہوتی ہیں اسی مناسبت سے چاول کی پیداوار میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔‘

اس کے برعکس یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر دن کے وقت درجہ حرارت زیادہ ہے تو پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے تاہم رات کے وقت زیادہ گرمی سے جو منفی اثر پڑتا ہے اس کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم ماہرین کے مطابق اگر دن کے وقت بھی درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جائے تو پیداوار میں کمی شروع ہو جائے گی۔

جارڈ ویلچ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ’ ہم اصولی طور پر دن کے وقت درجہ حرارت میں اضافے سے فائدہ دیکھتے ہیں لیکن ہم نے درجہ حرارت کو ایک حد سے زیادہ اوپر جاتے نہیں دیکھا کیونکہ اگر وہ معمول سے بہت زیادہ ہو جائے تو پھر دن کی گرمی سے بھی پیداوار میں کمی شروع ہوجائےگي۔‘

’انٹرنیشنل پینل آن کلائمیٹ چینج ‘ آئی پی سی سی نے دو ہزار سات میں ماحولیات سے متعلق اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافہ سے بعض علاقوں میں پیداوار بڑھ سکتی ہے۔

لیکن اس کے مطابق اگر تین ڈگری سیلسیس سے زیادہ اضافہ ہوا تو یہ سبھی علاقوں کی فصلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

گزشتہ برس کی ابتداء میں اس سے متعلق شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ماحولیات کی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافہ سے اس صدی کے اختتام تک دنیا کی نصف آبادی کو غذائیت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔