ایک کروڑ سال قدیم بندر کی باقیات

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبندر کی یہ ہڈیاں تین ہزار برس پرانی بتائی جاتی ہیں

ڈومینکن ریپبلک میں گہرے پانی میں غوطہ خوری کے دوران ایک غار سے بندر کی ایک نایاب نسل کی باقیات ملی ہیں۔ سائنسدان ان باقایات کا معائنہ کر رہے ہیں۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ یہ باقیات تقریباً تین ہزار سال قدیم ہیں لیکن جس جاندار کی ہیں انتہائی قدیم ہو سکتا ہے۔

اب تک کے معائنے سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ باقیات اس علاقے میں بہت عرصہ پہلے پائی جانے والی میمون بندر کی نسل کی ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پانی کی گہرائی میں ما قبلِ تاریخ کے اہم راز دبے ہو سکتے ہیں۔

بندر کی ہڈیوں کی باقیات کا مطالعہ کرنے والے نیویارک کے بروکلین کالج کے ڈاکٹر الفرڈ روزن برگ کی تحقیق رائل سوسائٹی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بندر کا سر تقریباً پورا ہے۔ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ غوطہ خوروں نے اسے دیکھ لیا۔ پہلے تو انہیں تو خوف تھا کہ اگر وہ اسے اسے اٹھانے اور لے جانے کی کوشش کریں گے تو ہڈیاں ایک دوسرے سے الگ یا بھربھرا نہ جائیں یا پانی کے ساتھ ادھر اُدھر نہ ہو جائیں، اس لیے انہوں نے غار میں اسے قدرے محفوظ جگہ پر رکھ دیا‘۔

پھر اجازت لے کر اسے غار سے باہر اور اوپر لایا گیا۔ ان کے مطابق بندر کی پوری لمبائی بارہ انچ ہی ہے۔ ’اس کے پاؤں کی ہڈیاں بہت موٹی ہیں۔ اس لیے اس کے پیر بہت موٹے اور مضبوط ہیں۔ اس وقت دنیا میں کوئی ایسا جاندار بندر نہیں پایا جاتا ہے جس کے پیر اس قدر مضبوط ہوں‘۔

ڈاکٹر الفرڈ کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں برس پہلے اس طرح کی جاندار پانی کا طویل سفر کرکے اس علاقے تک پہنچے ہوں گے۔ ’گرچہ یہ خاص ہڈیاں زیادہ پرانی نہیں ہیں لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ان جانوروں کی یہاں آمد ایک کروڑ سال پہلے ہوئی ہوگی‘۔

’اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر ان بندروں کے دانتوں کا دوسرے قدیم بندروں سے موازنہ کیا جائے تو ان کی مماثلت ڈیڑھ کروڑ برس پرانی نسل پیٹاگونین سے زیادہ ہو گی‘۔

لندن میں ارضیات سے متعلق سائنسداں سیم ٹرویی کہتے ہیں اس دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ کریبین علاقے میں کتنا کچھ ایسا ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے، ہمیں اس جانور کے ذریعے ارتقا کے بارے میں جاننے میں کافی مدد مل سکتی ہے‘۔