نظام شمسی کی دوریوں میں آغاز کی کہانی

یورپی یونین کی ایک خلائی گاڑی نظام شمسی میں تیرتے ہوئے ایک سیارچے کے پاس سے گزری ہے اور اس کی تصاویر لی ہیں جن سے امید کی جا رہے کہ نظام شمسی کے آغاز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
خلائی گاڑی روزیٹا زمین سے چار سو پچاس کلومیٹر دور لوٹیشیا نامی سیارچے کے پاس سے گزری اور تصاویر اتارنے کے ساتھ ساتھ اہم معلومات حاصل کیں۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ روزیٹا سے بھیجی جانے والی معلومات سے پتہ چلے گا کہ اس سیارچے پر نظام شمسی کی پیدائش کے وقت کا کتنا مواد موجود ہے۔
اس سے پہلے کوئی خلائی گاڑی اتنے بڑے سیارچے کے پاس سے نہیں گزری۔ لوٹیشیا کی لمبائی ایک سو بیس کلومیٹر ہے۔
یورپی خلائی ادارے کے ایک منتظم پروفیسر ڈیوڈ ساؤتھ وڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک تاریخی دن ہے، یورپ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نظام شمسی کی تحقیق میں اہم پیشقدمی کر سکتا ہے۔‘
سائنسدانوں کے وقت نظام شمسی میں تیرتے سیارچے اس کی پیدائش کے وقت وجود میں آئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر سیارچے چٹانوں سے بنے ہیں جبکہ کچھ دھاتوں سے بھی بنے ہیں۔ کچھ سیارچے بہت ہی چھوٹے ہیں جبکہ کئی سینکڑوں کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔
زیادہ تر سیارچے مریخ اور مشتری کے درمیان وسیع خلاؤں میں موجود ہیں۔ خلائی گاڑی روزیٹا لوٹیشیا کے پاس سے ہوتی ہوئی مئی دو ہزار چودہ کو اپنی اگلی منزل دمدار ستارے چوریموو گیریسیمنکو کے پاس سے گزرے گی۔
روزیٹا چار کلومیٹر وسعت کے اس دمدار ستارے کی سطح پر فلے نامی گاڑی بھی اتارے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیارچے آجکل سائنسدانوں کی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جاپان کا ایک مشن حال ہی میں ایک اور خلائی چٹان اتوکاوا کا مشاہدہ کر کے لوٹا ہے۔ اگلے برس ایک امریکی مشن سیارچے ویسٹا کا مشاہدہ کرنے جا رہا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ سن دو ہزار بیس کی دہائی میں انسان کو بھی کسی سیارچے پر اتارنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔







