سانپوں کا ایک قیمتی ذخیرہ جل کر راکھ
برازیل میں حکام کا کہنا ہے کہ ساؤ پاؤلو میں واقع ایک تحقیقاتی ادارے میں آگ لگنے کے باعث بچھو، مکڑی اور مردہ سانپوں کا ایک قیمتی ذخیرہ جل کرراکھ ہو گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اچانک بھڑکنے والی آگ کے باعث تقریباً اسی ہزار سے زائد محفوظ شدہ سانپ اور ہزاروں کی تعداد میں مکڑیاں اور بچھو راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔
آگ بجھانے والے عملے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ نمونے ایسے محلول میں ذخیرہ کیے گئے تھے جو آگ بڑھانے یا تیز کرنے میں انتہائی مددگار ہوتا ہے اسی وجہ سے آگ مزید بڑھ گئی تھی۔
بوٹینین نامی ادارے کے ایک رکن فرانسکو فرانکو کے مطابق یہ پوری انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے ۔ادارے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ مردہ نمونے سائنسدانوں کو انسانی بقا میں آنے والی تبدیلیوں کی تحقیق کرنے میں بہت مدد دیتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’ یہاں جانورو پر تحقیق میں ان کا تقابلی جائزہ لیا جاتا تھا اور یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکتی ہے۔‘
جل کر خاکستر ہونے والوں میں سے بعض نمونے سو سال پرانے تھے جن کی نسل اب معدوم ہو چکی ہے۔
خیال رہے کہ ان میں سے چند نمونے انتہائی قیمتی اور معدوم نسل سے تعلق رکھتے تھے اور سائنسی تحقیقات میں بہت مددگار تھے
اس حادثے میں عمارت میں موجود زندہ جانوروں کو ایک دوسی عمارت میں منتقل کر دیا گیا تھا جس سے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔



