برطانیہ:سپرم عطیہ کرنے والوں میں کمی

’سپرم کا عطیہ خون دینے کی طرح کا سادہ عمل ہونا چاہیے‘ برطانیہ میں بے اولاد جوڑوں میں بذریعہ عطیہ شدہ سپرم حمل ٹھہرانے کا عمل عطیہ شدہ سپرم کی شدید قلت کے باعث تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سپرم عطیات کو منضبط کرنے والے ایک قانون میں بے نامی کو حاصل تحفظ ختم کرنے سے یہ قلت پیدا ہوئی ہے۔

لیکن اب مردوں کو سپرم عطیہ دینے پر رضامند کرنے کے لیے مانچسٹر شہر میں حکام نے کھیل کے میدانوں خصوصًا فٹبال، رگبی گراؤنڈز اور جمانازیم وغیرہ کے آس پاس ایسے پوسٹر چسپاں کرائے ہیں جن میں مردوں سے عطیہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق عطیہ شدہ سپرم کی کمی کے باعث بہت سے بے اولاد جوڑوں کے لیے ٹیسٹ ٹیوب علاج مؤخر کردیا گیا ہے۔

خیال ہے کہ عطیات میں کمی کی وجہ قانون میں وہ حالیہ ترمیم ہے جس کے بعد عطیہ شدہ اسپرم کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے جینیاتی والدین کی تفصیلات معلوم کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق سپرم کا عطیہ خون دینے کی طرح کا سادہ عمل ہونا چاہیے اور عطیات دینے والوں کی بے نامی عطیات میں اضافے کے لیے بہت ضروری ہے۔