گنجے ریچھوں کا معّمہ

مشرقی جرمنی کے ایک چڑیاگھر میں ریچھوں کے بال جھڑ گئے ہیں تاہم ماہرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخرایسا ہوا کیوں؟
جرمنی کے چڑیا گھر لیپزگ میں آنکھوں کے پاس سفید حلقے والے تین ریچھوں کے بال جھڑ ے ہیں جس میں سے سب زیادہ متاثرہ ریچھ کے جسم پر تو بال ہی نہیں بچے ہیں۔
ڈالرز، بائناکا اور لولیتا نامی تینوں ریچھوں امراض جلد میں بھی مبتلا ہیں جنہیں کھجلی کی شکایت ہے اور اس سے نجات کے لیے چڑیا گھر کے اہلکار ان پر مرہم لگاتے ہیں۔
چڑیا گھر کی دیکھ بھال کرنے والے گیرڈ نوئتز ہولڈ کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ مشکل یورپ کے تمام چڑیا گھروں اور اس کے باہر تک پھیل چکی ہے لیکن کسی کو یہ پتہ نہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یورپ اور اس کے علاوہ دوسرے خطوں میں بھی ایسے چڑیا گھر ہیں جس میں یہ مشکل پائی جاتی ہے۔ تو ہم نے اس کے لیے چڑیا گھروں میں کام کرنے والوں کا ایک عالمی گروپ بھی بنایا تھا جو اس معاملے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے‘۔
ریچھوں سے متعلق انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر گیرارڈ بارز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے یہ حالت کبھی بھی نہیں دیکھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ یہ ایک ریچھ ہے جبکہ میں پوری زندگی ریچھوں کے لیے ہی کام کرتا رہا ہوں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ بال گرنے کی وجہ ’میرے خیال سے غذاء اور ماحولیات کی تبدیلی کے سبب ہوسکتی ہے کیونکہ یہ گرما کے علاقے کا جانور ہے اور ہم نے اسے دوسری جگہ رکھا ہے‘۔
گیرارڈ بارز کا کہنا تھا کہ چڑیا گھروں میں جانوروں کی مناست کے لحاظ سے ماحول نہیں بن پا تا ہے۔
بارز جرمنی کے اس مذکورہ چڑیا گھر کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ سرد موسم میں ریچھوں کے لیے خصوصی انتظام کرنے کے بارے میں چڑیا گھر کے حکام کو مشورہ دیں گے۔ان کا کہنا ہے ’ریچھوں کو اندر رکھنے کی ضرورت ہے اور انہیں درجہ حرارت بڑھا کر گرم علاقہ کا موسم بنانا ہوگا جس میں رطوبت ہو اور پیال کا فرش ہو‘۔



