آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روزیٹا سٹون: وہ تبدیلی جس نے ہیرو گلیف کو حل کرنے میں مدد دی
- مصنف, وائل جمال
- عہدہ, بی بی سی نیوز، عربی
یہ 19 جولائی سنہ 1799 کا دن تھا۔ نپولین جنگیں عروج پر تھیں اور فرانسیسی افواج مصر کے ایک ساحلی شہر رشید میں ایک قلعے کی حصار بندی کر رہی تھیں جب ان کی نظر مٹی میں دبے ہوئے ایک بڑے سے پتھر پر پڑیں جس پر کچھ تحریریں کندہ تھیں۔
اس پر تین مختلف رسم الخط کندہ تھے اور ان میں سے ایک قدیم مصری تصویری نقوش والی لکھائی بھی تھی جسے ہیروگلیف کہا جاتا ہے۔
فرانسیسی سائنسدان ژاں فرانسوا شیمپولیون (1790-1832) وہ شخص ہیں جنھیں اس قدیم تحریر کے رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوششوں کا سب سے زیادہ کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے یہ کام سنہ 1822 میں سرانجام دیا تھا۔
مگر کہانی درحقیقت اس پتھر کی دریافت سے شروع ہوئی اور اس میں ایک نوجوان افسر کی اندرونی آواز کا بھی کردار ہے۔ یہ افسر پیغ فرانسوا بوشاغ تھے جو سنہ 1798 سے 1801 کے دوران نپولین کی مصر میں فوجی مہم کے دوران یہاں آئے تھے۔
بوشاغ کو اپنی اس دریافت کی اہمیت کا اندازہ تھا مگر ان کے کردار کو 200 برس تک نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔
فرانس بوشاغ کو بھولا نہیں
پیرس میں سینٹر فار مڈل ایسٹرن سٹڈیز کے ڈائریکٹر احمد یوسف پیغ فرانسوا بوشاغ پر فرانسیسی زبان میں پہلے تاریخی مطالعے کے مصنف ہیں۔ بوشاغ کی پیدائش جنوب مشرقی فرانس میں سنہ 1771 میں ہوئی تھی۔
احمد یوسف نے فروری میں بی بی سی کو بتایا کہ کیپٹن بوشاغ کے بارے میں تاریخی مطالعے کی اشاعت فرانس اور مصر دونوں میں ہی ایک اہم موقع تھا کیونکہ یہ شیمپولیون کی دریافت اور بوشاغ کی موت دونوں ہی کے 200 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہوئی تھی۔
بوشاغ کی دریافت کے اعتراف میں اس برس پیرس کی مشہور سوربون یونیورسٹی میں ایک لیکچر رکھا گیا اور ان کے آبائی شہر اوغشیلی میں اسی پتھر ’روزیٹا سٹون کا ایک اصل سے 20 گنا زیادہ بڑا ماڈل بنایا گیا جو شہر میں آنے والوں کا استقبال کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ بوشاغ پر فرانسیسی چینلز کے تعاون سے ایک دستاویزی فلم بھی رواں برس کے اختتام پر دکھائی جائے گی۔
بوشاغ کون تھے؟
فرانسیسی تاریخ میں بوشاغ کے بارے میں بہت زیادہ کچھ نہیں ملتا۔ ان کا تذکرہ صرف روزیٹا سٹون کی دریافت کے متعلق تحریروں میں بکھری ہوئی چند سطروں تک محدود ہے جبکہ شیمپولیون کے کردار کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
احمد یوسف بتاتے ہیں کہ نوجوان بوشاغ ایک تنگدست دیہی ماحول میں ایک کارپینٹر (بڑھئی) کے گھر میں پیدا ہوئے تھے اور اُنھوں نے بھوک اور غربت کی زندگی گزاری۔
یوسف کے مطابق ’وہ آنے والے کل سے خوف زدہ نہیں تھے۔ اُنھوں نے مستقبل میں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے حال کی سختیاں برداشت کیں۔‘
بوشاغ جب صرف 22 برس کے تھے کہ سنہ 1793 میں انھوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی۔ اُنھیں پیرس میں گرینیڈیئر رجمنٹ میں بطور سارجنٹ تعینات کیا گیا۔
اُنھوں نے یورپ میں جنگ کی بہت سی ہولناکیاں دیکھیں مگر شاید یہ توقع نہیں تھی کہ وہ مشرق کے ان دور دراز علاقوں میں لڑیں گے جن سرزمینوں کا ذکر صرف الف لیلیٰ یا ہزار داستان میں یا پھر سترویں اور اٹھارویں صدی کے سیاحوں کے قصوں میں ملتا ہے۔
اگست سنہ 1794 میں بوشاغ نے سیکنڈ بیلون ڈویژن میں شمولیت اختیار کی اور اُنھیں پیرس کے جنوب مغرب میں نئے نیشنل ایئرشپ سکول میں بھیج دیا گیا۔ اس سکول کے مشہور ڈائریکٹر نکولس ژاک کونٹے کے ساتھ ان کی دوستی ان دونوں کو مصر لے آئی۔
فرانس اپنے فوجی آپریشنز میں ایئرشپس کے استعمال پر غور کر رہا تھا۔ یوسف کہتے ہیں کہ ’کونٹے کی ذمہ داری ماہر سائنسدانوں کی ایک کمیٹی تشکیل دینا تھا جس میں بوشاغ کو بھی شامل کیا گیا۔‘
دونوں ہی ایک سائنسی تجربے کے دوران زخمی ہوئے اور بوشاغ نے تقریباً اپنی ایک آنکھ گنوا دی تھی مگر قسمت نے ’اُن دونوں کو بچا لیا اور مصر لے آئی۔‘
بوشاغ 21 نومبر سنہ 1796 میں مایہ ناز سائنسز اینڈ آرٹس سکول میں داخل ہو گئے۔ یہ ان کی مصر روانگی سے دو سال قبل کی بات ہے۔ وہاں انھوں نے فصیل بندی کی تکنیکیں سیکھیں۔
بوشاغ کے معاملے پر اپنی تحقیق میں یوسف کہتے ہیں کہ ’اس شعبے میں ان کی اعلیٰ کارکردگی نے اُن کی اہمیت میں اضافہ کیا۔ فصیل بندی کے ذریعے اُنھوں نے مصر میں عین اسی دن سے تاریخ رقم کی جب اُنھوں نے شہرِ رشید میں قلعہِ قایتبائی کی فصیل بندی کا انتظام سنبھالا۔‘
مصر میں جرنیل اور سائنسدان
سنہ 1798 میں نپولین بوناپارٹ کی مصر پر قبضہ کرنے کی فوجی مہم میں اس وقت تک تاریخ کی سب سے بڑی سمندری فوج شامل تھی مگر وہ اپنے ساتھ بوشاغ اور کونٹے سمیت 167 سائنسدان اور فنکار بھی لے کر گئے تھے جن میں اس وقت کے سب سے مایہ ناز فرانسیسی سائنسدان اور ادیب شامل تھے۔ وہ مشرق میں ایک سلطنت کے قیام کی تلاش میں اپنی پسندیدہ شخصیت سکندرِ اعظم کی پیروی کر رہے تھے۔
بوناپارٹ کے سکالرز کی کوششوں سے پہلی مرتبہ مصر سائنسی انداز میں دنیا کے سامنے آیا۔ اس حوالے سے سنہ 1822 میں ایک انسائیکلوپیڈیا 'دی ڈسکرپشن آف ایجپٹ' کا پہلا ایڈیشن جاری ہوا، اور اس کے علاوہ ویویئن ڈینون کی کتاب ’اے جرنی اِن لوور اینڈ اپر ایجپٹ ڈیورنگ دی کیمپینز آف جنرل بوناپارٹ‘ بھی شائع ہوئی۔
اس کے علاوہ روزیٹا سٹون بھی اسی دور میں دریافت ہوا۔
بوشاغ کو کونٹے کی زیرِ سربراہی کمیٹی کے رکن کے طور پر چنا گیا تھا اور چند ماہ بعد جب اُنھیں روزیٹا (عربی میں رشید) بھیجا گیا تو یہیں سے ان کا تاریخ کے ساتھ رومان شروع ہوا۔
ریت میں دبا ہوا پتھر
جون 1799 میں بوشاغ کو رشید شہر میں کور آف انجینیئرز میں تعینات کر دیا گیا۔ یہاں وہ جنرل مینو کی کمان میں تھے جو اسلام قبول کر کے زبیدہ نامی ایک خاتون سے شادی کر چکے تھے جو شہر کے شرفا سے تعلق رکھتی تھیں۔
اب ان کا نام عبداللہ ڈی مینو تھا۔ ان جرنیل نے شہر کی دولت کو عوام میں اپنی مقبولیت اور فوج میں اپنی جگہ مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا۔
19 جولائی 1799 کو بوشاغ کو رشید میں دریائے نیل کے مغربی کنارے پر دفاعی حصار بندی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اُنھوں نے اپنے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ 15ویں صدی کے قدیم مصری قلعے قایتبائی کی بنیادوں کی باقیات ہٹا دیں۔ یہاں ان کے مزدوروں نے سیاہ رنگ کی ایک میٹر لمبی، 73 سینٹی میٹر چوڑی اور 27 سینٹی میٹر موٹی ایک پتھر کی سل دریافت کی۔
ایک دوسرے سے بالکل مختلف تین لکھائیوں والی اس سل نے فوراً ہی بوشاغ کی توجہ حاصل کر لی۔ شاید اسے کسی قدیم مصری یادگار سے چرا کر تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے اسے انتہائی احتیاط سے نکالنے کا حکم دیا۔
بوشاغ کے ایک سینیئر لونکر نے فوراً ہی قاہرہ میں سائنٹیفک اکیڈمی کو لکھ کر اُنھیں اس ’قیمتی‘ دریافت سے آگاہ کیا۔ بوشاغ کو یقین تھا کہ وہ ایک ’انمول خزانہ‘ پا چکے ہیں۔
یوسف کہتے ہیں کہ ’جنرل مینو اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے اور جب بوشاغ ان کی شادی کی شام ان کے پاس وہ پتھر لے کر آئے جو ان کے مزدوروں نے قلعے سے دریافت کیا تھا تو وہ بہت حیران ہوئے۔‘
مینو نے تین اہم فیصلے لیے: پتھر کو قاہرہ میں مصری سائنٹیفک اکیڈمی منتقل کرنا، بوشاغ کو اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اس پتھر کی حفاظت کے لیے ساتھ بھیجنا، اور بوشاغ، لونکر اور دیگر سے کہا کہ وہ پتھر پر موجود نقوش کا ایک ’عکس‘ تیار کریں۔
اپنی تحقیق ’شیمپولیون، اے لائف آف لائٹ‘ میں فرانسیسی مؤرخ ژاں لیکوچر کہتے ہیں کہ 19 جولائی 1799 کو ’شہری مشیل آنگ لونکر نے مصری سائنٹیفک اکیڈمی، رشید میں ان تحریروں کی دریافت کا اعلان کیا جو انتہائی اہم ہو سکتی ہیں۔‘
لیکوچر کہتے ہیں کہ: ’اس اعلان کے بعد دو ماہ سے بھی کم عرصے میں کوریئر ڈی ایجپٹ نامی اخبار نے اپنے 37 ویں شمارے میں 19 اگست کا ایک ٹیلیگرام شائع کیا جس نے ہیروگلیفس میں دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کے دلوں میں امید کی کرن پیدا کی، ان میں ممکنہ طور پر شیمپولیون کے بڑے بھائی بھی تھے۔‘
اس ٹیلیگرام کا متن تھا کہ ’نیل کے مغربی کنارے پر قدیم قلعہ رشید کی مضبوطی کا کام کرنے کے دوران حیرت انگیز سیاہ گرینائٹ کا ایک پتھر ملا۔۔۔ 36 انچ اونچا، 28 انچ چوڑا، اور نو سے 10 انچ موٹا۔ صرف ایک طرف، اچھی طرح پالش ہے اور اس کے تین متوازی لائنوں کے تین سیٹوں میں کھدی ہوئی تین مختلف عبارتیں ہیں۔
یوسف کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فرانسیسی جانتے تھے کہ یہ پتھر 'قدیم مصری تحریر کا مطالعہ کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے، اور شاید اس سے اس پر کندہ پہیلی کی کلید تلاش کرنے کا موقع ملے۔'
انگریزوں کو بھی اس دریافت کی اہمیت کا پورا علم تھا۔
بوشاغ، پیرس پریس کا ستارہ
لی ریڈکٹر پہلا اخبار تھا جس نے اپنے 24 ستمبر سنہ 1799 کے شمارے میں پتھر کے دریافت کرنے والے کے طور پر بوشاغ کے بارے میں بات کی تھی۔ اور اگرچہ اس نے اس بابت جنرل مینو اور دیگر کا بھی ذکر کیا تھا لیکن اس نےلکھا کہ یہ دریافت 'ایک ہیرو، لیفٹیننٹ بوشاغ کی ذہانت کا نتیجہ ہے'۔
17 جنوری سنہ 1800 کو پیرس کے روزنامہ 'لی جرنل ڈی پیرس' نے روزیٹا سٹون پر ایک رپورٹ پیش کی جس سے اس دریافت کے متعلق 'عوامی رائے عامہ میں زبردست تجسس پیدا ہوا، اور بوشاغ کی دریافت کی تفصیلات کو بیان کیا گیا۔'
اگر چہ جب بوشاغ پیرس میں شہرت حاصل کر رہے تھے وہ اس دوران شمال مشرقی مصر کے ایک قلعے میں سلطنت عثمانیہ کے محاصرے میں تھے، جو فرانسیسیوں سے ملک کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بوشاغ کو پکڑ لیا گیا اور عثمانیوں نے انھیں 40 دنوں کے لیے وہان قید میں رکھا جسے آج ملک شام کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یوسف اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ 'اس تاریک جیل میں ان کے دماغ میں کیا کیا چيزیں گزر رہی ہوں گی؟ کیا انھیں معلوم تھا کہ جب وہ دسمبر کی سردیوں میں دمشق کی عثمانی جیلوں میں سخت سردی میں ٹھٹھر رہے تھے سارا پیرس ان کے بارے میں بات کر رہا تھا؟ کیا انھیں احساس تھا کہ سائنسی اداروں میں، ہر کوئی ان کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا؟'
بہر حال بوشاغ کو رہائی ملتی ہے اور انھیں ترقی دے کر کپتان کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے۔ رشید بھیجنے سے پہلے کونٹی اور مینو ان کا استقبال کرتے ہیں۔ لیکن رشید جہاں وہ سل دریافت ہوئی تھی وہاں پہنچنے سے قبل وہ ایک بار پھر اسیر ہو جاتے ہیں۔ اور اس بار انگریزوں کے ہاتھوں۔ وہ اس وقت اسیر ہوتے ہیں جب فرانسیسی گیریسن نے 9 اپریل سنہ 1801 کو ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس کے بعد وہ فرانس واپس کر دیے جاتے ہیں اور پھر وہ اسی سال 30 جولائی کو مارسیل پہنچتے ہیں۔
فوج کا ہتھیار ڈالنا اور اس پتھر کا نقصان
یہ شاید اس دریافت کی پیرس میں دھوم تھی جس کی وجہ سے فرانسیسیوں کو اسے کھونا پڑا۔
یوسف کہتے ہیں: 'یہ واضح تھا کہ پتھر کو مصری سائنسی اکیڈمی میں بھیجنا، اور اس کی سائنسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا میں جو ہنگامہ برپا ہوا، وہ فرانسیسی پتھر کے کھو جانے کی بڑی وجوہات میں سے ایک تھی، کیونکہ انگریزوں نے اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور فرانسیسی فوج کو فرانس واپس جانے کی اجازت اسی پتھر کی شرط پر دی گئی تھی۔'
چیمپلین کی تصنیف 'مصر کے سفر کے خطوط اور ڈائری' کے تعارف میں فرانسیسی مؤرخ رچرڈ لیبیو کہتے ہیں کہ سنہ 1801 میں ہتھیار ڈالنے کے بعد فرانسیسی سائنسدانوں نے انگریزوں کو اپنی محنت کا پھل دینے سے انکار کر دیا، اور یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ وہ ہر چیز کو تباہ کر دیں گے۔
لیبیو نے ماہر فطرت جیوفرائے سینٹ ہیلیئر کا حوالہ دیا جن کا کہنا تھا کہ 'اگر یہ ہم فرانسیسیوں کے لیے نہیں تو پھر اس پتھر کو سمجھنا کسی کے لیے بھی مشکل ہوگا۔ اس ناانصافی کو نہ ہونے دینے کے لیے ہم اپنے تمام دستاویزات کو تباہ کر دیں گے، انھیں لیبیا کے صحرا کی ریت میں چھوڑ دیں گے اور گہرے سمندروں میں پھینک دیں گے۔'
اس میں مزید کہا گیا ہے: 'آپ چاہتے ہیں کہ ہم ان تمام خزانے کو آپ کے حوالے کردیں، اس سے بہتر ہوگا کہ ہم جلا دیں گے۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ آپ کو اس گھناؤنے جرم کے لیے نہ کبھی بھولے گی اور نہ ہی آپ کو معاف کرے گی۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جیسا کہ اسکندریہ کو لائبریری کو جلانا ہے۔'
لیکن انگریزوں نے فرانسیسیوں کے قبضے میں موجود روزیٹا سٹون اور تمام مصری نوادرات کو انھیں دیے جانے پر اصرار کرتے رہے، جیسا کہ 30 اگست سنہ 1801 کو اسکندریہ کے معاہدے میں مذکور ہے۔
مصری سائنسی اسمبلی کی مزاحمت کے باوجود وہ پتھر کو واپس برٹش میوزیم لے گئے، جہاں یہ اب تک موجود ہے۔
فرانسیسی محققین جو لندن کا سفر نہیں کر سکتے تھے انھیں پتھر کی کاپیوں پر اکتفا کرنے پر مجبور کیا گیا۔
اکتوبر سنہ 1801 کے آخر میں مصری سائنسی اکیڈمی کی طرف سے تیار کردہ ایک کاپی فرانس پہنچی جسے چیمپلین نے بعد میں ہائروگلیفک تحریر (قدیم مصری تحریر) کے اسرار کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا، اور ایک دیرپا شہرت حاصل کی جس کا باؤچرڈ کو کبھی گمان بھی نہ ہوا ہوگا۔
جب چیمپیلین نے 27 ستمبر 1822 کو 'مسٹر دیسیئر کے نام خط' میں دنیا کے سامنے اپنا عظیم الشان اعلان کیا تھا تو اس وقت تک انھوں نے اصل پتھر روزیٹا سٹون کو دیکھا تک نہیں تھا۔
شاید یہ کوئی رحمت تھی کہ خاص فوجی افسر اس کے بارے میں سننے کے لیے آس پاس نہیں تھا۔
یوسف لکھتے ہیں کہ 'بوشاغ نپولین کی دوسری جنگوں میں ہتھیار اٹھاتے رہے لیکن انھیں کبھی فراخدلی سے انعام نہیں ملا۔ یہاں تک کہ 5 اگست 1822 کو آرڈینیز کے جیوی میں فوجی خدمات انجام دیتے ہوئے غربت میں اس کی موت ہو گئی۔'