کیا خوراک کی ترجیحات پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں؟

Imagen 4D de lo que parece ser un feto sonriendo.

،تصویر کا ذریعہFetal and Neonatal Research Lab, Durham University

    • مصنف, ایمن حواجہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

اگر آپ کو گوبھی کا ذائقہ پسند نہیں، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ رحم میں موجود بچے ماؤں کے گاجر کھانے کے بعد مسکراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اگر ماؤں نے گوبھی کھا لی تو وہ تیوریاں چڑھاتے نظر آئے۔

برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی میں فیٹل اور نیو نیٹل ریسرچ لیبارٹری کا کہنا ہے کہ یہ پہلا براہ راست ثبوت ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ رحم میں بچہ مختلف ذائقوں کا جواب دیتا ہے۔

محققین نے انگلینڈ میں تقریباً 100 حاملہ خواتین اور ان کے پیدا ہونے والے بچوں پر تحقیق کی۔ انھوں نے 35 خواتین کو گاجر کے پاؤڈر والے کیپسول اور 34 دیگر حاملہ خواتین کو گوبھی کا پاؤڈر دیا۔

بقیہ 30 خواتین ایک کنٹرول گروپ کا حصہ تھیں اور انھوں نے پاؤڈر والا کوئی کیپسول استعمال نہیں کیا۔

سائیکولوجیکل سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں گروپ نے بتایا کہ ماؤں کے گوبھی والے کیپسول نگلنے کے 20 منٹ بعد، فور ڈی الٹراساؤنڈ سکین سے پتہ چلتا ہے کہ گوبھی کھانے کے بعد زیادہ تر بچوں کے چہرے بگڑنے شروع ہو گئے۔

اس دوران گاجر کے کیپسول کھانے والی ماؤں کے بچے مسکراتے دکھائی دیے۔

30 حاملہ خواتین کا کنٹرول گروپ جنھوں نے کچھ نہیں کھایا ان کے بچوں نے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

Esta imagen del estudio FETAP (Preferencias de sabor fetal) muestra un feto haciendo muecas a la derecha, como reacción al sabor de la col rizada.

،تصویر کا ذریعہFetal and Neonatal Research Lab, Durham University

گذشتہ تحقیق میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ ہماری خوراک کی ترجیحات پیدائش سے پہلے شروع ہو سکتی ہیں، کیونکہ رحم میں بچے کو گھیرنے والے امینیٹک سیال کا ذائقہ حاملہ عورت کی خوراک کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔

لیکن ڈرہم یونیورسٹی کی اس نئے تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رحم میں موجود بچوں کے مختلف ذائقوں کے بارے میں ردعمل کو براہ راست دیکھا گیا ہے۔

رحم میں بچے کو ذائقہ کب محسوس ہونا شروع ہوتا ہے؟

اس تحقیق کی شریک مصنف اور ڈرہم یونیورسٹی میں فیٹل اور نیو نیٹل ریسرچ لیبارٹری کی ڈائریکٹر نادجا ریس کہتی ہیں ’ہم گذشہ تحقیق سے یہ جانتے ہیں کہ رحم میں موجود بچے کو ماں کی خوراک سے حاصل ہونے والی غذائیت بعد میں صحت مند نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ آپ ذائقوں کو کب محسوس کرنا شروع کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رحم میں بچے حمل کے 14ویں ہفتے میں میٹھے کے لیے اپنی پسند ظاہر کرتے ہیں۔‘

Un feto en el útero

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نادجا کہتی ہیں ’ہماری تحقیق کے لیے، ہم نے 32 سے 36 ہفتوں کی حاملہ ماؤں کو پاؤڈر والے کیپسول دیے (حمل عام طور پر کل 40 ہفتے تک رہتا ہے)، کیونکہ ان کے تاثرات تیزی سے پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔‘

’ہم اپنی تحقیق کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور پیدائش کے بعد ان بچوں کے ڈیٹا کو ریکارڈ کرتے رہنا چاہتے ہیں، اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ گاجر اور کیلے پر اس طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ انھوں نے رحم میں کیا تھا۔‘

’ہمیں امید ہے کہ وہ پیدائش کے بعد ہری سبزیوں کے عادی ہو جائیں گے اور اس صحت مند خوراک کے لیے ہری سبزیاں کھانے پر آمادہ ہوں گے۔‘

نادجا کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بچے میں ذائقے کی حس بہت جلد بن جاتی ہے اور اس کا انحصار ماؤں کے کھانے پر بھی ہوتا ہے۔

’حمل میں ماں جو خوراک کھائے گی، پیدائش کے بعد بچہ اس خوراک کا عادی ہو جائے گا اور وہی خوراک کھاتا رہے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ہم کڑوے ذائقے کو خطرے سے جوڑتے ہیں‘

یہ ایک اور وجہ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جس کے باعث رحم میں بچے تلخ ذائقے کو مسترد کر سکتے ہیں۔

نادجا کہتی ہیں کہ ’ہم کڑوے ذائقے کو خطرے سے جوڑتے ہیں اور اسی کے مطابق ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔‘

’لیکن چونکہ تمام کڑوے ذائقے زہر کی نشاندہی نہیں کرتے، اس لیے ہمیں خود کو اور اپنے بچوں کو اس ردعمل پر قابو پانے کے لیے تعلیم دینا ہوگی۔ کچھ کڑوے کھانے ہمارے لیے صحت مند اور اچھے ہوتے ہیں۔‘

تاہم، وہ مزید کہتی ہیں کہ اگرچہ الٹراساؤنڈ کی تصاویر بالغوں کی طرح کڑوی چیز چکھنے جیسا ردعمل ظاہر کرتی ہیں، لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ رحم میں بچے صرف ذائقے کے لیے ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہیں یا دراصل جذبات بھی محسوس کرتے ہیں۔

ریس لینڈ کا کہنا ہے کہ الٹراساؤنڈ پر نظر آنے والی مسکراہٹیں ’محض پٹھوں کی حرکت بھی ہو سکتی ہیں جو کھٹے ذائقے پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔‘

Zanahorias y kale

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسرے سائنسدانوں کا کیا خیال ہے؟

ڈاکٹر ڈینیئل رابنسن، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فین برگ سکول آف میڈیسن میں نیونٹولوجی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے این بی سی کو بتایا کہ الٹرا ساؤنڈ کی تصاویر کی تشریح اس طرح نہیں کی جانی چاہیے کہ رحم میں بچہ خوشی یا نفرت کا اظہار کر رہا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے فلاڈیلفیا میں واقع مونیل کیمیکل سینس سینٹر کی اس شعبے کی ایک ماہر ڈاکٹر جولی مینیلا کا حوالہ دیا، جو اس تحقیق میں بھی شامل نہیں تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کام پچھلے نتائج کی تائید کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے امینیٹک سیال میں موجود کھانے کے ذائقے کے ذریعے اپنی ماؤں کی خوراک کے بارے میں جان جاتے ہیں۔

اخبار نے ورجینیا کے کالج آف ولیم اینڈ میری کی پروفیسر کیتھرین فارسٹل کا بھی حوالہ دیا، جنھوں نے اس حوالے سے مزید تحقیق کا خیرمقدم کیا۔

وہ لوگ جنھیں بہت مشکل سے کسی چیز کا ذائقہ پسند آتا ہے

تحقیق کی قیادت کرنے والی بیزا استن کا کہنا ہے کہ ’متعدد تحقیقات سے ہمیں معلوم ہے کہ بچے رحم میں چکھ اور سونگھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ تحقیقات پیدائش کے بعد والے ردِعمل پر مبنی ہیں، جب کہ ہماری تحقیق پیدائش سے پہلے ان ردعمل کو دیکھنے والی پہلی تحقیق ہے۔‘

’ہمارا ماننا ہے کہ پیدائش سے پہلے ذائقوں کا یہ بار بار اظہار پیدائش کے بعد کھانے کی ترجیحات قائم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، جو صحت مند کھانے اور بعد میں بننے والی مشکل سے کھانا پسند آنے جیسی عادات سے بچنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔‘

یہ تحقیق ان نئے والدین کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے صحت مند خوراک کو دیکھ کر ناک بھوں نہ چڑھائیں۔