آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افریقہ کے قدیم ترین ڈائنوسار کی دریافت جو ابتدائی جانوروں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے
- مصنف, شنگائی نیوکا اور اولیور سلو
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ہرارے اور لندن سے
سائنس دانوں نے زمبابوے میں افریقہ کے قدیم ترین ڈائنوسار کا کھوج لگایا ہے جو 23 کروڑ سال قبل رہتا تھا۔
ایک میٹر لمبا مبیری سارس راتھی نامی یہ ڈائنوسار دو ٹانگوں پر دوڑتا تھا اور اس کی گردن لمبی ہوا کرتی تھی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ساروپوڈومورف نسل سے تعلق رکھتا تھا جو چار ٹانگوں پر چلنے والے جانور تھے۔
اس کا ڈھانچہ 2017 اور 2019 کے دوران زمبیزی وادی سے دریافت کیا گیا۔
ڈارلنگٹن مونیکیوا زمبابوے کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے نیشنل میوزیمز ہیں جو اس مہم کا بھی حصہ تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہم ابتدائی ڈائنوسار کی بات کرتے ہیں تو ٹریاسک دور کے فوسل بہت ہی نایاب ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے فوسل، جو 200 ملین سال پہلے ختم ہو چکا ہے، اب تک جنوبی افریقہ، انڈیا اور زمبابوے سے ملے ہیں۔
ان کے مطابق اس نئی دریافت سے ابتدائی دور کے ڈائنوسار کے ارتقا اور ایک علاقے سے دوسرے تک نقل مکانی کے عمل کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ واضح رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب زمین سات براعظموں میں تقسیم نہیں تھا بلکہ خشکی کا ایک ہی بڑا سا ٹکڑا ہوا کرتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زمبابوے کو اسی علاقے میں فوسل کی موجودگی کے بارے میں دہائیوں سے علم تھا اور ڈارلنگٹن مونیکیوا کہتے ہیں کہ ’اگر ان کو مزید فنڈنگ ملی تو دیگر مقامات پر بھی تلاش کی جائے گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرسٹوفر گرفن نے کہا کہ ’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آغاز میں ڈائنوسار پوری دنیا میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ اور ان کے زمانے میں دیگر جانور جنوب کے ایک مخصوص ماحول تک محدود تھے جو آج جنوبی افریقہ، انڈیا اور لاطینی امریکہ کا علاقہ بنتا ہے۔‘
کرسٹوفر نے کہا کہ ’یقینی طور پر یہ افریقہ میں دریافت ہونے والا سب سے قدیم ڈائنوسار ہے۔‘
کیپ ٹاون یونیورسٹی میں ماہر حیاتیات انوسویا چنسامی تورن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیوں کہ یہ اس نسل سے جڑی ہے جس نے ساروپوڈ ڈائنوسار کو جنم دیا تھا جن میں ڈپلوڈوکس اور برونٹو سارس شامل تھے۔‘
’یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب ڈائنوسار ارتقا کے عمل سے گزر رہے تھے، وہ مختلف براعظموں پر موجود تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ خشک علاقے کی بجائے گرم مرطوب ماحول کو ترجیح دیتے تھے۔‘
’ہمیں امید ہے کہ اس علاقے سے مزید دریافت بھی ہو گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں گیس کی دریافت کے لیے بھی کوششیں ہو چکی ہیں۔ ’امید ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کے دوران اگر کوئی فوسل ملتا ہے تو اسے میوزیمز کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ ہم ان کو کھو نہ دیں۔‘
مبیری سارس راتھی کا تقریبا مکمل ڈھانچہ اس وقت زمبابوے کے جنوبی شہر بولاوائیو کے میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹراسک زمانے کی کارنیئن سٹیج کے وقت سے تعلق رکھتا ہے جب زمبابوے سپر براعظم پینجیا کا حصہ تھا۔
ڈایناسور کے بارے میں خیال کیا جاتاہے کہ وہ اونچے عرض البلد کے ساتھ مطابقت رکھتے تھے جہاں آج کا زمبابوے واقع ہے، جو مرطوب بھی تھا اور سرسبز بھی۔