آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ریکس جیسے خونخوار ڈائنوسار کے بازو اتنے چھوٹے کیوں تھے؟
ڈائنوسارز پر بنی اکثر فلموں میں ٹی ریکس نامی خونخوار جانور دہشت پھیلاتا دکھائی دیتا ہے لیکن حیران کن طور پر اس کے بازو بہت ہی چھوٹے نظر آتے ہیں۔
ارجنٹائین میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم کے مطابق انھوں نے ایک نئی قسم کے جانور کی دریافت کی ہے جس کا سر تو بہت بڑا ہے لیکن حجم کے حساب سے بازو بہت ہی چھوٹے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اس دریافت میں اس سوال کا جواب بھی چھپا ہے کہ ٹی ریکس کے بازو کیوں چھوٹے تھے۔
کرنٹ بائیولوجی جرنل میں ان سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ شمالی پیٹا گونیا کے علاقے میں اب تک نامعلوم قسم کے کثیر ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے
میراکسس گیگاس نامی یہ جانور سار 36 فٹ لمبا ہے جس کا سر تو چار فٹ کا ہے لیکن اس کے بازو صرف دو فٹ لمبے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس گوشت خور جانور کے چھوٹے بازو زندہ رہنے کے لیے فائدہ مند تھے۔
اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے جوان کنیلے کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ غیر معمولی حد تک چھوٹے بازو کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے۔
ڈھانچے کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پٹھے نہایت مضبوط تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ بازو کی مدد سے یہ سیکس کے دوران مادہ کو پکڑتے ہوں یا پھر گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے میں ان کو مدد ملتی ہو۔
ان کے ساتھی محقق پیٹر میکووکی کہتے ہیں کہ دریافت ہونے والے جانور کے بازو اس کے سر سے بھی آدھے تھے اور ان سے تو یہ اپنے منہ تک بھی نہیں پہنچ پاتا ہو گا۔
پیٹر کے مطابق ان کا بھاری بھرکم سر ہی دراصل ان کے شکار کا ہتھیار تھا جو کام سر کرتا تھا وہ چھوٹی قسم کے جانوروں میں بازو سر انجام دیتے ہیں۔
میراکسس گیگاس کا نام گیم آف تھرونز کے ایک افسانوی کردار پر رکھا گیا ہے جن کا تعلق شارک جیسے دانتوں والی چھپلیوں کی قسم سے ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ چار ٹن وزنی جانور 90 سے 100ملین سال قبل دنیا میں موجود تھے۔
اس دریافت کے بعد سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ دو اور اقسام جن میں ٹائیرینوسورڈز اور ابیلیسورڈز کے بازو بھی اس سے ملتی جلتی وجوہات کی بنا پر ہی چھوٹے تھے۔