کافی اور ریڈ وائن سے متعلق وہ خیالی باتیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ سچ ہیں

ہم پر اکثر خوراک اور اس طرح کے مادوں کے بارے میں معلومات کی بھرمار کی جاتی ہے جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ان کے صحت پر ’حفاظتی‘ اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی ’غذائی خوبیاں‘ بھی ہیں۔

لیکن ہم بہت سے کھانوں کے بارے میں جو غذائی مشورے اور آراء سنتے ہیں وہ ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

انسانی صحت پر اپنے اثرات کے حوالے سے جن دو کھانے کی چیزوں پر سب سے زیادہ مطالعہ کیا گیا ہے وہ کافی اور ریڈ وائن ہیں۔

اور ان کے بارے میں ہمیں متضاد رائے دی جاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ان کے ہمارے جسم پر ’نقصان دہ‘ اثرات ہوتے ہیں اور کبھی انھیں فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے۔

ان کے بارے میں تازہ ترین سائنسی مطالعات کیا کہتے ہیں؟ ہم نے دو سائنسدانوں سے بات کی جو کافی اور ریڈ وائن کے انسانی صحت پر اثرات پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔

کافی اور موت کی شرح

یہ کہ ہمارے روزمرہ کے معمولات کا حصہ صبح کا کافی کا ایک کپ ہماری زندگی بڑھا رہا ہے۔

جولائی میں دی اینلز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ایسا ہی کچھ کہا گیا ہے۔ اس میں 10 سال تک تقریباً دو لاکھ لوگوں پر تحقیق کی گئی ہے۔

محققین نے دیکھا کہ جو لوگ ایک دن میں ڈیڑھ کپ سے ساڑھے تین کپ تک کافی پیتے تھے، چاہے اس میں ایک چائے کا چمچ چینی بھی ملائی گئی ہو، ان کے تحقیق کے دوران کی دہائی کے دوران کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں مرنے کے امکانات 30 فیصد تک کم نظر آئے۔

جو لوگ بغیر چینی کے کافی پیتے تھے ان میں موت کا خطرہ 16 سے 21 فیصد تک کم تھا۔ اور جن لوگوں کو مطالعے کے دوران موت کا سب سے کم خطرہ تھا وہ وہ لوگ تھے جو دن میں تین کپ تک کافی پیتے تھے۔

کافی پینے والوں میں موت کے خطرے کے کم ہونے کے متعلق یہ پہلا مطالعہ نہیں ہے۔ سنہ 2018 میں، ایک اور تحقیق جس میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کا ڈیٹا 10 سال تک اکٹھا کیا گیا، اس میں بھی پری میچیور یا قبل از وقت موت کے خطرے میں 16 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔

اور کئی مطالعات میں یہ کمی ڈی کیف کافی پینے والوں میں بھی نظر آئی، جس کا مطلب یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کافی میں موجود ہزاروں مرکبات میں سے کچھ سے فائدہ ہوتا ہے۔

تاہم، بہت سے لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کافی نقصان دہ ہے اور ہمیں اس مادے کے استعمال کو محدود کرنا چاہیئے۔ کیا ہم کافی کے بارے میں غلط ہیں؟

اٹونومس یونیورسٹی آف میڈرڈ میں انسدادی ادویات اور صحت عامہ کی پروفیسر ڈاکٹر ایستھر لوپیز گارشیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کچھ عرصے سے، کافی کے صحت پر اثرات کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یکسر بدل گیا ہے۔‘

لوپیز بتاتی ہیں کہ سنہ 2003 سے بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جانے لگا، جس میں کافی کے استعمال کو سالوں تک باقاعدگی سے جانچا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ یہ قبل از وقت موت، قلبی بیماری یا ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

صحت کو متاثر کرنے والے عوامل کے ساتھ مناسب طریقے سے ایڈجسٹ کرنے سے، جیسے تمباکو اور شراب کا استعمال، کافی کے باقاعدگی سے استعمال کے کوئی نقصان دہ اثرات نہیں نظر آئے۔ یہاں تک کہ اسے ٹائپ 2 ذیابیطس اور سٹروک کو ہونے سے روکنے میں بھی مددگار پایا گیا۔

لوپیز کہتی ہیں کہ ’یہ بھی دیکھا گیا کہ کیفین کے مضر اثرات اسے باقاعدہ طور پر استعمال کرنے والوں میں برقرار نہیں رہتے، اور وہ اس مادے کے لیے برداشت پیدا کر لیتے ہیں اور ان کی صحت پر کافی کے دیگر اجزاء کے فائدہ مند اثرات زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔‘

کافی پر کی جانے والی متعدد تحقیقات میں اس طرح کے شواہد سامنے آئے ہیں کہ پارکنسنز کے مرض کے خلاف اس کے ممکنہ حفاظتی اثرات ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عام طور پر ادراکی بگاڑ (کوگنیٹیو ڈیٹیریوریشن)، قلبی امراض، کینسر، ٹائپ 2 ذیابیطس اور ذیابیطس کی کچھ اقسام سے بچاتی ہے۔

لیکن پروفیسر لوپیز گارشیا اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ’سب سے زیادہ ٹھوس ثبوت ٹائپ 2 ذیابیطس کا ہے۔ باقی بیماریوں کے لیے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔‘

’یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ دل کی بیماری کے لیے نقصان دہ نہیں ہے اور یہ چھاتی کے کینسر کے لیے بھی نقصان دہ نہیں ہے۔ اور خیال ہے کہ کیفین نیورو ڈیجنریٹیو بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے، لیکن نتائج ابھی تک واضح نہیں ہیں۔‘

کافی میں ایک ہزار سے زیادہ کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں، اور ان میں سے کئی پر بڑے پیمانے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مثال کے طور پر اس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی ایک بہت بڑی مقدار ہوتی ہے، جو دیگر تحقیقات کے مطابق خلیے کو تباہ ہونے سے روک سکتا ہے یا اس میں تاخیر پیدا کر سکتا ہے۔

پروفیسر گارشیا بتاتی ہیں کہ کافی کے فائدہ مند اثرات بنیادی طور پر ان میں سے ایک اینٹی آکسیڈنٹ کی وجہ سے ہیں، جو کلوروجینک ایسڈ۔

ان کے مطابق اس اینٹی آکسیڈینٹ کے گلوکوز میٹابولزم پر بہت سے فائدہ مند اثرات ہوتے ہیں۔ اس میں دیگر مادے بھی شامل ہوتے ہیں، جیسے میگنیشیم، جو کہ ایسی معدنیات ہے جس کے صحت پر متعدد اچھے اثرات ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

شاید ماضی میں کافی کا ’برا تصور‘ اس لیے بھی رہا ہے کہ کچھ لوگوں میں کیفین پریشانی یا بے خوابی کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی لیے پروفیسر گارشیا کہتی ہیں کہ صحت مند افراد میں عام طور پر 3 سے 5 کپ کافی کا روزانہ استعمال ’فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے‘۔

’آج کل چینی کے بغیر کافی بہت سی فوڈ گائیڈز میں ایک صحت بخش مشروب کے طور پر تجویز کی جاتی ہے۔‘

لیکن اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’صحت کے مسائل سے دوچار تمام لوگوں کو جن کی حالت کافی کے استعمال سے خراب ہو سکتی اس مشروب کے استعمال کے بارے میں انفرادی طور پر مشورہ لینا چاہیئے۔‘

وائن اور اس کے ’حفاظتی اثرات‘

ریڈ وائن کو اکثر الکوحل کے ’صحت مند چہرے‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

پچھلی چند دہائیوں میں کئی مطالعات نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ’کبھی کبھار‘ شراب کا گلاس قلبی صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر جریدے مالیکیولز میں 2019 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ریڈ وائن میں موجود پولی فینول مرکبات کی وسیع اقسام کی وجہ سے دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

لیکن اس سال جنوری میں ورلڈ ہارٹ فیڈریشن (WHF) نے ایک تحقیقی جائزہ شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ الکوحل یقینی طور پر قلبی صحت کے لیے اچھی نہیں ہے۔

ڈبلیو ایچ ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں دل کی بیماری (CVD) تقریباً دوگنا پھیل گئی ہے اور الکوحل نے ان میں سے بہت سے واقعات میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔‘

مزید پڑھیئے

ڈبلیو ایچ ایف کے مطابق ’30 سال سے زیادہ عرصے سے اس افسانوی بات کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ الکوحل بنیادی طور پر کورونری ہارٹ ڈیزیز کے خطرے کو کم کر کے زندگی کو طویل کرتی ہے۔

لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الکوحل کے استعمال سے سی وی ڈی اور دیگر بیماریوں میں خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تو کیا ریڈ وائن اچھی ہے یا بری؟ ہم نے یہ سوال سلامانکا بائیومیڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق اور یونیورسٹی آف سلامانکا کے پروفیسر ڈاکٹر میگوئل مارکوس مارٹن سے پوچھا۔ وہ صحت پر الکوحل کے اثرات سے متعلق متعدد مطالعات میں حصہ لے چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ ایسے مطالعات ہیں جو متنازعہ اور غیر نتیجہ خیز نتائج کے ساتھ الکوحل کے استعمال کو ممکنہ صحت کے فوائد سے جوڑتے ہیں، لیکن ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ بہت سی دوسری تحقیقات واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ بہت سے نقصان دہ اثرات کا حامل مادہ ہے، یہاں تک کہ کم مقدار میں بھی۔‘

انکے مطابق ’ان تمام وجوہات کی بناء پر، اس وقت کسی بھی مقدار میں الکوحل یا اس قسم کی مشروبات کی صحت کی وجوہات کی بناء پر سفارش نہیں کی جا سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر مارکوس مارٹن اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ پیغام کہ ریڈ وائن میں دل کے لیے ’حفاظتی اثرات‘ ہوتے ہیں، واضح طور پر سائنسی ثبوت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ ایسا حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا ہے۔

’دوسری طرف، اگر یہ سچ بھی ہے کہ وائن کچھ بیماریوں کے خلاف حفاظتی اثر رکھتی ہے، ہم اس سے پیدا ہونے والے مضر اثرات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ الکوحل والے مشروبات کے (استعمال سے ان پر) انحصار بڑھ جاتا ہے، اور یہ جگر کی بیماری اور لبلبے کی سوزش وغیرہ کا سبب بنتے ہیں۔‘