ایک اچھی برا کا راز کیا ہے اور یہ آپ کی صحت کے لیے اہم کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, الیشیا ہرنینڈیز
- عہدہ, بی بی سی نیوز ورلڈ
یہ روزمرہ کے استعمال کی چیز ہے، اسے کم عمری سے ہی اپنا لیا جاتا ہے اور اس کے باوجود ہم اسے بری طرح استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ آپ کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ہم خواتین کے زیر جامہ یا برا کے متعلق بات کر رہے ہیں۔
جوئنا واکفیلڈ سکر، ایک بائیو مکینسٹ (انسانی جسم کے پٹھوں اور ٹشوز کی ماہر) ہیں اور برطانیہ کی پورٹسمتھ یونیورسٹی میں بریسٹ ہیلتھ ریسرچ گروپ کی سربراہ ہیں۔
وہ بہت سی دیگر خواتین کی طرح خود بھی ڈاکٹر کے پاس گئی کیونکہ ان کی چھاتی میں بہت درد تھا۔ ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ ان کی چھاتی کے درد کا حل ان کا اپنے لیے ایک اچھی برا کی تلاش ہے۔
مگر یہ آسان نہیں تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ انھیں یہ علم ہوا کہ تقریباً دو دہائیوں قبل انھوں نے جسے (برا کو) استعمال کرنا شروع کیا تھا وہ ان کے لیے مناسب یا مددگار نہیں تھی۔
ایک خاتون اور ایک صارف کے طور پر انھیں یہ محسوس ہوا کہ یہ صورتحال مایوس کن ہے اور بطور ایک سائنسدان کے، انھوں نے محسوس کیا کہ خواتین کے زیر جامہ یا برا کے شعبے میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔
یہاں سے ان کی اس بارے میں پیشہ وارانہ تحقیق کا آغاز ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ گذشتہ 17 برسوں سے خواتین کی چھاتی کی بائیو مکینکس (پٹھوں اور ٹشوز کی ساخت) اس کی حرکت، اس کے خواتین پر نتائج اور بالآخر ایک ایسی پرفیکٹ یا بہترین برا کے انتخاب سے متعلق تحقیق کر رہی ہیں جسے خواتین قبول بھی کریں اور وہ انھیں تکلیف بھی نہ پہنچائے۔
اگرچہ ان کی تحقیق کا شعبہ خاص طور پر سپورٹس براز میں بہتری اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان براز کے اثرات پر مرکوز ہے، لیکن ان کی تحقیق اچھی برا پہننے کے فوائد اور اس کا انتخاب کیسے کیا جائے کا احاطہ بھی کرتی ہے۔

کیا چھاتی کو سہارا نہ دینے والی بری برا ہوتی ہے؟
جوئنا واکفیلڈ سکر کہتی ہیں کہ اس تحقیق کے دوران ہم نے یہ جانا کہ کسی بھی جسمانی سرگرمی(ورزش، دوڑ یا دیگر وغیرہ) کے دوران چھاتی کی حرکت کچھ خواتین کے لیے بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے اور جسمانی سرگرمیوں میں ان کی شرکت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ہم یہ جانتے ہیں کہ خواتین کی چھاتی میں اس طرح کی حرکت بریسٹ ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ آپ کی جلد آپ کے جسم کے بنیادی معاون ڈھانچے میں سے ایک ہے اور یہ حرکت اندرونی جلد کے ان ڈھانچوں اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار یہ کھچاؤ پیدا ہو جائے تو اس کے متعلق پھر ہم کچھ نہیں کر سکتے اور یہ کھچاؤ مستقل طور پر ہو سکتا ہے اور یہ چھاتی کو ڈھلکا یا دبا سکتا ہے یا اس جگہ کھچاؤ کے نشانات بن سکتے ہیں جہاں جلد اپنے قدرتی لچک سے زیادہ کھچ گئی ہو۔ یہ چھاتی کے لیے ایک ناقابل تلافی چوٹ ہے۔
خیال یہ ہے کہ ایسا ابتدائی طور پر نہیں ہوتا، لہذا چھاتی کی حرکت اور اس میں تبدیلی کے بارے میں تحقیق کرنا اہم ہے کہ جسمانی سرگرمی کے دوران خواتین کی چھاتی میں کیسی حرکت پیدا ہوتی ہے اور جس حرکت سے نقصان ہو اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے یا یہ جانا جائے کہ اس کو کم کیسے کیا جا سکتا ہے۔
جوئنا واکفیلڈ کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے کپڑے بنانے والے اور زیر جامہ ملبوسات بنانے والے برانڈز خواتین کے لیے بہتر مصنوعات بنانے کے لیے ہماری تحقیق کو آزما اور استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق سپورٹس براز پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
جوئنا واکفیلڈ سکر کا کہنا ہے کہ سپورٹس براز پر تحقیق کے لیے ہم کھیل اور ایکسرسائز سائنس کے شعبے کو دیکھتے ہیں۔ یہاں ہماری پہلا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کیا سپورٹس براز کا استعمال خواتین کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر کرتا ہے؟
ہمیں اس شعبے کے افراد سے یہ پتہ چلا کہ ایک اچھی سپورٹس برا کا استعمال نہ صرف خواتین کھلاڑیوں کی صحت اور آرام کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے ان کی کارکردگی میں بہتری بھی آتی ہے۔
'اگر کوئی بُری یا خراب برا ہو گی تو چھاتی مسلسل حرکت میں رہتی ہے اور یہ آپ کی جسمانی سرگرمی کے انداز کو بدل دیتی ہے۔ جب آپ ایک اچھی برا پہنتے ہیں تو آپ کی چھاتی کو سہارا ملتا ہے اور آپ کی جسمانی حرکت میں تبدیلی رونما ہوتی ہے مثال کے طور پر آپ اپنے کندھے زیادہ موڑ سکتے ہیں، آپ زیادہ قدم اٹھا سکتے ہیں، آپ زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہJOGBRA, INC. RECORDS, ARCHIVES CENTER, NATIONAL MU
اس تحقیق کو ڈیٹا سے کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
جوئنا واکفیلڈ سکر کہتی ہیں کہ ہم نے اپنی تحقیق میں یہ دیکھا ہے کہ جن خواتین کھلاڑیوں نے اپنے لیے ایک آرام دہ، اور اچھی سپورٹس برا کا انتخاب کیا تو ان کے قدم اٹھانے کے فاصلے میں تقریباً چار سینٹی میٹر اضافہ ہوا، بظاہر یہ زیادہ نہیں لگتا لیکن ایک میرتھون دوڑ کے دوران یہ مجموعی طور پر ایک میل فاصلے کے برابر بنتا ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ سپورٹس برا کے استعمال کا پہلی مرتبہ زیادہ سختی سے اطلاق ٹوکیو اولمپکس کے دوران کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ہم نے انفرادی حیثیت میں خواتین ایتھلیٹس کے تجربات سے سیکھا تھا لیکن اس مرتبہ پہلی مرتبہ یہ منصوبہ ایک بڑے پیمانے پر شروع کیا گیا تھا۔
جوئنا واکلفیلڈ کہتی ہیں لیکن ہم اس کے لیے تیار تھے، اس سے قبل ہم نے ایسی خواتین کے ساتھ کام کیا تھا جو کلینکس میں اپنی چھاتی میں تکلیف کے معائنے کے لیے آئیں تھیں۔
یورو 2022 کی فاتح انگلینڈ کی خواتین ٹیم کے معاملے میں، ہم نے چیمپئن شپ کے تیاریوں کے دوران ان کے ساتھ کام کیا۔
جوئنا کہتی ہیں کہ ہم نے اچھی برا کے متعلق انھیں آگاہی فراہم کی اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں اس میں جو پہلی مشکل آئی تھی وہ یہ تھی کہ وہ خواتین کھلاڑی یہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ انھیں ایک اچھی برا کی ضرورت کیوں ہے۔ یہ اسی طرح سے ان کی کھیل کی کٹ کا حصہ ہے جیسے ایک اچھے فٹبال جوتوں کا جوڑا یا دوڑ کے لیے جوتے ہیں۔
جوئنا کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیاں شاید اپنی چھاتیوں کے متعلق اور اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتی ہیں کہ یہ (ایک اچھی برا پہننا) کتنا اہم ہے۔ اور انھیں اس متعلق آگاہی دینا ہمارا کام ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک اچھی برا پہننے سے آپ کے جسم میں کیا بہتری آ سکتی ہے؟
ایک اچھی برا کا استعمال کرنے سے آپ کی روز مرہ کی زندگی اور کھیل میں بہت سے فائدہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ سپورٹس برا سے متعلق تو ہم ان کی فروخت میں واضح اضافہ دیکھ رہے ہیں۔
یہ خواتین کو ایک بہترین سپورٹ فراہم کر کے، چھاتیوں کی حرکت کو کم کرتے ہوئے اس کی تکلیف کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
جوئنا کہتی ہیں کہ 'یہاں جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ بریسٹ ٹشو کو نقصان ہوتا ہے، ایک اچھی سپورٹس برا پہننے سے ہم اس ممکنہ نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔'
اس کے علاوہ انھوں نے اچھی برا کے استعمال کے فوائد بتاتے ہوئے خواتین کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بہتری کا حوالہ دیا۔
روز مرہ پہنی جانی والی عام براز کا کیا؟
یہ دلچسپ ہے کیونکہ روز مرہ پہنی جانی والی عام برا میں چھاتیوں کے لیے دو کپ ہوتے ہیں، جو انھیں ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے سپورٹ دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
جبکہ سپورٹس براز میں عمومی طور پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے جو بریسٹ کو سینے کے ساتھ لگانے کے لیے مدد گار ہوتا ہے۔
جوئنا کہتی ہیں کہ میں اکثر خواتین کی اس سپورٹس برا کا انتخاب یا تلاش کرنے کی تجویز دیتی ہوں جس میں روز مرہ پہنی جانے والی برا جیسے دو کپس ہوں، جو بریسٹ کو علحیدہ کریں کیونکہ بریسٹ ٹشوز پر دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔
چھاتی کی حرکت کو روکنے کا سب سے موثر طریقے اسے دبانا نہیں بلکہ کپس کو علیحدہ کرنا ہے۔
کسی دکان پر برا کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

جوئنا واکفیلڈ کہتی ہیں کہ اگر میں کسی دکان پر روزمرہ پہننے والی عام برا خریدے جاؤں تو میں ایسی برا کا انتخاب کروں گی جو میری چھاتیوں کو سپورٹ دے، ان کی حرکت کو روکے اور انھیں اپنی جگہ پر رکھے اور برا پوری چھاتی کو ڈھانپ لے۔
وہ کہتی ہے کہ اچھی برا کے انتخاب کی اہم کنجی یہ ہے کہ کسی بھی برا کا وہ حصہ جو چھاتی کی نچلی سطح کے گرد اور کمر کو پکڑتا ہے (برا سٹریپ) کو مضبوط ہونا چاہیے جو اچھی طرح سے چھاتی کو ڈھانپ لے اور اگر میں حرکت کروں تو یہ کھچاؤ پیدا نہ کرے اور اپنی جگہ پر رہے۔
اس کے بعد آپ کو اس کے کندھوں کے سٹریپ کی ایڈجسٹمنٹ کو جانچنا ہے، نہ ان میں کھچاؤ پیدا ہو اور نہ ہی یہ کندھے سے ڈھلک جائیں اور ان میں ایک دو انگلیوں کا فرق ہو۔
جوئنا کا کہنا ہے کہ پھر برا کے وسطی حصہ کی باری آتی ہے جو بریسٹ کے درمیان ہوتا ہے اور آپ کی جلد کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ یہ حصہ نہ تو ڈھلک جائے یا ہی اوپر کی جانب تنا ہوا ہوں۔ اور اگر برا کے نیچے سپورٹ کے لیے کوئی تار ہے تو وہ چھاتی کے کسی ٹشو پر نہ آئے بلکہ مکمل طور پر اس کے نیچے ہو۔
اس میں سب سے اہم یہ ہے کہ برا کا نچلا بینڈ آرامدہ، مضبوط اور اچھا ہو۔
یہ بھی پڑھیے
کیا خواتین کی برا میں موجود رنگ یا تار یا بری ہے؟
سائنسی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے صحت پر اس وقت تک کوئی مضر اثرات نہیں ہے جب تک یہ چھاتی پر اچھی طرح سے فٹ بیٹھتا ہے اور چھاتی کے کسی حصے یا ٹشو پر نہیں آتا۔
جوئنا کہتی ہیں کہ ہم نے اپنی تحقیق میں یہ دیکھا ہے کہ چھاتی کو سپورٹ فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم کو ایک اینکر پوائنٹ دیتا ہے۔ میری رائے میں تار والی برا اس وقت تک اچھی ہے جب تک کہ یہ مناسب طریقے سے فٹ ہوجائے۔
خواتین کے جسم اور خصوصاً چھاتی میں ہر ماہ کے دوران تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ ماہ کے دوران جس حالت میں چھاتی ہو اس طرح کی برا استعمال کی جائے؟
اس سوال کے جواب میں بائیو مکینکس جوئنا واکفیلڈ کہتی ہیں کہ ماہواری کے دوران، عورت کی چھاتی کے حجم میں اوسط تبدیلی اس کے کپ کے سائز سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ہماری روز مرہ پہنی جانے والی برا کو اس اوسط تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
تاہم، ایسی خواتین ہیں جن کے لیے یہ اہم ہے۔ اگر ایسا ہے تو، میں ان کی حوصلہ افزائی کروں گی کہ وہ مہینے کے مختلف اوقات کے لیے مختلف برا کا استعمال کریں۔ میں جانتی ہوں کہ یہ تھوڑا مہنگا کام ہے، لیکن اہم یہ ہے کہ وہ ایسا کریں۔ یہ اس کی بجائے بہتر ہے کہ آپ پورا ہفتہ تکلیف میں رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برا نہ پہننا اچھا ہے یا بُرا؟
اس کا دارومدار انفرادی سطح پر ہے۔ میں ان فوائد کے بارے میں بات کرتی ہوں جو ہمیں اچھی برا پہننے سے حاصل ہو سکتے ہیں اور وہ بہت سے ہیں۔ لیکن اگر آپ اسے استعمال نہیں کرنا چاہتے تو یہ ایک ذاتی انتخاب ہے۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ برا کی بہت سی اقسام ہیں اور اس کے پہننے کے انداز میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور کچھ خواتین کو اپنی جسم کو کسی بھی طرح سے تبدیل کرنا اچھا نہیں لگتا۔
مثال کے طور پر کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے ایک سروے کیا جس کے مطابق بہت سے خواتین کم سپورٹ والی برا پہننا کا انتخاب کرتی ہیں اور اس کے لیے انھوں نے ہلکے ٹاپس یا براز کا استعمال کیا۔
سروے کے نتائج میں ہم نے یہ دیکھا کہ اس کے نتیجے میں ایسی خواتین کی ایک بڑی تعداد میں چھاتیوں کے خدو خال اور سائز میں تبدیلی ہوئی تھی۔
جوئنا کہتی ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ خواتین کو اس متعلق علم ہو۔ میں پھر بھی کہتی ہو کہ برا پہننے کے فوائد نہ پہننے سے زیادہ ہیں لیکن اس کا انحصار انفرادی خاتون پر ہے۔
وہ کہتی ہیں کسی خاتون کی چھاتیوں کی ساخت پر منحصر ہیں کہ وہ زیادہ ڈھلک جاتی ہیں یا کم لیکن اس میں کچھ عمل دخل برا کا بھی ہے۔
اور بالآحر ہم بڑھتی عمر کے ساتھ چھاتی کی سختی کھو دیتے ہیں۔ ایسے اس لیے ہوتا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ اس کے قدرتی طور پر سپورٹ کرنے والے ڈھانچے کمزور ہو جاتے ہیں اور اس سے بچا نہیں جا سکتا۔
جوئنا کہتی ہیں کہ لیکن میری تجویز یہ ہے کہ اگر ہم ان ڈھانچوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انھیں مزید کھچاؤ سے کمزور ہونے سے بچاتے ہیں، تو ہم اپنی چھاتی کو قدرتی طور پر جلد ڈھلکنے سے روک سکتے ہیں۔
جن کی چھاتی کی ماسٹیکومی (چھاتی کا کاٹ دیا جانا) ہوئی ہے یا وہ چھاتیاں چھپانے کے لیے بائنڈر (برا کی ایک قسم) کا استعمال کرتے ہیں وہ کیا کریں؟
اس سوال کے جواب میں جوئنا کہتی ہیں کہ خوش قسمتی سے ایسی خواتین جن کی چھاتی کی کوئی سرجری ہوئی ہے ان کے لیے بازار میں اچھی براز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے لیے بھی جو اپنی جنس تبدیل کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں یا نہیں چاہتے کہ ان کی چھاتی نمایاں ہو۔
لیکن، اس صورت میں، میں ہمیشہ آپ کو مشورہ دوں گی کہ آپ اپنے بریسٹ کو دبانے کے بجائے الگ الگ رکھیں۔
ایک ایسا لباس جو ہم روزانہ پہنتے ہیں لیکن ہم اس کے بارے میں بہت کم بات کرتے ہیں، آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے؟
اس کا جواب دیتے ہوئے جوئنا کا کہنا تھا کہ ہم اس متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے بہت سا کام کرتے ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ اس کے متعلق زیادہ بات ہو، خواتین کی براز اور اپنی چھاتیوں کے متعلق جاننے اور بات کرنے پر شرمندہ نہ ہونے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں عورت کی چھاتی کی نسوانیت اور جنسیت کو برا کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے جو کہ ایک شرمناک بات ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس کے بارے میں سائنسی اعتبار اور صحت کے حوالے سے بات کرنا اسے کم شرمناک بنائے گا۔













