وہ تین جاندار جنھوں نے ہمیشہ زندہ رہنے کا راز جان لیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قدیم زمانے کی دیومالائی کہانیوں سے لے کر سائنس فکشن لٹریچر تک میں سدا بہار جوانی کی کھوج کی ہماری کوششوں کی کئی کہانیاں موجود ہیں۔
مگر کچھ ایسی مخلوقات بھی ہیں جنھوں نے عمر بڑھنے کے قدرتی عمل کو روکنے اور یہاں تک کہ پلٹانے کا بھی راز جان لیا ہے۔
اور یہ حقیقت میں پائے جاتے ہیں۔
یہ وہ جانور ہیں جو حیاتیاتی طور پر لافانی ہیں یا ہمیں ایسا ہی لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک کوئی شکاری، بیماری یا ماحول میں شدید تبدیلی اُن کی جان نہ لے، وہ زندہ ہی رہتے ہیں۔
سائنسدان ان پراسرار جانداروں کے رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جان سکیں کہ کیا ہم بھی اپنی عمر کے بڑھنے کو روک سکتے ہیں؟
ان میں سے تین حیران کُن جاندار یہ ہیں:
پلینیریا
ان کیچوؤں کے بارے میں 19 ویں صدی کے اواخر سے یہ معلوم ہے کہ اگر انھیں کاٹ دیا جائے تب بھی یہ دوبارہ نشونما پا جاتے ہیں مگر جب سنہ 2012 میں یونیورسٹی آف ناٹنگھم نے ان کی ممکنہ لافانیت کے بارے میں ایک مطالعہ شائع کیا تو تہلکہ مچ گیا۔
پلینیریا چپٹے کیچوؤں یا فلیٹ ورمز کی ایک قسم ہے جو پوری دنیا میں پائی جاتی ہے اور یہ لامحدود سٹیم خلیے پیدا کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پلینیریا دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک جو جنسی طرح سے تولید کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اے سیکشوئل یعنی بے جنس انداز میں خود دو حصوں میں بٹ کر نئے پلینیریا بن جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے سائنسدانوں نے دونوں اقسام کا جائزہ لیا اور انھیں یہ معلوم ہوا کہ اے سیکشوئل انداز میں تولید کرنے والے اپنے ڈی این اے کو 'نئی زندگی' فراہم کر دیتے ہیں۔
ہماری زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر زیادہ تر جانوروں کی طرح ہمارا ڈی این اے خلیوں کی تقسیم کی اپنی حد کو پہنچ جاتا ہے اور ہمارا جسم زوال کا شکار ہونے لگتا ہے۔
دوسری طرف پلینیریا میں ایسے انزائمز بھاری مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو اُن کے خلیوں کو عمر بڑھنے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اور جب یہ تولیدی عمل سے گزرتے ہیں تو ان کے یہ انزائمز دوبارہ پیدا ہو جاتے ہیں جس کے باعث سائنسدانوں کو لگتا ہے کہ یہ لافانی ہوں گے۔
ہائڈرا
کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگنے والا یہ جاندار تازہ پانی میں پایا جاتا ہے۔ اس کا جسم ایک نلکی کی طرح ہوتا ہے۔ اپنے منھ کے قریب موجود ریشوں کے ذریعے یہ اپنا شکار کرتے ہیں جن میں چھوٹے کیچوے اور پانی کے دیگر جاندار ہو سکتے ہیں۔
مائیکروسکوپ ایجاد کرنے والے ڈچ سائنسدان انٹونی وان لیووین ہوک نے جب جانداروں کا پہلی مرتبہ خرد بینی جائزہ لیا تو ہائڈرا ان میں شامل پہلے جاندار تھے۔
اس کے کچھ عرصے بعد ہی سوئس سائنسدان ابراہام ٹریمبلی کی ہائڈرا اور ان کی اپنے جسم کے حصے دوبارہ بنا لینے کی 'سپر پاورز' نے حیاتیات میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا۔
پلینیریا کی طرح ہائڈرا بھی اپنے جسم کے حصوں کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔ ان کی ممکنہ لافانیت کے بارے میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کے سٹیم خلیوں کو سمجھیں جو لامحدود انداز میں خود بخود پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
درحقیقت ہائڈرا کا پورا جسم ہی ایسے لگتا ہے جیسے یہ از خود تجدید کرنے والے سٹیم خلیوں سے بنا ہوا ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہائڈرا کے ایک گروپ کا کئی برسوں تک جائزہ لینے والے سائنسدانوں کو ان میں عمر بڑھنے کے کوئی اثرات نہیں دکھائی دیے۔
سنہ 2018 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے محققین نے مفروضہ پیش کیا کہ ہائڈرا ممکنہ طور پر لافانی اس لیے ہیں کیونکہ وہ ٹرانسپوزون جینز یا 'جمپنگ جینز' کہلانے والے جینز کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
یہ وہ جینز ہیں جو جینوم کے ایک حصے سے دوسرے پر 'چھلانگ' لگا سکتے ہیں جس سے جینیاتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔
جب ہم نوجوان ہوتے ہیں تو ہمارا جسم ان جینز کو کنٹرول کر سکتا ہے مگر جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے ہم ان پر کنٹرول کرنے میں مشکل کے شکار ہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف ہائڈرا ممکنہ طور پر ان جینز کو ہمیشہ کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ٹریٹوپسس ڈوہرنی: لافانی جیلی فش
لافانی جیلی فش جس کا سائنسی نام ٹریٹوپسس ڈوہرنی ہے، سمندری پانیوں میں پائی جاتی ہے۔
انھیں سب سے پہلے 1880 کی دہائی میں بحیرۂ روم میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور انھیں سمندری پودے، مچھلیوں کے انڈے اور چھوٹے گھونگھے کھانے کا شوق ہوتا ہے۔
اس جیلی فش کے بارے میں حیران کُن بات یہ ہے کہ یہ اپنی زندگی پلٹا لیتی ہے۔ جب یہ تناؤ کی شکار ہو تو یہ خود کو اپنی زندگی کے اوائلی دور میں لے جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی تتلی دوبارہ کیڑے کی شکل اختیار کر لے۔ ایسا ٹرانس ڈفرینسیئشن کہلانے والے مرحلے کے ذریعے ہوتا ہے۔
ٹرانس ڈفرینسیئشن تب ہوتی ہے جب مکمل طور پر بالغ خلیہ خود کو ایک اور قسم کے بالغ خلیے میں تبدیل کر لے۔ سائنسدانوں کے لیے یہ پورا مرحلہ اب بھی ایک راز ہے۔
اور صرف یہی نہیں۔
جب یہ جیلی فش اپنی زندگی کی اوائلی صورت میں لوٹ جاتی ہے تو یہ اسی جینیاتی کوڈ کے حامل دیگر جانداروں کو بھی جنم دیتی ہے، یعنی ایک طرح سے خود کو نئی زندگی دینے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی نقل بھی تیار کر لیتی ہے۔













