آپٹیکل فائبر کیبلز: بال جتنی باریک شیشے کی ٹیوبز جن کے سہارے آپ کا انٹرنیٹ چلتا ہے

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

یہ باریک سی چیز کوئی سوئی نہیں بلکہ اگر آپ تک یہ ویب پیج اس وقت پہنچا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی ہی کسی ٹیوب سے ہو کر آپ تک پہنچا ہو اور یہ ٹیوب خود سمندر کی تاریک گہرائیوں میں کہیں پڑی ہوئی ہو گی۔

جی بالکل۔ یہ ہے ایک آپٹیکل فائبر کیبل، وہی جس کے بارے میں آپ نے اکثر خبروں میں سنا ہو گا کہ یہ کٹ گئی ہے اور اس وجہ سے انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر رہے گی۔

کیا آپ نے کبھی ہماری طرح یہ سوچا ہے کہ آخر یہ آپٹیکل فائبر کیبل کیا ہوتی ہے، سمندر میں کیا کر رہی ہے اور یہ کیسے کٹ جاتی ہے؟ کیا اس میں شارک کا بھی کوئی کردار ہوتا ہے؟

اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس کی مرمت کیسے کی جاتی ہے؟

بال جتنی باریک ٹیوب میں روشنی کا سفر

سب سے پہلے تو یہ سمجھتے ہیں کہ آپٹیکل فائبر کیبل کیا ہوتی ہے۔ تانبے کی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی تاروں میں برقی لہر کے ذریعے سگنل بھیجے جاتے ہیں۔ یہ تاریں آج بھی آپ کو کئی جگہوں پر نظر آ جائیں گی اور شاید آپ کے گھر تک آنے والی تار ابھی بھی شاید تانبے کی ہی ہو۔

لیکن جب بات آتی ہے پورے پورے ملکوں کی انٹرنیٹ ٹریفک ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی تو آپٹیکل فائبر کیبل کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا ٹرانسفر کر سکتی ہیں۔

یہ اندر سے ایک شیشے کی باریک ٹیوب جیسی ہوتی ہیں جن میں بجلی کے بجائے روشنی کی لہر سفر کرتی ہے۔ زیادہ سائنسی تفصیلات میں جائے بغیر یہ جاننا کافی رہے گا کہ اس کے فوائد میں تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسفر سب سے پہلی چیز ہے۔

یہ ٹیوبز تو خود انسانی بال کی طرح ہی باریک ہوتی ہیں لیکن چونکہ یہ شیشے کی ہوتی ہیں اور انھیں کافی سخت ماحول میں رکھا جانا ہوتا ہے اس لیے ان پر سٹیل اور دیگر مختلف سخت مٹیریلز کی کئی تہیں چڑھائی جاتی ہیں۔

انھیں سمندر میں ہی کیوں بچھایا جاتا ہے؟

ضروری نہیں کہ آپٹیکل فائبر کیبل صرف سمندر کی تہہ میں ہی بچھائی جائیں۔ کبھی کبھی انھیں زمین پر بھی بچھایا جاتا ہے۔

پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پراجیکٹ کے تحت خنجراب پاس کے راستے پر بچھائی گئی ایک آپٹیکل فائبر کیبل کے ذریعے پاکستان اور چین کو بھی منسلک کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ زیرِ سمندر چھ ایسی آپٹیکل فائبر کیبلز ہیں جو پاکستان کو باقی دنیا سے جوڑتی ہیں۔ ان میں سے چار کا انتظام پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے پاس جبکہ دو کا انتظام ایک نجی کمپنی ٹرانس ورلڈ کے پاس ہے۔

یہ تمام کیبلز کراچی کے راستے پاکستان میں داخل ہوتی ہیں اور ملک کو مشرق بعید سے لے کر مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، یورپ اور دنیا کے کئی دیگر ممالک سے جوڑتی ہیں۔

کراچی سے پھر کیبل لینڈنگ سٹیشنز کے ذریعے ٹریفک کو باقی پورے ملک میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے لیے پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ اپنے اپنے نیٹ ورکس اور انفراسٹرکچر کا استعمال کرتی ہیں۔

پی ٹی سی ایل میں جنرل مینیجر آئی پی نیٹ ورکس شبانہ اکرام نے ہمیں بتایا کہ سمندر میں کیبلز بچھانا ان کیبلز کے لیے زیادہ محفوظ ہوتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ انھیں زمین پر بچھایا جائے۔

وہ کہتی ہیں کہ زمین پر ان کے کٹ جانے کا امکان مختلف وجوہات کی بنا پر زیادہ ہوتا ہے جبکہ سمندر میں بھی انھیں تہہ میں صرف رکھ نہیں دیا جاتا بلکہ تھوڑا نیچے تک دبایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ زیرِ آب ہی زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔

تو پھر یہ کٹ کیسے جاتی ہیں؟

پاکستان میں اکثر انٹرنیٹ پر یہ موضوع زیرِ بحث رہتا ہے اور کئی لوگ اس کا الزام شارکس کو بھی دیتے ہیں کیونکہ بہرحال فلموں میں تو ایسا ہی دیکھا ہے کہ ان کے دانتوں کے آگے کشتیاں تک نہیں ٹک پاتیں۔

یہی سوال لیے میں نے پی ٹی سی ایل کی کراچی میں اس بلڈنگ کا دورہ کیا جہاں ان چھ زیرِ سمندر آپٹیکل فائبر کیبلز میں سے ایک لینڈ کرتی ہے۔

وہاں پر جب میں نے اپنے ہاتھ میں ایک اصلی آپٹیکل فائبر کیبل کا ٹکڑا تھاما اور اس پر موجود فولادی تہیں دیکھیں تو میں سوچنے لگا کہ شارک کے دانت بھلے کھانے اور دکھانے کے ایک ہی ہوں مگر کیا یہ ان کے بس کی بات ہے بھی؟

وہاں موجود ایک انجینیئر سے جب میں نے یہ سوال پوچھا تو اُنھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ایسا ممکن ہی نہیں۔

اُن کے مطابق ان کیبلز میں سب سے زیادہ کٹ بحری جہازوں کی وجہ سے لگتے ہیں جن کے بیسیوں ٹن وزنی لنگر اگر آپٹیکل فائبر کیبل کے اوپر گر جائیں یا لنگر واپس اٹھاتے ہوئے یہ کیبل کسی طرح اس میں پھنس جائے تو پھر اس کا ٹوٹنا یقینی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ان کی مرمت کیسے کی جاتی ہے؟

ایک مرتبہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی زیرِ سمندر کیبل کٹ گئی ہے تو اس کی مرمت کے لیے ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے جس میں لاکھوں ڈالر تک کا خرچہ آ سکتا ہے۔

ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ سمندر کیبلز عموماً کئی ممالک کی ٹیلی کام کمپنیوں کی شراکت سے بچھائی جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کٹی ہوئی کیبل جس بھی ملک کی سمندری حدود کے نزدیک ہو، اس ملک سے اس پراجیکٹ میں شریک کمپنی اسے ٹھیک کروانے کی ذمہ داری لیتی ہے جس کے لیے مخصوص بحری جہاز تعینات ہوتے ہیں جو عالمی سطح پر بڑی ٹیلی کام انجینیئرنگ کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں۔

ان جہازوں پر بیسیوں سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک فالتو آپٹیکل فائبر کیبل ہمیشہ لوڈ رہتی ہے جس کے باعث یہ سمندر میں متاثرہ کیبل کی مرمت کر پاتے ہیں۔

ٹوٹی ہوئی کیبل میں برقی کرنٹ دوڑا کر یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ سگنل کہاں تک جا رہا ہے تاکہ اس مقام کا تعین کیا جا سکے۔ پھر وہ جہاز وہاں پہنچتا ہے اور یہاں سے انجینیئرز کا کام شروع ہوتا ہے۔

ایک روبوٹ کے ذریعے متاثرہ کیبل کو دونوں اطراف سے اٹھایا جاتا ہے اور پہلے ایک حصے کے متاثرہ ٹکڑے کو کاٹ کر الگ کیا جاتا ہے، اس میں نیا ٹکڑا لگایا جاتا ہے اور پھر دوسرے ٹکڑے کے ساتھ بھی یہی عمل دہرایا جاتا ہے۔

پھر کیبل کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر اس کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ اس پورے کام میں ایک دن بھی لگ سکتا ہے اور موسم خراب ہو تو کئی دن بھی۔

مگر خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ زیرِ سمندر کئی آپٹیکل فائبر کیبلز کی موجودگی کی وجہ سے خرابی کی صورت میں انٹرنیٹ ٹریفک کو دوسری کیبلز پر منتقل کیا جا سکتا ہے حالانکہ اس میں بھی کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

تو اب جب آپ دوبارہ کبھی اپنا انٹرنیٹ استعمال کریں تو ایک لحظے کے لیے یہ ضرور سوچیے گا کہ آپ کے پسندیدہ آن لائن مواد کو آپ تک پہنچائے رکھنے کے پیچھے کتنا بڑا عالمی نظام موجود ہے اور یہ سب روشنی کی رفتار سے ہوتا ہے۔ مرمتوں کو چھوڑ کر۔۔۔