آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گلوبل وارمنگ یعنی ماحولیاتی تبدیلی: دنیا کی بلند ترین چوٹی کا بیس کیمپ غیر محفوظ کیوں ہو رہا ہے؟
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, ماحولیاتی نامہ نگار، بی بی سی ورلڈ سروس
نیپال کی حکومت نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کو اس کے موجودہ مقام سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ گلوبل وارمنگ (عالمی درجہ حرارت میں اضافہ) اور انسانی نقل و حرکت اسے غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔
حالیہ موسم بہار میں ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کو 1500 افراد نے چوٹی سر کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، جو تیزی سے پگھلتے ہوئے کھمبو گلیشیئر پر قائم ہے۔
نیپال کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نئے بیس کیمپ کے لیے کم اونچائی پر ایک مقام چنا گیا ہے جہاں پر سارا سال برف نہیں رہتی۔
محققین کا کہنا ہے کہ برف سے پگھلتے پانی کی وجہ سے جس گلیشیئر پر بیس کیمپ قائم ہے وہ غیر مستحکم ہو رہا ہے جب کہ کوہ پیماوں کے مطابق بیس کیمپ کی سطح پر شگاف بڑھتے جا رہے ہیں۔
نیپال کے ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل تارانتھ ادھیکاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بیس کیمپ منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور بہت جلد تمام فریقین سے اس پر بات چیت بھی کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر ایسا کرنا ان تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ہے جو بیس کیمپ میں نظر آ رہی ہیں اور کوہ پیمائی کے بزنس کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔‘
نیپال کے ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کا موجودہ بیس کیمپ تقریبا 5364 میٹر کی بلندی پر واقع ہے جب کہ نیا کیمپ اس سے دو سو سے چار سو میٹر کم اونچائی پر قائم کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ نیپال کی حکومت کی جانب سے قائم کردہ ایک کمیٹی کی تجاویز کی بنیاد پر بنایا گیا جس کے ذمے ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کی سہولت کاری کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمالیہ میں موجود متعدد دیگر گلیشیئرز کی طرح کھمبو گلیشیئر بھی تیزی سے پھگل رہا ہے اور سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کی تہہ پتلی ہوتی جا رہی ہے۔
برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق نے ثابت کیا کہ بیس کیمپ کے قریب موجود اس گلیشیئر کا حصہ ایک میٹر سالانہ کی رفتار سے پگھل رہا ہے۔
ان میں سے ایک سکاٹ واٹسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس گلیشئر کی زیادہ تر سطح پتھریلے ملبے سے ڈھکی ہوئی ہے لیکن یہاں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں برف سطح پر موجود ہے اور ان برفانی چٹانوں کا پگھلنے سے ہی گلیشیئر غیر مستحکم ہو رہا ہے۔‘
’جب برفانی چٹانیں پگھلتی ہیں تو پتھروں کا ملبہ جو ان کی سطح پر موجود ہوتا ہے گرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس طرح پگھلتا ہوا پانی اور گرتے ہوئے پتھر گلیشیئر کی سطح کو خطرناک بنا دیتے ہیں۔‘
کوہ پیماوں اور نیپالی حکام کے مطابق بیس کیمپ کے عین درمیان بہتی ایک ندی کی چوڑائی ہر سال بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح گلیشیئر کی سطح پر خلا اور دراڑیں پڑنے کا سلسلہ بھی پہلے سے کافی زیادہ ہو چکا ہے۔
نیپالی فوج کے کرنل کشور ادھیکاری جو موسم بہار میں صفائی کی ایک مہم کی سربراہی کے دوران بیس کیمپ پر موجود تھے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حیران کن طور پر ہم نے دیکھا کہ راتوں رات ان مقامات پر برف میں کچھ خلا پیدا ہو گئے جہاں ہم سو رہے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’صبح اٹھ کر یہ سوچ کر بہت سے لوگوں کو خوف آیا کہ ہم رات میں ان میں گر بھی سکتے تھے۔ یہاں دراڑیں بھی اتنی کثرت سے پڑ رہی ہیں کہ یہ کافی خطرناک ہے۔‘
شیرنگ تینزنگ شیرپا جو سگراماتھا آلودگی کنٹرول کمیٹی کے ایورسٹ بیس کیمپ منیجر ہیں بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اکثر برف کے ہلنے یا پتھروں کے گرنے سے پیدا ہونے والا شور سنا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیس کیمپ پر ٹینٹ لگانے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ برف کی پتھریلی سطح کو صاف کر لیا جائے۔‘
انھوں نے بتایا کہ پہلے دو سے تین ہفتے تک برف کی سطح پھول جاتی تھی لیکن اب ایسا ہر ہفتے ہو رہا ہے۔
بیس کیمپ منتقل کرنے کی تجویز دینے والی کمیٹی کے رکن، کھیم لال گوتم، نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کی موجودگی بھی مسئلے کی ایک وجہ ہے۔
’مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہوا کہ بیس کیمپ پر روزانہ کی بنیاد پر چار ہزار لیٹر پیشاب کیا جاتا ہے۔‘
’اس کے علاوہ کھانے پکانے اور گرم رہنے کے لیے استعمال ہونے والا کیروسین اور گیس بھی گلیشیئر کی برف پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘
کوہ پیمائی کی کمپنی الپین گلو ایکسپیڈیشنز کے بانی ایڈریئم بالنجر بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بیس کیمپ کو منتقل کر دیا جائے۔ انھوں نے پشین گوئی کی کہ مستقبل میں برفانی طوفان آئیں گے، زیادہ برف اور پتھر موجودہ بیس کیمپ پر گریں گے۔
’اور مہم جوئی کرنے والوں کے لیے یہ ناقابل قبول ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے بچا جا سکتا ہے۔‘
بیس کیمپ کو منتقل کرنے میں ایک بڑی مشکل یہ درپیش ہے کہ چوٹی سر کرنے والوں کے لیے سفر بڑھ جائے گا اور بیس کیمپ سے کیمپ ون تک کا سفر طویل ہو گا جہاں رک کر آگے کا سفر شروع کیا جاتا ہے۔
زیادہ تر کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کو نیپال کی طرف سے ہی سر کرتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں چین کی طرف سے بھی یہ کوشش کرنے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔
شیرپا کا کہنا ہے کہ موجودہ بیس کیمپ تمام تر مسائل کے باوجود اگلے تین سے چار سال تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن نیپال کی حکومت نے 2024 تک بیس کیمپ منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
تارانتھ ادھیکاری کہتے ہیں کہ ’ہم نے تمام تکنیکی اور ماحولیاتی معاملات کا جائزہ لیا ہے اور بیس کیمپ کو منتقل کرنے سے پہلے مقامی آبادی سے بھی بات چیت کی جائے گی تاکہ ان کی ثقافت کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بیس کیمپ کی منتقلی کا کام تمام فریقین سے بات چیت کے بعد ہی مکمل کیا جائے گا۔