آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موسمیاتی تبدیلی: جو آج ہو رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے تقریباً 40 سال پیچھے جانا پڑے گا
- مصنف, فیبی کین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جب موسمیاتی تبدیلی امریکی انتخابات کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے تو توانائی کے شعبے سے منسلک کمپنیوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ میں اپنے کردار کو کم دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جون میں امریکہ کی ریاست منیسوٹا کے اٹارنی جنرل نے ’دھوکہ دہی کی مہم‘ چلانے کے لیے ایکسن موبل نامی کمپنی پر مقدمہ چلایا جس نے جان بوجھ کر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے بارے میں سائنسی دعوے کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔
تو پھر ان دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟ کس طرح کئی دہائیوں قبل تمباکو کی صنعت نے تمباکو نوشی کے نقصانات کی بات کو مسترد کرنے کی کوشش کی تھی؟
آج کیا ہو رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقریباً 40 سال پیچھے جانے کی ضرورت ہے۔
مارٹی ہوفرٹ نے اپنی کمپیوٹر سکرین کے نزدیک جا کر دیکھا۔ وہ جو کچھ دیکھ رہے تھے ان کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ یہ سنہ 1981 کی بات ہے اور وہ سائنس کے ایسے شعبے میں کام کر رہے تھے جس کو اہم سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے اب وہ کہتے ہیں ’ہمارے پاس کمپیوٹرز ماہرین کا ایک گروپ تھا اور ہمارے پاس اچھے کمپیوٹرز تھے۔‘
لیکن اس کے نتائج خطرناک تھے۔
’میں نے ایک ایسا ماڈل تیار کیا جس سے معلوم ہوا کہ زمین بہت نمایاں طور پر گرم ہو گی۔ اور گرمی سے موسمیاتی تبدیلیاں آئیں گی جو انسانی تاریخ میں غیر معمولی ہوں گی، اس بات نے میرے ذہن کو ہلا کر رکھ دیا۔‘
مارٹی ہوفرٹ ایک ایسا ماڈل تیار کرنے والے پہلے سائنس دانوں میں سے ایک تھے جس نے انسانوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے پیشین گوئی کی تھی۔ اور اس نے دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ایکسن کے لیے کام کرتے ہوئے ایسا کیا جو بعد میں ایک اور کمپنی کے ساتھ ضم ہو گئی۔
اس وقت ایکسن انتہائی اہم تحقیق پر لاکھوں ڈالر خرچ کررہی تھی۔ سائنس دانوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیاتھا کہ سیارے کا بڑھتا درجہ حرارت ماحولیات کو ایسے تبدیل کر دے گا جس سے انسانوں کے لیے زندگی بہت مشکل ہوسکتی ہے۔
انھوں نے نے اپنی پیش گوئیاں اپنے منیجرز کے ساتھ شیئر کیں انھیں دکھایا گیا کہ اگر ہم اپنی گاڑیوں ، ٹرکوں اور طیاروں میں فوسل فیول یعنی زمین سے نکالا گیا ایندھن جلاتے رہیں تو کیا ہوسکتا ہے۔
لیکن انھوں نے ایکسن کی اپنی تحقیق اور اس وقت کے چیف ایگزیکٹو لی ریمنڈ جیسے کمپنی کے مالکان کی طرف سے دییے جانے والے عوامی بیانات میں فرق دیکھا جس نے کہا تھا کہ 'فی الحال اس بارے میں سائنسی شہادتیں نا کافی ہیں کہ آیا انسانی سرگرمیوں کا ماحولیات کی تبدیلی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
مارٹی ہوفرٹ نے کہا 'وہ ایسی باتیں کہہ رہے تھے جو ان کے اپنے عالمی معیار کے تحقیقی گروپوں سے متصادم تھیں۔
ناراض مارٹی ہوفرٹ نے ایکسن کوچھوڑ دیا ، اور اس شعبے میں ایک ممتاز اکیڈمک بن گئے۔
انکا کہنا تھا کہ 'انہوں نے جو کچھ کیا وہ غیر اخلاقی تھا۔ انہوں نے ماحولیات کی تبدیلی کے خطرات کے بارے میں شبہات پھیلائے جبکہ ان کے اپنے محققین اس بات کی تصدیق کر رہے تھے کہ یہ کتنا سنگین خطرہ تھا۔
تو کیا بدلا؟
1988 کی ریکارڈ توڑنے والی گرمی امریکہ میں بڑی خبر تھی اس نے ناسا کے سائنس دان ڈاکٹر جم ہینسن کے انتباہ کو اجاگر کیا کہ گرین ہاؤس گیسز کے اثر کا پتہ چلا ہے جو ہماری آب و ہوا کو بدل رہا ہے۔ سیاسی رہنماوں نے اس کانوٹس لیا۔
تب برطانیہ کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے اس بڑے نئے عالمی خطرے کو تسلیم کیا اور کہا کہ 'پوری دنیا کو ماحولیاتی چیلنج کا سامنا تھا جو پوری دنیا سے مساوی ردعمل کا مطالبہ کرتا ہے'
1989 میں، ایکسن کی حکمت عملی کے سربراہ ڈوئین لیون نے کمپنی کے بورڈ کے لیے ایک خفیہ پریزنٹیشن تیار کی جو کمپنی کے آرکائیو میں موجود ہزاروں دستاویزات میں سے ایک تھی جو بعد میں آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کو دی گئی تھی۔
لیون کی پیش کش ایک اہم دستاویز ہے جس کی مثال محققین اکثر موسمیاتی تبدیلی پر ایکسن کے ریکارڈ کی تفتیش کرتے ہوئے دیتے ہیں۔
ایکسٹن کے محفوظ شدہ دستاویزات کرٹ ڈیوس نے اچھی طرح پرکھے ہیں وہ ماحولیاتی پریشر گروپ گرینپیس میں ریسرچ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے جہاں انھوں نے ماحولیات میں تبدیلی کے خلاف کارپوریٹ کی مخالفت کو دیکھا تھا۔
جس سے متاثر ہو کر انھوں نے تفتیشی مرکز قائم کیا انھوں نے وضاحت کی کہ اس ایکسین کی پریزنٹیشن اہم کیوں ہے۔
'بنیادی بات یہ ہے کہ وہ پریشان تھے کہ عوام اس پر عملدرآمد کریں گے اور توانائی استعمال کرنے کی طریقوں میں تبدیلی کریں گے جس سے ان کا کاروبار کو متاثر ہوگا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس خوف کو محفوظ شدہ دستاویزات کی ایک اور دستاویز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں نام نہاد 'ایکسن کا موقف' متعین کیا گیا ہے جس کا مقصد آب و ہوا کی تبدیلی کے حوالے سے 'غیر یقینی صورتحال پر زور دینا' تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ عوام کی رائے کو تشکیل دینے اور ماحولیات کی تبدیلی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہ عشروں سے جاری مہم کا محض آغاز تھا۔
جون 2020 میں منیسوٹا کے جنرل اٹارنی کیتھ ایلیسن نے ایکسن موبل امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) اور کوچ انڈسٹریز کے خلاف ماحولیاتی تبدیلیوں پر عوام کو گمراہ کرنے کا مقدمہ دائر کیا۔ فردِ جرم میں دعویٰ کیا گیا کہ 'اس سے قبل نامعلوم اندرونی دستاویزات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مدعا علیہ نے ان تباہ کن اثرات کا بخوبی اندازہ کرلیا ہے جن کی وجہ سے ان کی مصنوعات ماحولیات میں تباہ کن تبدیلی کا سبب بنتی ہیں'۔
اس کا کہنا ہے کہ یہ جاننے کے باوجود صنعت 'پبلِک رلیشن کی مہم میں مصروف رہی جو نہ صرف جھوٹی تھی بلکہ انتہائی موثر تھی'جس نے ماحولیات میں تبدیلی کی بات کو نظر انداز کیا۔
ایکسن اور دوسروں کے خلاف الزامات کو کمپنی نے 'بے بنیاد' کہا جو ہارورڈ یونیورسٹی میں سائنس کی تاریخ کے پروفیسر اور مرچنٹس کے شریک مصنف ، کیریٹ ڈیوس کی سالوں کی محنت اور تحقیق کے بعد لگائے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا 'سائنسی ثبوتوں کو تسلیم کرنے کے بجائے انھوں نے حقائق سے لڑنے کا فیصلہ کیا'
لیکن یہ صرف ایکسن کے ماضی کے اقدامات کے بارے میں نہیں ہے۔ اُسی سال 1989 میں لیونین کی پریزنٹیشن بہت ساری توانائی کمپنیاں اور فوصل فیول پر منحصر صنعتوں نے مل کر گلوبل کلائمیٹ کو الیشن بنائی جس نے امریکی سیاستدانوں اور میڈیا میں جارحانہ انداز میں لابیئنگ کی۔
پھر 1991 میں تجارتی ادارے ایڈیسن الیکٹرک انسٹی ٹیوٹ نے جو امریکہ میں برقی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے انفارمیشن کونسل برائے ماحولیات کے نام سے ایک مہم تشکیل دی جس کا مقصد 'گلوبل وارمنگ کو حقیقت نہیں بلکہ ایک نظریے' میں تبدیل کرنا تھا۔ اس مہم کی کچھ تفصیلات نیویارک ٹائمز میں منظر عام پر آئیں۔
نومی کا کہنا ہے کہ 'انھوں نے عوامی حمایت کو کمزور کرنے کے لیے تیار کردہ اشتہاری مہم چلائی انہوں نے خاص خاص اعداد و شمار کا انتخاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ٹھیک ہے اگر دنیا میں ماحولیات میں تبدیلی آ رہی ہے تو کینٹکی میں کیوں سردی پڑ رہی ہے؟' انھوں نے شک اور الجھن پیدا کرنے کے لیے گمراہ کن سوالات پوچھے۔
آئی سی ای مہم نے دو گروپوں کی نشاندہی کی جو اس کی پیغام رسانی کے لیے سب سے زیادہ موثر ہوں گے۔ پہلا گروپ 'بڑے کنبوں کے بڑے اور کم تعلیم یافتہ مرد جو عام طور پر معلومات کے متلاشی نہیں ہیں'
دوسرا 'نوجوان اور کم آمدنی والی خواتین' تھیں جنہیں ان اشتہارات کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ایڈیسن الیکٹرک انسٹی ٹیوٹ نے آئی سی ای کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا لیکن بی بی سی کو بتایا کہ اس کے اراکان 'صاف ستھری توانائی کی تبدیلی کی رہنمائی کر رہے ہیں اور وہ توانائی کی فراہمی کے اپنے عزم میں متحد ہیں۔
لیکن 1990 میں اس طرح کی بہت سی مہمات چل رہی تھیں۔
اس وقت یہ اہم حربہ اپنایا گیا کہ اگر تیل کی صنعت کے ذمہ داران ماحولیات میں تبدیلی کو مسترد کردیں لیکن عوام کو بظاہر آزاد سائنس دانوں کے نظریے پر اعتماد ہوسکتا ہے تو وہ عوام کے سامنے مشکوک ہوں گے۔
انھوں نے ٹی وی پر ہونے والی مباحثوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ عام ناظرین کو الجھایا جا سکے اور سفید کوٹ میں بیٹھے اس سائنسدان کی مخالفت کریں جو پیچیدہ تکنیکی تفصیلات کے بارے میں بحث کر رہے ہوں اور لوگوں کو لگے کہ کس پر اعتماد کیا جائے۔
مسئلہ یہ تھا کہ بعض اوقات یہ 'سفید کوٹ' والے سائنسدان حقیقت میں آزاد نہیں ہوتے تھے۔ ماحولیات کے کچھ ماہر محققین تیل کی صنعت سے رقم لے رہے تھے۔
ڈریکسل یونیورسٹی کے پروفیسر باب برُل نے موسمیاتی تبدیلیوں کے 'خلاف مہم' کے لیے مالی اعانت کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے 91 اداروں کی نشاندہی کی جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے انکار کیا ۔
انھوں نے پایا کہ 2003 اور 2007 کے درمیان ایکسن موبل نے ایسی تنظیموں کو 5.6 ملین ڈالر دیے جبکہ 2008 اور 2010 کے درمیان، امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ ٹریڈ باڈی اے پی آئی نے صرف 4 ملین ڈالر چندہ دیا۔
اپنی 2007 کی کارپوریٹ شہریت کی رپورٹ میں ایکسن موبل نے کہا کہ وہ 2008 میں ایسے گروپوں کو فنڈ دینا بند کر دے گا۔
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق سائنس کی مخالفت یا اس سے انکار کرنے والی بیشتر تنظیمیں دائیں بازو کے تھنک ٹینک تھیں جن کا رجحان ریگولیشن مخالف تھا۔
ان گرپوں نے تیل کی صنعت کے لیے آسانی کے لیے اتحاد بنائے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کسی بھی کارروائی پر نظریاتی بنیادوں پر دلائل دے سکیں۔
جیری ٹیلر نے 23 سال کاٹو انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ کام کیا جو دائیں بازو کے تھنک ٹینکس میں سے ایک ہے۔ 2014 میں ادارہ چھوڑنے سے پہلے وہ باقاعدگی سے ٹی وی اور ریڈیو پر آتے تھے اور اس بات پر اصرار کرتے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی سائنس غیر یقینی ہے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب انہیں احساس ہے کہ ان کے دلائل سائنس کی غلط تشریح پر مبنی تھے اور انھوں نے پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔
25 سالوں سے ماحولیاتی تبدیلی پر شک کرنے والے مجھ جیسے لوگوں نے اسے نظریاتی شناخت کا بنیادی معاملہ بنا دیا کہ اگر آپ موسمیاتی تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں تو آپ سوشلسٹ ہیں۔
بی بی سی نے کٹو انسٹی ٹیوٹ سے موسمیاتی تبدیلی پر اس کے کام کے بارے میں پوچھا لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اس نظریاتی تقسیم کے دوررس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ مئی 2020 میں ہونے والے سروے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ رپبلیکن کے حق میں ووٹ دینے والے صرف 22 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ موسمیاتی تبدیلی انسان سرگرمیوں کا نتیجہ ہے
بدقسمتی سے صحافیوں نے بہت سارے 'ماہر سائنس دانوں' کے حوالے سے بتایا کہ انہیں موسمیاتی تبدیلی کی اپنی کوریج میں توازن بنانے کی پیشکش کی گئی۔
'مثلا جیری ٹیلر جنکی دلائل متعلقہ تحقیق سے زیادہ انکے عقیدے پر مبنی ہوتی ہیں۔
ہارورڈ کے مؤرخ نومی اوریسکس کا کہنا ہے کہ انہوں نے موسمیاتی تبدیکی کے ماہر ین کے ماضی کو کریدنا شروع کیا جس میں نیوکلیئر طبیعیات دان اور امریکی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے سابق صدر فریڈ سیٹز بھی شامل ہیں۔ انھوں نے پایا کہ وہ کمیونسٹ مخالف ہیں انہیں یقین ہے کہ بازار میں حکومتی مداخلت 'ہمیں سوشلزم کی طرف دھکیل دیگی'۔
انھوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ وہ 1980 کی دہائی میں سگریٹ نوشی کے گرد مباحثوں میں سرگرم تھے۔
'حقیقت یہ تھی کہ کچھ لوگ دونوں جانب سے دلائل دے رہے تھے جو اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے جس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ باقاعدہ طور پر غلط انفارمیشن پھیلانے اور اسے دہرانے کا ایک طریقہ تھا۔
ومی اوریسکس نے سان فرانسسکو میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں تمباکو کے محفوظ شدہ دستاویز کے مطالعے میں کئی سال گزارے۔ اس میں 14 ملین سے زیادہ دستاویزات ہیں جو امریکی تمباکو فرموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بدولت دستیاب کی گئیں۔
اس میں ایک حیرت انگیز کہانی سامنے آئی۔ توانائی کی صنعت کی جانب سے آب و ہوا کی تبدیلی کی دلیل کو کمزور کرنے کی کوشش سے کئی دہائی پہلے تمباکو کمپنیوں نے 1950 کی دہائی میں تمباکو نوشی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان ابھرتے ہوئے روابط کو چیلنج کرنے کے لیے یہی تکنیک استعمال کی تھی۔
یہ کہانی 1953 میں کے موقع پر کرسمس شروع ہوئی نیویارک کے پرتعیش پلازہ ہوٹل میں تمباکو کمپنیوں کے سربراہان نے اپنے کاروباری ماڈل کے لیے ایک نئے خطرہ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملاقات کی۔
ہل اینڈ نولٹن میں پبلِک رلیشن گرو جان ہل کے ذریعہ لکھی گئی ایک دستاویز میں اس رات کی گفتگو کی تفصیلات درج کی گئیں۔
ریڈرز ڈائجسٹ جیسے مشہور میگزین اور ٹائم لائف نے تمباکو نوشی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان تعلق کے بارے میں مضامین شائع کرنا شروع کردیئے کہ سگریٹ ٹار سے چوہوں کو کینسر لاحق ہوگیا ہے۔
جیسا کہ جان ہل نے 1953 کی دستاویز میں لکھا تھا 'اس صنعت میں سیلزمین بری طرح خوفزدہ ہیں اور اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں تمباکو کے اسٹاک میں کمی نے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے'۔
نومی اوریسکس کا کہنا ہے کہ شک کی طاقت کو سمجھنا ضروری ہے۔
'انہیں احساس تھا کہ وہ جھوٹے دعوے کے ذریعے یہ جنگ نہیں جیت سکتے اور جلدی ہی ان کا پردہ فاش ہوجائے گا۔ لیکن اگر وہ اس بارے میں شک پیدا کرسکتے ہیں تو یہ کافی ہوگا۔ کیونکہ اگر لوگ اس معاملے میں الجھن میں رہیں تو ان کے پاس اچھا موقع ہوگا اور لوگ سگریٹ نوشی کرتے رہیں گے۔
ہل نے 'تمباکو انڈسٹری ریسرچ کمیٹی' قائم کرنے کا مشورہ دیا کہ ان سائنسی نظریات کے وجود کو فروغ دینے لیے جو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب ہے۔
جیسا کہ دہائیوں بعد آب و ہوا کی تبدیلی کی بحث میں 'پروجیکٹ وائٹ کوٹ' میں سائنسدان کے خلاف سائنسدان کو کھڑا کیا گیا۔
اوریسکس کے مطابق اس پروجیکٹ نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جو پہلے ہی کینسر یا پھیپھڑوں کی بیماریوں کی دیگر وجوہات پر تحقیق کر رہے تھے۔
'ان پروگراموں کا مقصد سائنسی تفہیم کو آگے بڑھانا نہیں تھا بلکہ اس قدر الجھن پیدا کرنا تھا کہ امریکی عوام موجودہ سائنسی شواہد پر شک کریں '۔
تمباکو کی صنعت کے اہم اہداف میں صحافی تھے۔ تمباکو انڈسٹری ریسرچ کمیٹی نے بڑے بڑے اخباری ایڈیٹرز کے لیے ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں اپنے دفاتر میں میٹنگیں کیں۔ یہاں تک کہ اس وقت کے ایک مشہور نشریاتی صحافی ایڈورڈ آر میرو کو اپنے ماہرین سے انٹرویو دینے پر راضی کیا۔
میرو کے مشہور ٹیلی ویژن پروگرام 'سی اِٹ ناؤ' کا حتمی ایڈیشن 1955 میں نشر کیے جانے والے پروگرام میں وائٹ کوٹ ان ایکشن دکھائے گئے جس میں تماکو کی صنعت کے فنڈ کیے گئے سائندانوں کو آزاد محققین کے مخالف لا کھڑا کیا گیا۔
لیکن جیسا کہ بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی کے موضوع پر سامعین کے لیے رائے قائم کرنا مشکل تھا جب سائنس دانوں نے ایک دوسرے سے تضاد پیدا کیا۔ یہاں تک کہ میرو بھی آخر میں یہ کہہ بیٹھے کہ 'ہمارے پاس اس موضوع پر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوئی سند نہیں ہے'۔
اگر شک ہی انڈسٹری کا اصل مصنوعہ تھا تو پھر یہ ایک بڑی کامیابی نظر آتی ہے۔
کئی دہائیوں تک تمباکو کمپنیوں کے خلاف شروع کیے گئے قانونی چیلنجوں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔
لیکن تمباکو کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا ہی جارہا تھا 1997 میں اس صنعت نے فلائٹ اٹینڈینٹ کو 350 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جن کو پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کے سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے انہیں یہ مرض ہوا تھا۔
اس تصفیہ نے 2006 میں ایک تاریخی فیصلے کی راہ ہموار کی جب جج گلیڈیز کیسلر نے امریکی تمباکو کمپنیوں کو سگریٹ نوشی سے متعلقہ صحت کے خطرات کو جعلی طور پر غلط انداز میں پیش کرنے کا قصوروار پایا۔
جج کیسلر نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح اس صنعت نے 'اپنی مالی کامیابی پر پوری توجہ کے ساتھ انسانی المیے یا معاشرتی اخراجات کی پرواہ کیے بغیر ، دھوکہ دہی کے ساتھ ، اپنی مہلک مصنوعات کو فروخت کیا۔
ہوسکتا ہے کہ تمباکو کی کمپنیاں تمباکو نوشی کے نقصانات کو چھپانے کی اپنی جنگ ہار گئیں لیکن جان ہل اور ان کے ساتھیوں کا تیار کیا ہوا بلیو پرنٹ بہت کارگر ثابت ہوا۔
'انھوں نے جو کچھ لکھا یہ وہی میمو ہے جو ہم نے بعد میں متعدد صنعتوں میں دیکھا ہے۔ڈیوڈ مائیکلز جو ٹرامف آف ڈاؤٹ کے مصنف ہیں ، اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کیڑے مار دوا ، پلاسٹک اور شوگر صنعتوں نے بھی یہ حربہ استعمال کیا ہے۔
'ہم نے اسے تمباکو کی کتاب کہا کیوںکہ تمباکو کی صنعت بہت کامیاب تھی۔
'انھوں نے ایک ایسی مصنوعات تیار کی جس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ہلاک کیا اور سائنس بہت سالوں سے بہت مضبوط رہا لیکن غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی اس مہم کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خوفناک اثرات کو سامنے لانے میں روکنےمیں یا تاخیر کرنے میں کامیاب رہے۔ اور پھر اس کے واضح طور پر خوفناک نتائج کے ساتھ عشروں تک ضابطے اور قانونی چارہ جوئی کے مقدمات میں تاخیر ہوئی۔
ہم نے ہل اور نولٹن سے تمباکو کمپنیوں کے لیے اس کے کام کے بارے میں پوچھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک بیان میں ، ایکسن موبل نے بی بی سی کو بتایا کہ ' ماحولیات میں تبدیلی پر کمپنی کے تحقیق کے بارے میں الزامات غلط اور گمراہ کن ہیں'۔
'ہم نے چالیس سالوں تک حکومتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت میں ماحولیاتی سائنس کی ترقی کی حمایت کی ہے۔ یہ کام آج بھی کھلے اور شفاف طریقے سے جاری ہے'۔
ایکسن موبل نے مزید کہا کہ اس نے حال ہی میں نیویارک کے اٹارنی جنرل کے ذریعہ عائد عدالتی مقدمے میں کامیابی حاصل کی ہے جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے ماحولیاتی تبدیلی کے ضوابط کے اخراجات کے لیے کمپنی کا دھوکہ دہی سے محاسبہ کیا ہے۔
لیکن ڈیوڈ مائیکل جیسے ماہر تعلیم کو خدشہ ہے کہ ماضی میں غیر یقینی صورتحال سے عوام کو الجھانے اور سائنس کو کمزور کرنے کا کا جو طریقہ تھا اس نے آج پوری دنیا میں حقائق اور ماہرین پر اعتماد کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو موسمیاتی سائنس یا تمباکو کے خطرات سے زیادہ ہے۔
انہوں نے جدید مسائل جیسے 5 جی ، حفاظتی ٹیکے اور کورونا وائرس جیسے معاملات میں عوامی رویوں کا حوالہ دیا۔
'سائنسی ثبوتوں کو گھماؤ پھراؤ اور مسخ کرکے شک کے مینوفیکچررز نے عوام کے بیشتر حصے میں سائنس کے بارے میں بد نظمی اور عدم اعتماد پیدا کیا ہے جس سے لوگوں کو یہ باور کرنا زیادہ مشکل ہوگیا ہے کہ سائنس مفید انفارمیشن مہیا کرتا ہے کچھ معاملات میں انتہائی اہم معلومات۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سائنس اور سائنس دانوں پر اس عدم اعتماد سے کورونا وائرس جیسی وبائی بیماری کو روکنا زیادہ مشکل ہو رہا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ دی تمباکو پلے بُک' کتاب کی میراث ابھی باقی ہے