آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پے لیٹر: ایپل آپ کو اپنی مصنوعات اُدھار پر کیوں دینا چاہتا ہے؟
- مصنف, رجت رائے
- عہدہ, دی کنورسیشن
ایپل نے ’بائے ناؤ پے لیٹر‘ (یعنی ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں) کے کاروبار میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ’ایپل پے لیٹر‘ نامی سروس متعارف کرائی ہے۔
اس سروس کے آغاز کا اعلان رواں ہفتے کی ابتدا میں ایپل کی ’ورلڈ وائیڈ ڈویلپرز کانفرنس 2022‘ میں کیا گیا اور اسے ابتدائی طور پر اس سال کے آخر میں امریکہ میں شروع کیا جائے گا۔
پے لیٹر کو ایپل والٹ ایپ میں ضم کر دیا جائے گا اور اسے ایپل پے کے ذریعے کی جانے والی کسی بھی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ صارفین خریداری کی رقم کو چار برابر ادائیگیوں (یعنی چار قسطوں) میں تقسیم کر سکیں گے اور بغیر سود یا کمیشن کے چار ماہ کی مدت میں مکمل رقم ادا کر سکتے ہیں۔
تاہم ایپل پہلے ان صارفین کی سافٹ کریڈٹ چیک کرے گا (یعنی کریڈٹ ہسٹری کی جانچ کی جائے گی) جو سروس استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ ایپل نے یہ فیچر صارفین کی ’مالی صحت‘ ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کی ہے۔ ایپل ممکنہ طور پر کنزیومر فنانس کی دنیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور اپنے منافع کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم صارفین کو اس نئی سروس کے استعمال کے خطرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
ایپل صارفین کا پسندیدہ برانڈ
پے لیٹر کی سروس سے اب ایپل اس شعبے کی دیگر مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مدمقابل ہو گا۔ اس میں پے پال، بلاک، کلارنا اور آفٹر پے شامل ہیں۔ ایپل کے اعلان کے بعد ان میں سے کچھ کمپنیوں کے شیئر کی قدر میں کمی آئی ہے۔
اس سے ایپل اپنی بڑی مارکیٹ اور برانڈ کی طاقت سے فائدہ اٹھائے گا اور لاکھوں لوگوں کو اپنی مصنوعات اور سروسز کی طرف راغب کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے ایپل ان صارفین کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے جو اسے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کمپنی صارفین کے پسندیدہ برانڈز میں سے ایک ہے۔
ایپل نے ایک مسلسل بڑھتا ہوا ماحولیاتی نظام بھی قائم کیا ہے جہاں صارفین کو ایپل کی مصنوعات اور سروسز تک رسائی حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ مثلاً بینک کارڈ کے بجائے اپنے آئی فون کے ذریعے ادائیگی کرنے کا فیچر۔
یہ بڑی ٹیک کمپنی پہلے ہی سمارٹ فون اور سمارٹ واچ کی دنیا میں قدم جما چکی ہے اور اس کی مصنوعات میں صارفین کے تجربے کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ پے لیٹر کے فیچر سے صارفین کا تجربہ مزید بہتر ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا طریقہ ہے کہ صارفین ایک ہی ماحولیاتی نظام میں ان تمام ٹولز کو ضم کر سکتے ہیں جن کی انھیں ضرورت ہے۔
اس میں ایپل کا کیا فائدہ؟
ایپل پے لیٹر کے ذریعے کمپنی بڑا مالی فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔ آئی فون کے ذریعے کی گئی ادائیگی کو امریکہ میں 85 فیصد ریٹیلرز قبول کرتے ہیں۔
سنہ 2021 کے سروے سے پتا چلا ہے کہ آسٹریلیا میں تقریباً 26 فیصد آن لائن خریدار ’بائے ناؤ پے لیٹر‘ کی سروس استعمال کرتے ہیں۔
چونکہ ایپل کے صارفین تیزی سے پے لیٹر سروس کا استعمال کرنا شروع کر رہے ہیں تو اس سے کمپنی کو مرچنٹ فیس سے فائدہ پہنچے گا۔ یہ فیس ریٹیلر ایپل کو ادا کرتے ہیں تاکہ وہ صارفین کو ایپل پے کی سروس فراہم کر سکیں۔
کمپنی صارفین کی خریداری کی سوچ کے بارے میں بھی قیمتی رائے حاصل کرے گی جس سے وہ ان کی مستقبل کی ترجیحات اور اخراجات کا اندازہ لگا سکے گی۔
پے لیٹر کی سروس پیش کرنے کے لیے ایپل نے گولڈمین سیکس کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ یہ کمپنی قرضوں کی مالی اعانت کرے گی۔ یہ تعلق 2019 سے قائم ہے۔ گولڈ مین سیکس نے ایپل کے کریڈٹ کارڈ کے لیے ایک پارٹنر کے طور پر کام کیا ہے (حالانکہ پے لیٹر اس کارڈ سے منسلک نہیں)۔
یہ ایک سٹریٹجک شراکت داری ہے جس نے ایپل کو کنزیومر فنانس کی دنیا میں مضبوط قدم جمانے میں مدد کی ہے۔
صارفین کے لیے چیلنجز
حقیقت یہ ہے کہ غیر منظم مالیاتی دنیا میں ابھی پے لیٹر کی سروس دستیاب ہے مگر یہ ہر صارف کے لیے اچھا فیچر نہیں۔
کم عمر اور کم آمدن والے لوگ ان خدمات کے استعمال سے منسلک خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان پر پہلے سے موجود قرض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایسی سکیمز کو جدید مصنوعات اور لگژری اشیا کی خواہش سے چلایا جا سکتا ہے، جس میں کسی مارکیٹنگ مہم کے ذریعے لوگوں کی پذیرائی بڑھائی جا سکتی ہے۔ صارفین میں یہ عدات ڈالی جا سکتی ہے کہ وہ نقد رقم نہ ہونے کے باوجود باآسانی خریداری کر سکیں۔
نفسیات کے نقطہ نظر سے ایسی سروسز صارفین میں فوری تسکین کو فروغ دیتی ہیں اور نوجوانوں کو بار بار خریداری پر اُکساتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ خریداری پر اپنی جیب سے زیادہ رقم خرچ کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف اگر کوئی صارف پے لیٹر فیس ادا نہیں کرتا ہے، تو یہ ان کی کریڈٹ ریٹنگ پر منفی اثر ڈالے گا۔ اس سے روایتی قرضوں یا کریڈٹ کارڈز کے لیے درخواست پر منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
صارفین ’ملکیت کے اثر‘ میں مبتلا ہو سکتے ہیں، یعنی ایک چیز خرید کر اس کے بارے میں مثبت رائے رکھنا یہ اصطلاح اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لوگ اپنی خریداریوں سے منسلک ہو سکتے ہیں اور انھیں لوٹاتے نہیں، چاہے وہ اس کی ادائیگی نہ کر سکیں۔
ٹیکنالوجی میں برتری اور صارفین پر مرکوز مارکیٹنگ ایپل کو دیگر سکیمز پر برتری دے سکتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نئی سروس صارفین کی مالی صحت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کی گئی ہے۔
مگر ایسی تمام سروسز میں یہی مسئلہ ہے اور صارفین کو ان کے خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے اور انھیں دھیان سے استعمال کرنا چاہیے۔
*یہ مضمون پہلے ویب سائٹ دی کنورسیشن میں شائع ہوا۔ رجت رائے آسٹریلیا کی بانڈ بزنس سکول کے پروفیسر ہیں۔