ایٹمز کے ملاپ سے 11 میگاواٹ بجلی کے حصول کا کامیاب تجربہ مستقبل کیسے بدل سکتا ہے؟

    • مصنف, جوناتھن ایموس
    • عہدہ, بی بی سی سائنس رپورٹر

یورپی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ایٹمز کے ملاپ سے توانائی پیدا کرنے کی کوشش میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر فیوژن کے عمل کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کا یہ طریقہ قابلِ عمل بھی ہے۔

واضح رہے کہ ستاروں کی روشنی اور حدت نیوکلیئر فیوژن کے عمل کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ اس عمل میں ایک سے زیادہ ایٹم ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں جس کے باعث توانائی کا گرمائش اور روشنی کی صورت میں اخراج ہوتا ہے۔

اگر ہم زمین پر نیوکلیئر فیوژن کامیابی سے انجام دے پائیں تو اس سے ہمیں ایسی تقریباً لامحدود توانائی حاصل ہو سکتی ہے جس میں کاربن اور تابکاری کا اخراج کم سے کم ہو گا۔

برطانیہ کی جیٹ لیبارٹری نے ہائیڈروجن کی دو اقسام کو ایک دوسرے سے ضم کر کے توانائی پیدا کرنے کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

اس تجربے کے ذریعے پانچ سیکنڈ سے کچھ زیادہ وقت کے لیے 59 میگاجولز توانائی حاصل کی گئی جو تقریباً 11 میگاواٹ کے برابر ہے۔

سنہ 1997 میں کیے گئے ایسے ہی تجربات کے مقابلے میں یہ دو گنا سے بھی زیادہ توانائی ہے۔

یہ توانائی بہت زیادہ بھی نہیں ہے۔ اس سے صرف 60 کیتلی پانی ہی ابالا جا سکتا ہے۔ مگر یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس تجربے نے فرانس میں زیرِ تعمیر ایک بڑے فیوژن ری ایکٹر کے ڈیزائنز کو قابلِ عمل ثابت کر دیا ہے۔

جیٹ لیبارٹری میں ہیڈ آف آپریشنز ڈاکٹر جو ملنیس نے کہا: ’جیٹ تجربات ہمیں فیوژن سے توانائی کے حصول کے ایک قدم اور قریب لے گئے ہیں۔ ہم نے اپنی مشین کے اندر ایک چھوٹا سا ستارہ بنا کر اور اسے پانچ سیکنڈ تک قائم رکھ کر بہترین کارکردگی حاصل کر دکھائی ہے جس نے ہمیں ایک بالکل نئی جگہ پہنچا دیا ہے۔‘

جنوبی فرانس میں انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیریمینٹل ری ایکٹر (آئی ٹی ای آر) کو دنیا کے متعدد ممالک بشمول یورپی یونین کے رکن ممالک، امریکہ، چین اور روس کی مدد حاصل ہے۔

اسے رواں صدی کے دوسرے نصف تک نیوکلیئر فیوژن کو توانائی کا قابلِ بھروسہ ذریعہ ثابت کرنے میں آخری مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

مستقبل میں فیوژن کی مدد سے چلنے والے بجلی گھر کسی قسم کی گرین ہاؤس گیسز خارج نہیں کریں گے جبکہ ان سے ایسے تابکار فضلے کی بہت کم مقدار خارج ہو گی جو تھوڑے ہی عرصے میں ختم ہو جائے گی۔

جیٹ لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹیو افسر پروفیسر ایئن چیپمین نے کہا: ’ہم نے جو تجربات مکمل کیے ان کا کامیاب ہونا بہت ضروری تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمیں حقیقی تشویش ہوتی کہ کیا آئی ٹی ای آر اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا یا نہیں۔‘

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس پر بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا اور ہم نے جو حاصل کیا، وہ ان لوگوں کی ذہانت اور سائنس پر ان کے بھروسے کی مدد سے ہو پایا ہے۔'

موجودہ جوہری بجلی گھر ایٹمز کو توڑ کر ان سے توانائی اور گرمائش حاصل کرتے ہیں جبکہ فیوژن میں دو ایٹمز کے مرکزوں کو ایک دوسرے میں ضم کر کے توانائی حاصل کرتے ہیں۔

سورج کے مرکز میں کششِ ثقل کے بے پناہ دباؤ کے باعث ایٹمز کا یہ انضمام ایک کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ پر ہی ہو جاتا ہے تاہم زمین پر اس سے کہیں کم دباؤ والے حالات میں ایسا ہونے کے لیے 10 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت درکار ہو گا۔

اس وقت ہمارے پاس ایسا کوئی مادہ موجود نہیں جو اس قدر گرمی برداشت کرے چنانچہ لیبارٹری میں فیوژن ردِ عمل کروانے کے لیے سائنسدانوں نے ایک طریقہ بنایا ہے جس میں بے انتہا گرم گیس (پلازما) کو ڈونٹ کی شکل کے ایک مقناطیسی میدان میں رکھا جاتا ہے۔

برطانیہ کے شہر آکسفورڈشائر میں قائم جیٹ لیب تقریباً 40 سال سے اس طریقے کے ذریعے ایٹمز کا فیوژن کروا رہی ہے اور گذشتہ 10 برسوں سے اسے آئی ٹی ای آر کے متوقع سسٹم کی نقل کے طور پر ڈھال دیا گیا ہے۔

تجزیہ: راجر ہیرابن، ماہرِ ماحولیات

فیوژن ردِ عمل کے بارے میں یہ نئی خبر بہت زبردست ہے تاہم اس سے ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں زیادہ مدد نہیں ملے گی۔

اب بھی اس حوالے سے غیر یقینی ہے کہ توانائی کا یہ ذریعہ کب تک تجارتی بنیادوں پر دستیاب ہو گا۔ ایک اندازہ ہے کہ ایسا 20 برس تک ہی ہو پائے گا تاہم اس کے بعد اسے بتدریج ہماری ضروریات پوری کرنے کے لیے وسیع کرنا پڑے گا جس میں شاید مزید کچھ دہائیاں لگ جائیں۔

اور پھر مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کاربن سے پاک توانائی کی فوری ضرورت ہے۔ برطانیہ میں پہلے ہی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ سنہ 2035 تک برطانیہ میں تمام توانائی صفر کاربن اخراج پر مبنی ہو گی جس کا مطلب مزید جوہری اور قابلِ تجدید توانائی، اور توانائی کو ذخیرہ کرنے کی مزید صلاحیتوں کا حصول ہے۔

اور جیسا کہ میرے ساتھی جوناتھن ایموس کا کہنا ہے کہ 'فیوژن ہمیں سنہ 2050 تک صفر کاربن اخراج کا مقصد حاصل کرنے میں مدد نہیں دے گا بلکہ یہ رواں صدی کے دوسرے نصف میں ہمارے معاشرے کو توانائی فراہم کرنے کا طریقہ ہے۔

پلازما بنانے کے لیے فرانسیسی لیبارٹری کا ترجیحی مواد ہائیڈروجن کی دو اقسام یا آئسوٹوپس ڈیوٹیریئم اور ٹرائیٹیئم پر مبنی ہے۔

جیٹ سے کہا گیا تھا کہ 80 مکعب میٹر کے اس ڈونٹ کی شکل کے کنٹینر کی اندرونی ساخت ایسی بنائی جائے جو ہائیڈروجن کے ان ایٹمز کے ساتھ مل کر اچھے سے کام کر سکے۔

سنہ 1997 میں اپنے ریکارڈ توڑ تجربات کے لیے جیٹ نے کاربن کا استعمال کیا مگر کاربن ٹرائیٹیئم کو جذب کر لیتا ہے جو تابکار مادہ ہے۔

چنانچہ تازہ ترین تجربات کے لیے اس کنٹینر کی اندرونی پرتیں بیریلیئم اور ٹنگسٹین کی دھاتوں سے بنائی گئی تھیں۔ یہ کاربن کے مقابلے میں 10 گنا کم ٹرائیٹیئم جذب کرتی ہیں۔

جیٹ کی سائنسی ٹیم کو پھر اپنے پلازما کو اس حساب سے ڈھالنا پڑا تاکہ وہ اس ماحول میں ٹھیک سے کام کر سکے۔

کتاب دی سٹار بلڈرز کے مصنف ڈاکٹر آرتھر ٹریل کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک حیران کُن نتیجہ ہے کیونکہ وہ تاریخ میں جوہری فیوژن کے کسی بھی آلے کے مقابلے میں سب سے زیادہ توانائی حاصل کر پائے۔‘

'یہ اس لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس تجربے میں پلازما پانچ سیکنڈ سے زیادہ دیر تک مستحکم رہا۔

’یہ سننے میں اتنے زیادہ نہیں لگتا پر اگر ایٹمز کی سطح پر بات کریں تو یہ بہت لمبا دورانیہ ہے۔ پھر اسے پانچ سیکنڈز سے پانچ منٹ یا پھر پانچ گھنٹوں، یا اس سے بھی زیادہ تک طول دینا بہت آسان ہے۔'

جیٹ لیبارٹری یہ کام اس سے زیادہ دیر تک کر بھی نہیں سکتی کیونکہ اس کے تانبے کے بنے الیکٹرومیگنٹس بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ آئی ٹی ای آر میں اندرونی کولنگ کی صلاحیت رکھنے والے سپرکنڈکٹنگ مقناطیس استعمال کیے جائیں گے۔

اس لیبارٹری میں فیوژن ردِ عمل کروانے میں اس سے کہیں زیادہ توانائی لگتی ہے جتنی کہ ہم اس سے واقعتاً حاصل کر پاتے ہیں۔ یہاں ان تجربات کی خاطر 500 میگاواٹ کے دو فلائی وہیل استعمال کیے جاتے ہیں۔

مگر ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ خسارہ مستقبل میں پورا کیا جا سکے گا۔ آئی ٹی ای آر میں موجود کنٹینرز جیٹ میں موجود کنٹینرز کے مقابلے میں 10 گنا بڑے ہوں گے۔ اُمید کی جا رہی ہے کہ فرانس توانائی کے استعمال اور حصول کی مقدار کو برابر کر لے گا۔

اس کے بعد جو کمرشل بجلی گھر وجود میں آئیں گے وہ استعمال کے مقابلے میں زیادہ توانائی پیدا کریں گے جو پھر گرڈز کو فراہم کی جا سکے گی۔

مگر یہ ایک طویل مرحلہ ہے اور اہم بات یہ ہے کہ جیٹ پر کام کرنے والے 300 کے قریب سائنسدانوں کی چوتھائی تعداد اپنے کریئرز کی شروعات میں ہے یعنی اُنھیں یہ تحقیق آگے بڑھانی ہو گی۔

ڈاکٹر اتھینا کپاتو اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’فیوژن بہت وقت لیتا ہے۔ یہ پیچیدہ بھی ہے اور مشکل بھی۔ اس لیے ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ ایک نسل سے دوسری تک ہمارے پاس ایسے سائنسدان، انجینیئرز اور تکنیکی لوگ موجود ہوں جو چیزوں کو آگے بڑھا سکیں۔‘

مگر اب بھی کئی تکنیکی چیلنجز موجود ہیں۔ یورپ میں ان چیلنجز پر یوروفیوژن کنسورشیئم کام کر رہا ہے جس میں یورپی یونین، سوئٹزرلینڈ اور یوکرین سے پانچ ہزار کے قریب سائنسدان اور انجینیئرز شامل ہیں۔

برطانیہ بھی اس منصوبے کا شریک ہے مگر آئی ٹی ای آر میں اس کی مکمل شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ برطانیہ خود کو یورپی یونین کے چند سائنسی پروگرامز سے ’منسلک‘ کرے۔

مگر بریگزٹ کے بعد تجارت کے معاہدوں بالخصوص شمالی آئرلینڈ سے متعلق معاہدوں پر عدم اتفاق کے باعث اب بھی برطانیہ ان تجربات سے دور ہے۔

ممکنہ طور پر سنہ 2023 میں جیٹ کو غیر فعال کر دیا جائے گا جس کے بعد سنہ 2025 میں آئی ٹی ای آر میں پلازما پر تجربات شروع ہوں گے۔