آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سری لنکا کا ’نوجوان انجینیئر‘: 15 سالہ لڑکا جس نے کباڑ اور دھاتی ٹکڑوں سے شمسی توانائی پر چلنے والا ٹُک ٹک رکشہ بنا لیا
’میں سری لنکا میں رہتا ہوں اور یہ میرا شسمی توانائی پر چلنے والا تین پہیوں کا ٹُک ٹُک (رکشہ) ہے۔‘
سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ نوعمر لڑکے نے کورونا لاک ڈاؤن کا وقت شمسی توانائی سے چلنے والا ٹُک ٹُک بنانے میں گزارا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ سنتھرلنگم پیرانوان نے اسے بنانے کے لیے بچے کچے دھاتوں کے ٹکڑے استعمال کیے - اور یہ ٹُک ٹُک چلتا بھی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس تین پہیوں والے ٹک ٹک کو بنانے میں انھیں تقریباً آٹھ مہینے لگے۔
وہ کہتے ہیں ’میرے جیسے اور بھی کافی لوگ ہوں گے۔ آپ بھی بچی کچی اشیا سے کچھ بنانے کی کوشش کریں۔۔۔ یہ بہت زبردست کام ہے اور کووڈ کے دوران اس طرح کے کاموں میں مگن رہنے سے آپ ذہنی تناؤ کا شکار بھی نہیں ہوتے۔‘
تاہم یہ پیرانوان کی پہلی ایجاد نہیں ہے۔ اس سے پہلے وہ شمسی توانائی پر چلنے والی سائیکل بنا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ناریل کو درخت سے توڑنے والی مشین اور ناریل کھرچنے والی مشین بھی بنا چکے ہیں۔
پیرانوان کے دادا، دریسامی سپئیا ان کے سب سے بڑے مداح ہیں اور حمایتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریسامی سپئیا بتاتے ہیں کہ ’ہم نے ایسی سیکنڈ ہینڈ دکانوں سے جو استعمال شدہ اشیا فروخت کرتی ہیں، گریڈر (فریم)، ہینڈل اور پہیے خریدے، کیونکہ ہم نئی اشیا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔‘
سپئیا بتاتے ہیں کہ یہاں دھاتوں کے ٹکڑوں کی قیمت 100 سری لنکن روپے (0.50 ڈالر) فی کلوگرام ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جو چیزیں ہمیں ضرورت تھیں اتنی ہم نے استعمال کیں اور باقی اسی دکان کو فروخت کر دیں تاکہ لاگت کم ہو سکے۔‘
پیرانوان اب اس سے بھی بڑے پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ اب وہ شمسی توانائی پر چلنے والی کار بنانا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر حکومت یا کچھ لوگ اس کام میں میری مدد کر سکیں تو بہت اچھا ہو گا۔‘