آسٹریلیا: کہکشاں میں ’پراسرار‘ شے کا انکشاف کرنے والے 20 برس کے نوجوان طالب علم ٹائرن اوڈوہرٹی کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہICRAR/Curtin
جب ٹائرن اوڈوہرٹی نے آسٹریلیا کے انٹرنیشنل سینٹر فار ریڈیو آسٹرونومی ریسرچ (آئی سی آر اے آر) میں بطور ایک انڈر گریجویٹ طالب علم کے شمولیت اختیار کی تو ان کا بنیادی مقصد کائنات میں ریڈیو لہروں کی تحقیقات میں مدد کے لیے ایک کمپیوٹر پروگرام ڈیزائن کرنا تھا۔
لیکن اس کے بجائے انھیں نومبر 2020 میں ہماری کہکشاں میں ایک نامعلوم گھومتی ہوئی چیز نظر آئی۔ کئی ماہ کی تحقیق کے بعد اس دریافت کا اعلان بالآخر اس جنوری میں سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا۔
22 سال کے اوڈوہرٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں صرف کچھ کوڈ لکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور واقعی مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی دلچسپ چیز سامنے آ جائے گی۔‘
وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اور اس نے مجھے اعزاز کے ساتھ گریجویٹ ہونے میں بھی مدد دی، لہذا کوئی شکایت نہیں۔‘
بعد میں جب سائنسدانوں نے اس کا بغور جائزہ لیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہر 18 منٹ کے بعد اس سے ریڈیائی لہروں کی ایک بارش ہوتی دیکھی جو ایک منٹ تک جاری رہی۔
یوں تو خلا میں توانائی خارج کرنے والے اجسام کے بارے میں اکثر سننے میں آتا ہے لیکن آسٹریلوی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ چیز بہت ہی عجیب تھی جو ایک منٹ کے لیے چالو ہو جاتی ہے اور پھر رک جاتی ہے۔
ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ اس معمے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے شہر پرتھ سے بات کرتے ہوئے اوڈوہرٹی نے کہا کہ ان کا ایک ایسی تکنیک تیار کرنے کا ارادہ تھا جو خلا میں موجود ’ٹرانسینٹس‘ چیزوں کا پتہ لگا سکے، یہ چیزیں جلتی بھجتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے پاس ممکنہ امیدواروں کی ایک لمبی فہرست تھی لیکن وہ انھیں تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
اب انھیں ایک ایسی چیز تلاش کرنے کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے جس کے بارے میں آئی سی آر اے آر کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ’ایسی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی‘ اور ماہر فلکیات کے لیے یہ ایک ’پراسرار‘ دریافت ہے۔

،تصویر کا ذریعہTyrone O'Doherty
یہ چیز کیا ہے؟
جب یہ چیز دریافت کی گئی تو اس وقت اوڈوہرٹی کی عمر صرف 20 سال تھی۔ ان کے مطابق اس چیز کے بارے میں دو نظریات ہیں کہ یہ کیا ہو سکتی ہے۔
ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہ ایک سفید بونا ہے۔ یہ اصطلاح عموماً کسی تباہ ہونے والے ستارے کی باقیات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ ایک میگنیٹار ہو سکتا ہے، ایک قسم کے نیوٹران ستارے کی قسم ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس ایک اپنی انتہائی طاقتور مقناطیسی فیلڈ ہوتی ہے۔
اوڈوہرٹی کہتے ہیں کہ ’لیکن جس طرح کی چیز حرکت کر رہی ہے اس نے ماہرین فلکیات کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ ہر 18 منٹ میں ایک پورے منٹ کے لیے متواتر ریڈیو انرجی کے برسٹ پھینکتی ہے۔
کائنات میں توانائی خارج کرنے والی بڑی چیزیں ہیں لیکن کوئی ایسی چیز جو صرف ایک منٹ کے لیے آن ہوتی ہے وہ انتہائی غیر معمولی ہے۔
’ہر برسٹ کے درمیان کا وقت بھی بہت غیر معمولی ہے۔‘ لہذا ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی بالکل ہی نئی آفاقی چیز ہو۔
کیا یہ چیز ہمارے لیے خطرناک ہو سکتی ہے؟
اوڈوہرٹی مانتے ہیں کہ دریافت کے حالات کا موازنہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلیکس کی طنزیہ فلم ’ڈونٹ لک اپ‘ سے کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک نوجوان فلکیات دان ایک کومٹ یا دم دار ستارہ دریافت کرتا جو ہمارے سیارے کے ساتھ تصادم کے راستے پر ہے۔
لیکن آسٹریلیائی نوجوان کہتے ہیں کہ یہاں موازنہ ختم ہو جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ چیز ہم سے ٹکرائے گی اور تشویش کی بھی کوئی وجہ نہیں۔‘
اوڈوہرٹی بتاتے ہیں کہ پراسرار چیز تقریباً 4000 نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔
اوڈوہرٹی بتاتے ہیں کہ ’ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کر سکتی ہے اور روشنی کی رفتار کائنات میں سفر کرنے کی ممکنہ سب سے تیز رفتار ہے۔‘
’یہ چیز روشنی کی رفتار کے کہیں قریب بھی سفر نہیں کر رہی ہو گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
کیا یہ کوئی خلائی مخلوق تو نہیں؟
اوڈوہرٹی کہتے ہیں کہ ’ابتدائی طور پر یہ سوچنا کہ یہ کوئی خلائی مخلوق ہو سکتی ہے ایک جائز سوال ہے۔‘
ماہر فلکیات کہتے ہیں کہ ایک ریڈیو سگنل جو ایک ہی فریکوئنسی پر ایک ہی وقفے کے بعد دہرایا جاتا ہے ’اس کے بہت قریب ہے جو ہم خلائی مخلوق سے دیکھنے کی توقع کرتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت مشہورِ زمانہ سرچ فار ایکسٹرا ٹیریسٹریل انٹیلیجنس (ایس ای ٹی آئی) پراجیکٹ کائنات میں بالکل اسی قسم کے سگنل کی تلاش کر رہا ہے۔
اوڈوہرٹی کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ مزید تجزیے سے ’یہ واضح ہو گیا ہے‘ کہ ہمیں ابھی کوئی خلائی مخلوق نہیں ملی۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سگنل کو کئی فریکوینسیوں پر دیکھا گیا ہے۔
اوڈوہرٹی کے مطابق ایک اور ثبوت یہ ہے کہ اس پراسرار چیز سے آنے والے سگنل کی طرح کا ایک سگنل پیدا کرنے کے لیے درکار توانائی صرف ایک قدرتی ذریعہ ہی پیدا کر سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ سگنل میں ایسا کوئی مواد نہیں جو ہمیں موصول ہوا ہو ’لہذا میں تصدیق کرتا ہوں کہ سگنل خلائی مخلوق نے نہیں بھیجا۔‘
ماہرین فلکیات اتنے پرجوش کیوں ہیں؟
اوڈوہرٹی کہتے ہیں کہ ماہرین فلکیات کسی بھی غیر متوقع عمل پر متحرک ہو جاتے ہیں اور یہ چیز یقینی طور پر ایک خاص اشارہ کرتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مثال کے طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ عام نیوٹرون ستاروں کے مقابلے میں بہت آہستہ گھومتی ہے۔‘
’کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے، جو ایک دلچسپ چیز ہے۔‘
ٹائرن سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کر رہے تھے جس کی قیادت خلائی طبیعات کی ماہر ڈاکٹر نتاشا ہرلی واکر کر رہی تھیں جو کرنٹن یونیورسٹی کے خلائی تحقیق کے شعبے سے منسلک ہیں۔
خلائی تحقیق کے اس مرکز کے مطابق ڈاکٹر نتاشا کا کہنا تھا کہ ’ان چند گھنٹوں کے دوران جب ہم آسمان میں اس کا مشاہدہ کر رہے تھے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے کبھی یہ شے سامنے آ جاتی ہے اور پھر غائب ہو جاتی ہے۔‘
’یہ مشاہدہ بہت ہی غیر متوقع تھا۔ (ہم جیسے) ماہرین فلکیات کے لیے یہ ایک پراسرار شے تھی کیونکہ ہمارے آسمان میں ایسی کوئی شے نہیں جو یوں کرتی ہو۔‘
ڈاکٹر نتاشا کہتی ہیں کہ ماہرین کے لیے کائنات میں ایسے اجسام کوئی نئی شے نہیں جو جلتے بجھتے رہتے ہیں، انھیں ’ٹرانزیئنٹ‘ کہا جاتا ہے لیکن ڈاکٹر جیما اینڈرسن کا کہنا تھا کہ ’ایک ایسی شے جو پورا ایک منٹ جلتی رہے اور پھر بجھ جائے یہ ’بہت ہی عجیب‘ مشاہدہ تھا۔‘
یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں کے اعدادوشمار کا بغور جائزہ لینے کے بعد ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ ہے کہ مذکورہ خلائی شے زمین سے تقریباً چار ہزار شمسی سال دور ہے، اس سے نکلنے والی روشنی انتہائی تیز ہے اور اس شے کے ارد گرد ایک نہایت طاقتور مقناطیسی حصار پایا جاتا ہے۔ ‘
اس پراسرار شے کے بارے میں کئی نظریات ہو سکتے ہیں، شاید یہ ایک نیوٹران ستارہ ہو یا کوئی پست قد کا ستارہ۔ پست قد ستارہ کی اصطلاح ان ٹکڑوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کسی بڑے ستارے کے اپنے اندر ٹوٹنے کی صورت میں باقی بچتے ہیں تاہم ابھی تک اس نئی خلائی شے کی دریافت بڑی حد تک ایک معمہ ہی ہے۔
ڈاکٹر نتاشا ہرلی واکر کے بقول اگر مستقبل میں یہ چیز پھر دکھائی دیتی ہے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا یا آسمان میں اس قسم کے دیگر خلائی اجسام بھی پائے جاتی ہیں۔‘
’میری خواہش ہے کہ ہم اس شے کو مزید سمجھ سکیں اور پھر اس قسم کے دیگر اجسام کی تلاش جاری رکھ سکیں۔‘









