ڈارک ویب پر منشیات فروشی کا دھندہ امریکہ اور یورپ میں جڑیں کیسے مضبوط کر رہا ہے؟

ٹوریز (Torrez) بظاہر شاپنگ کی عام سی ویب سائٹ نظر آتی ہے جس پر ہزاروں مصنوعات برائے فروخت ہیں۔ ویب سائٹ پر صارفین کے تبصرے اور اُن کی ریٹنگز بھی موجود ہیں جبکہ ڈلیوری کے بارے میں معلومات اور قیمت کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی درج ہے۔

تاہم دیگر شاپنگ ویب سائٹس پر فروخت ہونے والی مصنوعات اور ٹوریز پر فروخت ہونے والی مصنوعات میں ایک فرق تھا۔

ہیروئن، کوکین، بلو پنیشر، ایکسٹیسی کی گولیاں اور اس جیسے دوسرے نشے آپ کو مشہور شاپنگ ویب سائٹس ’ایمازون‘ یا ’ای بے‘ پر نہیں ملتے مگر ٹوریز کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔

چند ہفتے قبل تک ڈارک ویب مارکیٹ میں ٹوریز وہ جگہ تھی جہاں آپ منشیات، جعلی کرنسی، ہیکنگ ٹولز اور اس جیسی دوسری اشیا خریدنے اور فروخت کرنے والوں سے رابطہ کر سکتے تھے۔

یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول ڈارک ویب مارکیٹوں میں سے ایک تھی، اور بی بی سی کی ٹیم اس ویب سائٹ کے سب سے آخری خریداروں میں سے ایک ثابت ہوئی۔

بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام کے لیے ہم نے ٹوریز پر برطانیہ میں موجود ایک منشیات فروش سے ایکسٹیسی گولیاں خریدنے کا پروگرام بنایا جس میں ہم کامیاب رہے۔

یہ ایک چشم کشا تجربہ تھا۔

عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ڈارک ویب پر منشیات خریدنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ پیزا آرڈر کرنا، مگر کرپٹوکرنسی کے ذریعے منشیات خریدنے اور فروحت کرنے والوں کے ساتھ رابطے کے لیے خفیہ زبان استعمال کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔

یہ ’سپر سٹرانگ‘ گولیاں حسبِ وعدہ چند روز میں ہم تک پہنچ گئیں۔

ایکسٹیسی کی یہ تین گولیاں بڑے ڈبے میں پیک کر کے ہمیں بھیجی گئیں۔ ’خفیہ پیکیجنگ‘ کا یہ طریقہ اس لیے اپنایا گیا تھا تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔

ایک اور منشیات فروش سے خریدی گئی کوکین ایک جعلی رسید کے ساتھ آئی جس پر جڑی بوٹیاں بیچنے والی ایک کمپنی کا نام درج تھا۔

بی بی سی نے یہ منشیات ٹیسٹ کروائیں (جو طاقت میں اس سے کم نکلیں جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا) اور پھر ایک لیبارٹری میں اس منشیات کو تلف کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق ڈارک مارکیٹ میں فروخت ہونے والی منشیات اُن کے عالمی سطح پر تجارت کا بہت معمولی حصہ ہیں، شاید ایک فیصد سے بھی کم۔ تاہم اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مگر گذشتہ برس ایک عالمی سروے نے بالکل مختلف تصویر پیش کی۔ امریکہ اور کینیڈا میں چار میں سے ایک نشہ استعمال کرنے والے فرد نے بتایا کہ وہ اپنی منشیات ڈارک ویب سے خریدتا ہے، جبکہ یورپ اور اوشیانا میں یہ تناسب چھ میں سے ایک کا تھا۔

روس میں یہ تعداد 86 فیصد تھی، فِن لینڈ اور سویڈن میں 40 فیصد، اور انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور پولینڈ میں 30 فیصد سے زیادہ تھی۔

گذشتہ برس کے دوران ڈارک نیٹ پر انگریزی زبان کی ڈرگ مارکیٹوں میں کمی واقع ہوئی ہے مگر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق ان کی کاروباری مالیت میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ڈارک ویب پر منشیات کی دنیا میں مسلسل ہلچل اور تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

بعض اوقات منشیات فروش خریداروں کی رقم لے کر غائب ہو جاتے ہیں اور ویب سائٹس بند ہو جاتی ہیں۔ یہ عمل ایگزِٹ سکیم (دھوکہ دہی سے فرار) کہلاتا ہے۔ بعض اوقات انھیں ہیک کر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھار پولیس انھیں بند کر دیتی ہے۔

مگر ان کے علاوہ ویب سائٹ ختم کرنے کے لیے ایک طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے جسے ’سن سیٹِنگ‘ یعنی غروبِ آفتاب یا ’وولینٹری ریٹائرمنٹ‘ یعنی رضاکارانہ سبکدوشی کہتے ہیں۔

گذشتہ برس ایسا وائٹ ہاؤس مارکیٹ اور کینازن نے کیا۔

پھر گذشتہ ماہ ٹوریز کی باری تھی جس نے اپنی ویب سائٹ کو بند کرنے سے پہلے ایک نوٹ پوسٹ کیا جس پر لکھا تھا کہ ’آپ میں سے بہت سے صارفین اور دکانداروں سے لین دین کر کے خوشی ہوئی۔‘

یونیورسٹی آف مونٹریال سے وابستہ ماہر جُرمیات پروفیسر ڈیوِڈ ڈیکاری کہتے ہیں کہ ’اب ایسا زیادہ ہونے لگا ہے۔ ایسی مارکیٹ بند ہونے سے پہلے نوٹ چھوڑ کر جاتی ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کما لیا، اس سے پہلے کہ پکڑے جائیں، ہم ریٹائر (کاروبار بند) ہو رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ٹوریز جیسی مارکٹیں چلانے والے ایک دن میں 1 لاکھ سے زیادہ ڈالر کمیشن کی مد میں کما لیتے ہیں۔

ایسی خبریں پولیس کے لیے ملے جلے ردعمل کا باعث بنتی ہیں۔

نیشنل کرائم ایجنسی میں ڈارک نیٹ انٹیلیجنس کے سربراہ ایلکس ہُڈسن کا کہنا ہے کہ ’مجھے ہمیشہ یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے پیشے کے غیر قانونی ہونے کا احساس ہو گیا ہے اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے مزید جاری نہیں رکھے گا۔‘

’لیکن ہم اسے ضرور قانون کی گرفت میں لائیں گے اور انھیں اپنے کیے کا حساب دینا پڑے گا۔‘

اگرچہ سن سیٹنگ کا عمل اس وقت ایک چلن بن گیا ہے، مگر بی بی سی کی تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ ایسی مارکیٹیں ایگزٹ سکیم کا ہی راستہ اپنائیں گی یعنی لوگوں کے پیسے لے کر بھاگ جائیں۔

چند قابل ذکر کامیابیوں کے باوجود پولیس کی طرف سے ایسی مارکیٹوں کے بند کیے جانے کے واقعات عام نہیں ہیں۔

مزید پڑھیے

امریکی شہری راس اُلبرِچ دو بار عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جس میں 40 برس بغیر پرول (مشروط عارضی رہائی) کے ہیں۔ ان کے خلاف سنہ 2011 سے سنہ 2013 کے درمیان ڈارک ویب پر منشیات کی سب سے بڑی مارکیٹ سِلک روڈ چلانے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

اکتوبر میں 150 مشتبہ منشیات فروش گرفتار کیے گئے تھے۔ این سی اے نے اسے اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن قرار دیا تھا جو جنوری 2021 میں ایک ویب سائٹ ڈارک مارکیٹ پر چھاپے کے نتیجے میں کیا گیا تھا۔

اس میں کئی ملکوں کی پولیس شامل تھی اور اس میں امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور دیگر ممالک میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئی تھیں۔

مگر ایسی غیر قانونی مارکیٹ پلیس کو بند کرنے کا زیادہ فائدہ اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ منشیات فروش کسی دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔

بی بی سی کی طرف سے کیے گئے ڈیٹا تجزیے کے مطابق اس وقت بھی کم سے کم 450 ایسے ڈیلرز ہیں جو پولیس کی کارروائی سے بچ گئے تھے اور اس وقت اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان میں سے ایک ڈیلر کا نام ’نیکسٹ جنریشن‘ ہے جو گذشتہ چھ برس کے دوران 21 مختلف مارکیٹ پلیسز پر نمودار ہو چکا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس جرائم پیشہ شخص یا گروہ نے اس عرصے میں 140 ہزار سے زیادہ چرس، کوکین اور کیٹامائن کے سودے کیے ہیں۔

ایک اِنکرپٹڈ ایمیل (خفیہ تحریر) میں نیکسٹ جنریشن نے لکھا کہ ’پولیس کو ایک ناممکن ہدف کا سامنا تھا۔‘

ایلکس ہُڈسن اعتراف کرتے ہیں کہ پولیس مجرموں سے ایک قدم پیچھے ہوتی ہے، مگر ان کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی اس فرق کو مٹا دے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’چند سال پہلے سے اگر مقابلے کیا جائے تو اب ہم ڈیٹا میں سے مفید معلومات زیادہ تیزی سے حاصل کرنے اور مجرموں کی نشاندہی کرنے لگے ہیں۔‘

’میرے خیال میں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم جلد بازی پلٹ دیں گے۔‘