ہیرے: سینکڑوں کلومیٹر زیرزمین سے نکلنے والے نیلے ڈائمنڈ سائنسدانوں کے لیے اتنے اہم کیوں؟

    • مصنف, ریلا سیون
    • عہدہ, بی بی سی منڈو

ہیرے اربوں سال پہلے وجود میں آئے تھے اور اُن میں سے چند ایک کی چکا چوند نے تو ہماری آنکھیں چندھیا دی ہیں۔

آج ہیرے ابدی محبت، دولت اور لگژری کی ایک علامت سمجھے جاتے ہیں۔

ماضی میں انھیں شفایاب کرنے کی خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا تھا، اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ہیروں کا استعمال دشمنوں، برائیوں اور یہاں تک کہ ڈراؤنے خوابوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے.

انڈیا میں ہیروں کا تعلق ویدک اور بعد میں ہندو دیوتاؤں سے جوڑ کر بتایا جاتا تھا۔

868 عیسوی کی روایات کے مطابق ہیرا وہ شے ہے جس کے ذریعے آپ ’دنیاوی فریب کے بتوں کو توڑ کر حقیقی اور ابدی روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

لیکن شاید ہیروں میں سب سے زیادہ دلچسپی قدیم یونانی شاعروں کی تھی، جن کے لیے ہیرے دیوتاؤں یا گرے ہوئے ستاروں کے ٹکڑوں کے آنسو تھے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج ہیروں کے بارے میں سچائی ان تمام عقائد کی طرح حیران کُن ہے۔

غیر معمولی

ہیرے اُس عنصر سے بنے ہیں جو خود زندگی کی بنیاد ہے، یعنی کاربن۔

غیر معمولی طور پر انتہائی سخت، وہ دوبارہ اُسی پریشر سے گزر سکتے ہیں جس سے وہ اپنے وجود میں آنے کے عمل کے دوران رہ چکے ہوتے ہیں۔ تاہم پھر بھی گرمی اور آکسیجن کا صحیح امتزاج ملے تو ہیرے دوبارہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی لہر کی صورت اختیار کر کے غائب ہو جائیں گے۔

غیرمعمولی چمک کے علاوہ ہیرا سب سے مضبوط میٹریل اور سب سے بہترین بھی، ایسا تھرمل کنڈکٹر جس کے گرمی میں پھیلنے کا ریٹ بھی انتہائی کم ہے، اس کے علاوہ یہ دوسرے کیمائی مواد کے ساتھ ری ایکٹ بھی نہیں کرتا، انتہائی الٹراوائلٹ سے لے کر انفراریڈ شعاعوں کا سپیکٹرم اس سے گزر سکتا ہے۔ اور یہ ان چند موادوں میں سے ایک ہے جو الیکٹروں کو قبول نہیں کرتے۔

ہیرے قدرتی طور پر زمین پر کچھ جگہوں پر بنتے ہیں: براعظمی کریٹون کی گہرائی میں یا الکا کے زیرِ اثر علاقوں میں۔

یہ تاریخی طور پر ایک دھماکہ خیز انداز میں سطح پر آتے ہیں، ایسا انداز جو دکھنے میں بہت عجیب ہے اور اس آتش فشاں جیسا جس کی جڑیں کرہ ارض میں انتہائی گہری ہوتی ہے۔

تمام ہیرے شفاف یا قدرے طور پر پیلے یا بھورے نہیں ہوتے، جیسا کہ ہم عام طور پر سمجھتے ہیں۔

یہ رنگین بھی ہوتے ہیں اور انھیں ’فینٹاسی‘ پکارا جاتا ہے: سرخ، نیلا اور سبز سب سے نایاب رنگ ہیں اور نارنجی، جامنی، پیلا، زرد اور سبز سب سے زیادہ عام رنگ ہیں۔

لیکن ایک بار بننے کے بعد، ہیرے اپنے کرسٹل لائن ڈھانچے میں موجود کسی بھی معدنیات کو محفوظ کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں، جو سائنسدانوں کو زمین کی تہوں میں موجود معدنیات کے ایک خاص نمونے کے ساتھ ساتھ اور سیارے کی سطح زمین سے میلوں نیچے حالات کی ایک جھلک فراہم کرتے ہیں۔

اور اس لحاظ سے، نیلا ہیرا غیر معمولی ہے۔

انتہائی دلچسپ

زیادہ تر ہیرے زمین کے نیچے تقریباً 150 کلومیٹر کی گہرائی میں بنتے ہیں۔

مگر نیلے ہیرے زمین کے نچلی تہوں کی بھی چار گنا زیادہ گہرائی میں پائے جاتے ہیں۔

انھیں سنہ 2018 میں دریافت کیا گیا تھا اور جیمولوجیکل انسٹیٹیوٹ آف امریکہ کے ماہر ارضیات ایون اسمتھ۔، جو ان ہیروں پر تحقیق کے سرکردہ مصنف ہیں، نے انکشاف کیا کہ چونکہ یہ قیمتی پتھر ’بہت زیادہ مہنگے ہیں، اس لیے سائنسی تحقیقی مقاصد کے لیے ان تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔‘

یہ نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ بہت خالص ہوتے ہیں، کیونکہ جس وقت یہ بن رہے ہوتے ہیں اس وقت ان میں آس پاس موجود کسی دوسرے مواد یا غیر ہیرے والے مواد کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے شامل نہیں ہو پاتے۔

یہ خصوصیات سائنسدانوں کو مزید معلومات فراہم کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن وہ 46 نیلے ہیروں کا تجزیہ کرنے میں کامیاب رہے اور 410 اور 660 کلومیٹر گہرائی کے درمیان اُن کے مقام کا تعین کیا۔

کئی نمونوں نے یہاں تک واضح ثبوت بھی دکھائے کہ وہ زمین کے نیچے سے 660 کلومیٹر سے زیادہ دور سے آئے ہیں، یعنی اُن کی ابتدا زمین کی انتہائی نچلی پرتوں میں ہوئی۔

یہ انھیں ایک ایسے حقیقی ٹائم کیپسول اور معلومات کے کنٹینرز میں بدل دیتا ہے جسے تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

نیویارک میں امریکن میوزیم آف ہسٹری میں جیم اینڈ منرل رومز کے ماہر ارضیات اور کیوریٹر جارج ہارلو نے بی بی سی ریل کو بتایا کہ ’ہم زمین کے اندرونی حصے تک نہیں جا سکتے۔ ہیرے وہاں بنتے ہیں اور عام طور پر جو کچھ بھی نیچے ہوتا ہے اسے سمیٹ لیتے ہیں۔‘

’یہ خلائی تحقیقات کی طرح ہیں۔ آخر کار ان میں سے کچھ زمین کی سطح تک آن پہنچتے ہیں تاکہ ہم اُن پر تحقیق کر سکیں۔‘

انھوں نے ہمیں جو اشارے دیا ہے اس کی کوئی مثال؟

نیلا ہیرا، ایک معمہ

نیلے ہیرے، زیادہ عرصے تک ایک معمہ تھے کیونکہ یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اتنے خوبصورت رنگ کے کیوں ہوتے تھے۔

آخر کار اس کی وجہ پتا چلی جو یہ تھی کہ ان میں بوران کے نشانات موجود تھے، ایک میٹلائیڈ کیمیائی عنصر جو اس کے ہیرا بننے کے دوران اس کے کرسٹل جالی والے ڈھانچے میں داخل ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک بار جب اس راز سے پردہ اٹھایا گیا تو ایک اور معمہ سامنے آیا۔

اگر نیلے ہیرے زمین کی تہوں میں بنتے ہیں اور بوران کرسٹ ان میں مرتکز ہوتا ہے، تو ان ہیروں کے پاس بوران کہاں سے آیا ؟

اس جیو کیمیکل پہیلی کا جواب ہمیں اپنے سیارے کی گہرائیوں کے بارے میں بتائے گا۔

سمتھ کے زیرقیادت تحقیقی گروپ نے جو مفروضہ پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ بوران سمندر سے آیا تھا اور یہ زمین کی تہوں کی طرف اس وقت گیا جب ایک ٹیکٹونک پلیٹ دوسری کے نیچے کھسک گئی۔ اس عمل کو ’سبڈکشن‘ کہا جاتا ہے۔

خود کو پانی سے بھرپور معدنیات میں شامل کر کے، یہ سمندری تہہ کی گہرائی تک، یہاں تک کہ سمندری پلیٹ کے تہوں والے حصے تک پھیلنے میں کامیاب رہا۔

زمین کی سطح سے اتنی دوری پر پیدا ہونے والے ہیروں میں بوران کے نشانات کو دریافت کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا اس کے برعکس پانی پر مشتمل معدنیات کہیں زیادہ گہرائی میں سفر کرتی ہیں، جو کہ ایک انتہائی گہرے ہائیڈرولوجیکل سائیکل کے امکان کی نشاندہی کرتی ہے۔

جیسا کہ ہارلو کہتے ہیں، نیلے ہیرے ’نہ صرف خوبصورت اور نایاب ہیں، بلکہ انتہائی دلچسپ ہیں۔ یہ ہمیں اپنے سیارے کے بارے میں بہت کچھ سکھاتے ہیں۔‘