آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سنہ 2022 میں چاند پر اتنے سارے مشنز کیوں بھیج رہے ہیں؟
سنہ 2021 میں چاند پر ایک بھی لینڈنگ نہ ہونے کے بعد رواں سال چاند پر کئی مشنز بھیجے جائیں گے۔
ناسا اپنا آرٹیمیس پروگرام شروع کرے گا اور مستقبل کے خلابازوں کے استعمال کے لیے چاند پر ساز و سامان اور رسد پہنچانے کے لیے ناسا کئی پروگرامز بھی سپانسر کر رہا ہے۔
انڈیا، جاپان، روس، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک رواں سال چاند کے لیے اپنے اپنے مشنز لانچ کریں گے۔ کئی دیگر کمپنیاں بھی رواں سال چاند پر پہنچنے کی کوشش کریں گی۔
ان تمام پروازوں میں عملے کا کوئی رکن نہیں ہو گا اور بڑی حد تک ان کا مقصد ایک دہائی سے کم عرصے میں چاند پر پائیدار انسانی آبادی کے لیے بنیادی سہولیات پیدا کرنا ہو گا۔
مگر یہ بھی حتمی مقصد نہیں ہے۔ بلکہ چاند پر خلائی سٹیشن کی تعمیر مستقبل میں سرخ سیارے مِرّیخ پر عملے کے ساتھ خلائی پروازوں کے لیے پہلا قدم ہو گا۔
یونیورسٹی آف برسٹل میں ماہرِ ایسٹروفزکس ڈاکٹر زوئی لینہارڈ کا ماننا ہے کہ رواں سال نئے ممالک کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا آغاز ہو گا۔
ان میں سے کئی مشنز کا مقصد تو چاند کا تجزیاتی مطالعہ کرنا ہو گا مگر کچھ کے مقاصد اس سے بھی بلند ہوں گے۔
ڈاکٹر لینہارڈ کہتی ہیں کہ ’کچھ مشنز نے دور تک نگاہیں مرکوز کر رکھی ہیں اور چاند پر مشنز نئی ٹیکنالوجی اور تعاون کی آزمائش کے ساتھ ساتھ اس تصور کی آزمائش بھی ہو گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو ان میں سے کون سا مشن کیا کرے گا اور چاند پر رواں سال کیا ہونے والا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
ناسا کا آرٹیمیس 1 مشن اور کیپ سٹون
ناسا کے آرٹیمیس خلائی پروگرام کا مقصد سنہ 2025 تک چاند پر انسانوں کو واپس پہنچانا ہے۔
رواں مارچ میں آرٹیمیس 1 مشن اس ہدف کے حصول کے لیے بنیادی کام کرنا شروع کرے گا۔
اس مشن میں عملہ شامل نہیں ہو گا بلکہ کمانڈر کی کرسی پر ایک پتلے کو بٹھایا جائے گا۔ یہ پتلا ناسا کے الیکٹریکل انجینیئر آرتورو کیمپوس کی شبیہ پر بنایا گیا ہے جو اپالو 13 خلائی مشن کو زمین پر کامیابی سے واپس لانے میں کلیدی کردار کے حامل تھے۔
اس پتلے کا مقصد اُس خلائی سوٹ کی آزمائش ہو گا جو آرٹیمیس کے خلاباز لانچ، زمین کی فضا میں داخل ہونے اور مشن کے دیگر اہم مقامات پر استعمال کریں گے جب خلائی جہازوں کو دباؤ، گرمی اور رگڑ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ناسا کا نیا سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) دنیا کا طاقتور ترین راکٹ یہ مشن لانچ کرے گا اور چاند کے گرد ایک اورائن خلائی جہاز کو چکر لگوائے گا تاکہ اس خلائی جہاز کے محفوظ ہونے کا تجزیہ کیا جا سکے۔
ناسا اورائن خلائی جہاز کی زمین سے فضا میں داخلے کے وقت اس کی ہیٹ شیلڈ کے آزمائش کرے گا کیونکہ اس دوران خلائی جہاز کا درجہ حرارت 2760 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
اس سال آرٹیمیس پروگرام کا ایک اور اہم حصہ بھی اگلے مرحلے میں داخل ہو گا۔
کیپسٹون یا سسلونر آٹونومس پوزیشننگ سسٹم ٹیکنالوجی آپریشنز اینڈ نیویگیشن ایکسپرییمنٹ درحقیقت آرٹیمیس پروگرام کے لیے راستے کی نشاندہی کی خاطر لانچ کیا جا رہا ہے۔
ناسا اس مائیکرویو اوون جتنی سیٹلائٹ کو مارچ 2022 میں لانچ کرے گا تاکہ چاند کے گرد ایک مدار کی آزمائش کر سکے۔ یہ سیٹلائٹ چاند کے مدار میں رہے گی اور اس کے ساتھ ہی اپنے محور پر گھومے گی۔
اس کا مقصد مستقبل کے مشنز میں خلابازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
’اصل مقصد مریخ ہے‘
اس آزمائش سے جو معلومات حاصل ہوں گی وہ آرٹیمیس پروگرام کے ایک اور اہم حصے ’دی گیٹ وے‘ کے لیے آپریشنل ماڈلز کو پرکھنے میں مدد دے گی۔
ناسا نے اسے ’چاند کے مدار میں ایک کثیر المقاصد پوسٹ قرار دیا ہے جو چاند کی سطح پر انسانوں کی طویل مدتی واپسی کے لیے ضروری مدد فراہم کرے گی۔‘
اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو سنہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد سنہ 2025 میں آرٹیمیس 3 چاند پر اترنے والا پہلا مشن بن جائے گا۔ اس مشن میں چاند پر پہلی مرتبہ کسی خاتون اور کسی سیاہ فام خلاباز کو اتارا جائے گا۔
یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا میں پلینٹری سائنسدان ڈاکٹر ہینا سارجنٹ کہتی ہیں کہ چاند پر یہ توجہ درحقیقت ایک بڑے مقصد کے تحت ہے۔ گیٹ وے مشن خلا کی گہرائیوں کے مطالعے کے لیے بھی ایک پوسٹ کا کام کر سکے گا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’چاند پر روبوٹک مشنز اس روڈ میپ میں پہلا قدم ہیں جو چاند پر خلائی سٹیشن کے قیام میں مدد دے گا اور اس کے ذریعے بالآخر مریخ پر انسانوں کو اتارا جا سکے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
انڈیا، جاپان اور امارات کے مشنز
دیگر اقوام اور کمپنیوں نے بھی رواں سال چاند پر اپنی نظریں گاڑ رکھی ہیں۔ ان میں کچھ مشنز تحقیق کریں گے اور دیگر مشنز یہاں سامانِ رسد اور آلات پہنچائیں گے۔
دو سال قبل چاند پر ایک لینڈنگ میں ناکامی کے بعد انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) اب چاند پر ایک اور مشن چندریان 3 اتارنے کی کوشش میں ہے۔ اس خلائی جہاز میں ایک چاند گاڑی اور ایک لینڈر ہو گا اور اسے 2022 کی تیسری سہ ماہی میں اتارا جائے گا۔
جاپان نے بھی رواں سال چاند کے لیے دو پراجیکٹس کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
جاپانی خلائی تحقیقاتی ادارے جاکسا نے اپریل 2022 میں چاند پر ایک لینڈر اتارنا ہے۔
سمارٹ لینڈر فار انویسٹیگیٹنگ دی مون یا سلِم نامی یہ مشن چاند پر اترنے کی درست ترین تکنیک کا مظاہرہ کرے گا اور چہرہ پہچاننے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے چاند پر موجود گڑھوں کو پہچانے گا۔ اس کے ساتھ ایکسرے امیجنگ اینڈ سپیکٹروسکوپی مشن (ایکس آر آئی ایس ایم) نامی خلائی دوربین بھی ہو گی۔
ان میں سے ایک دو پہیوں والا چھوٹا روبوٹ جاکسا نے بنایا ہے جبکہ جاپانی خلائی ادارہ راشد نامی دوسرا روبوٹ بھی چاند پر اتارے گا جو متحدہ عرب امارات نے بنایا ہے۔ اس روبوٹ کے چار پہیے ہوں گے اور یہ چاند کی مٹی کا تجزیہ کرے گا۔
روس اور جنوبی کوریا کے مشنز
روس 2022 میں چاند پر لونا 25 نامی مشن اتارے گا۔
یہ 45 سال میں چاند پر اترنے والا روس کا پہلا مشن ہو گا اور یہ چاند کے قطبِ جُنوبی پر اترنے والا پہلا مشن ہو گا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ناسا بعد میں عملے کے ساتھ مشن اتارنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
روسی خلائی ادارے روسکوسموس نے یہ مشن جولائی 2022 میں لانچ کرنا ہے۔
اس کے ایک ماہ بعد جنوبی کوریا کا خلائی ادارہ کوریا ایروسپیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اگست 2022 میں کورین پاتھ فائنڈر لونر آربیٹر (کے پی ایل او) لانچ کرے گا۔
کے پی ایل او چاند کی سطح کا تجزیہ کرے گا اور چاند کے قطبین پر مستقبل کے مشنز کی منصوبہ بندی کرے گا۔
ناسا کے کمرشل روبوٹ
چاند پر اترنے کی دوڑ میں نجی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ناسا کے پروگرام کمرشل لونر پے لوڈ سروسز (سی پی ایل ایس) کے تحت نجی کمپنیاں چاند کی سطح پر ٹرانسپورٹ خدمات فراہم کرنے کے لیے مقابلے میں شامل ہوں گی۔
ہیوسٹن کی کمپنی انٹیوٹیو مشینز کا منصوبہ ہے کہ نووا سی نامی چھ ٹانگوں والا ایک روبوٹ 2022 کے اوائل میں چاند کی سطح پر آلات و سامان پہنچائے گا۔
اس کے بعد پینسلوینیا کی ایک کمپنی ایسٹروبوٹک ٹیکنالوجی 2022 کے وسط میں اپنا ایک مشن لانچ کرے گی۔ پیریگرین مشن 1 نامی یہ مشن ڈبے کی شکل والا چار ٹانگوں والا ایک روبوٹ لینڈر سمیت دیگر سائنسی آلات اتارے گا۔
ان مشنز کا مقصد کیا ہو گا؟
ڈاکٹر ہینا سارجنٹ کہتی ہیں کہ ان میں سے کئی مشنز کا مقصد چاند کے ماحول کا تجزیہ کرنا ہو گا جبکہ یہ عملے اور ساز و سامان کو محفوظ رکھنے کے طریقے ڈھونڈیں گے جنھیں چاند پر مٹی اور سورج سے آنے والی تیز مقناطیسی لہروں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ مشنز سائنسدانوں کو پروٹوٹائپ آلات کی آزمائش اور تجربے کرنے کا موقع فراہم کریں گے جن کے ذریعے وہ پانی جیسے وسائل چاند پر حاصل کر سکیں گے۔
ڈاکٹر سارجنٹ کہتی ہیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ مشینیں انسانوں کو چاند پر بھیجے جانے سے قبل کام کر رہی ہوں کیونکہ عملے کو وہاں ان مشینوں سے حاصل کردہ وسائل پر انحصار کرنا ہو گا۔ بالآخر یہ سامانِ رسد مستقبل میں مریخ پر مشن بھیجنے کے لیے درکار ایندھن فراہم کر سکیں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’چاند اُن ٹیکنالوجیز کے لیے آزمائشی میدان بھی ہو گا جنھیں ہم ایک دن سرخ سیارے پر استعمال کریں گے۔ یہ زمین سے کافی قریب ہے، یہاں پہنچنے میں صرف تین دن لگتے ہیں جبکہ مریخ پر پہنچنے کے لیے کم از کم چھ ماہ درکار ہوتے ہیں۔‘