تائیوان: سمندری تہہ سے نکلنے والے گرم تیزابی چشمے جن کا راز اب تک نہیں سمجھا گیا

d

،تصویر کا ذریعہDr Mario Lebrato

    • مصنف, دینا گارڈنر
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

پانی کے اوپر، ٹرٹل آئی لینڈ ایک مشہور اور خوبصورت مقام ہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ لیکن ایک چیز وہ بھی ہے جو پانی کے اندر ہے اور وہ سائنسدانوں کو مسحور کر رہی ہے۔

سب سے پہلے مجھے وہاں پھیلی ہوئی بو نے متوجہ کیا۔

سڑے ہوئے انڈوں کی تیز بو اس بات کا ثبوت تھی کہ ہماری کشتی کے نیچے سمندر کی تہہ میں ایک جنگل ہے جہاں سے مسلسل گندھک والا آتش فشاں گیسوں کو خارج کر رہا ہے، جیسے کہ کوئی شدید توانائی والا بحری گرم چشمہ ہو۔

ہمارے محل وقوع کو دیکھتے ہوئے یہ بو اور بھی حیران کن بات تھی کیونکہ قریب ہی لیکن فاصلے پر جنگل سے ڈھکا ایک آتش فشاں والا جزیرہ پھیلا ہوا تھا، جب کہ ہمارے اور دھندلے ساحل کے درمیان فیروزی پانی کا ایک خوبصورت سیلِ رواں تھا جو سمندر کے باقی حصوں کے گدلے نیلے رنگوں سے بہت مختلف تھا۔

ہم تائیوان کے شمال مشرقی ساحل سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر ٹرٹل آئی لینڈ (چینی زبان میں گوشن ڈاؤ) کا چکر لگا رہے تھے۔ یہ تائیوان کے صرف دو فعال آتش فشاؤں میں سے ایک ہے جو تقریباً سات ہزار سال پرانا ہے۔ جزیرے کی عمر کے حساب سے یہ آتش فشاں کافی جوان ہے۔ یہ سیاحوں کی توجہ کا حامل ایک مشہور مقام ہے، جو اپنے کچھوے کی شکل والے ہیولے، تصویر کھینچنے کے لیے دلکش چٹانوں، فوجی سرنگوں اور ساحل سے دور ڈولفن کے کرتب کا نظارہ کرنے کے لیے مشہور ہے۔

لیکن جزیرے کے مشرقی جانب ہلکے پانی کا یہ ٹکڑا یوں لگتا ہے جیسے کچھوے نے سمندر سے سر نکالا ہو اور یہ چیز سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام پر تصاویر پوسٹ کرنے والوں کے لیے یکساں طور پر قابل تجسس ہے۔

اسے ملکی سی یعنی بحری کہکشاں کا عرفی نام دیا گيا ہے جو بیک وقت خوبصورت اور خطرناک دونوں ہے۔ اس کی دلکش رنگت فوٹوگرافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، لیکن سطح کے نیچے گرم اور تیزابیت والا پانی ہے۔ یہاں کے پانی کی پی ایچ ویلو دنیا بھر کے سمندروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے تمام پانیوں میں سب سے کم ہے، یعنی اس کی تیزابیت بہت زیادہ ہے، اور یہ ایک ایسا معمہ ہے جو ابھی تک سائنسدانوں کو پوری طرح سے سمجھ نہیں آیا ہے۔

درجنوں چھوٹی چمنیوں کی طرح کے ہائیڈرو تھرمل سوراخ یا نکاسی کے راستے ہیں جنہیں فیومارول کہتے ہیں جو زہریلی گیسوں اور بھاری دھاتوں کو باہر نکالتے ہوئے سمندر کے فرش کو گندا کرتے رہتے ہیں۔

ٹرٹل آئی لینڈ کے سوراخ ایک قدرتی تجربہ گاہ کی طرح ہیں کیونکہ وہ نہ صرف ساحل کے قریب ہیں، بلکہ وہ اتھلے بھی ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو سطح سمندر سے 14 میٹر سے بھی کم گہرائی میں ہیں، اور اسی وجہ سے وہ سمندری مطالعے میں منہمک سائنس دانوں کے مطالعہ کے لیے قابل رسائی مقامات ہیں۔

d

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر ماریو لیبراٹو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'پانی کے اندر کا منظر ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی اور دنیا کا ہو۔' ڈاکٹر ماریو نے جرمنی کی یونیورسٹی آف کیل میں انسٹی ٹیوٹ آف جیو سائنسز کی قیادت میں تائیوان اور چینی محققین کے ساتھ یہاں دس سال (2009 سے 2018) تحقیق کی ہے اور اسی کے لیے یہاں درجنوں بار غوطہ خوری کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں بھاری دھاتیں ہیں، یہ تیزابی ہیں، اور آپ کو بہت سارے بلبلے بہت زیادہ شور کے ساتھ ملے ہوئے نظر آتے ہیں اور درجہ حرارت میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ یہاں پانی بحری سوراخوں سے تقریباً 100 سینٹی گریڈ گرم نکلتا ہے لیکن آس پاس کے سمندری پانی میں گھل مل کر جلدی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ کافی تناؤ کا باعث ہوتا ہے، خاص طور پر فیمارولز سے نکلنے والا شور اتنا تیز ہوتا ہے کہ یہ کسی کو بہرا بھی کر سکتا ہے۔ آپ زیادہ تر خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔'

خیال کیا جاتا ہے کہ ایسا مخالف ماحول ان حالات سے ملتا جلتا ہے جب زمین پر زندگی پہلی بار ابھری تھی۔ اور ان جانوروں کا مطالعہ کرنا جو بحری کہکشاں میں زندہ رہنے کے لیے تیار ہوئے تو اس طرح ہمیں 3.5 ارب سال پہلے کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ اشارہ مل سکتا ہے۔

لیبراٹو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ضروری نہیں کہ ہم زندگی کی ابتداء کی وضاحت کے لیے کچھ تلاش ہی کریں، لیکن امکان ہے کہ اس طرح کے انتہائی حالات میں ابتدائی چند لاکھ سالوں میں زندگی کیسے ارتقاء پذیر ہوئی اس کا کچھ اشارہ مل جائے، شاید وہ کچھوؤں کے جزیرے جیسی جگہ سے مشابہ ہو۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں جس قسم کی چیزوں کی تلاش ہے وہ یہ ہوگی کہ اس قسم کے ماحول میں کس قسم کی مخلوقات زندہ رہ سکتی ہیں، وہ ایسا کرنے کے قابل کیسے ہوئیں، اور ان میں تنوع کتنا کم ہے۔

تو یہاں سمندر کی تہہ میں کیا ہے؟

براہ راست سوراخ کے ساتھ تو زیادہ کچھ نہیں ہے۔ نظامِ خوراک کی ماہر کے طور پر اس تحقیق میں شامل ہونے والی ڈاکٹر یِمنگ وانگ کا کہنا ہے کہ یہاں زینوگریپسس ٹیسٹوڈینیٹس نامی صرف ایک خالص کیکڑا ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

ان کے مطابق 'سلفر فلویڈ پلیومز کے زہریلے ہونے کی وجہ سے پانی اگلنے والے سوراخوں کے قریبی علاقے میں کوئی اور میٹازوان [کثیر خلیے والا جاندار] زندگی نہیں پائی جا سکتی ہے۔'

انھوں نے وضاحت کی کہ یہ کیکڑے زوپلیکنٹون جسے جانداروں اور وہاں بھٹک کر پہنچنے والی بدقسمت مچھلیوں کو کھا کر زندہ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری تہہ پر جمے مائیکرو حیاتیات پر زندگی بسر کرتے ہیں۔

d

،تصویر کا ذریعہDr Mario Lebrato

ڈاکٹر وانگ نے مزید کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ 'اُنھوں نے سلفر کے بیکٹیریا [بیکٹیریا جو توانائی کے لیے سلفر کا استعمال کرتے ہیں] کو کھانے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت بھی حاصل کر لی ہوں۔‘

اس شعبے میں تحقیق بہت نئی ہے اور کیکڑے کی یہ نسل صرف سنہ 2000 میں دریافت ہوئی ہے۔ اور یہ کیکڑے اس طرح کے زہریلے ماحول کو کیسے برداشت کرنے کے قابل ہیں یہ بات ابھی تک ایک معمہ ہے۔

اگرچہ سوراخوں سے دور ہیں تو یہ بالکل الگ بات ہے۔ اس کے قرب و جوار میں سمندری انیمونز یا شقائق البحر، گھونگھے، سیپیاں اور مرجانوں کی قوس قزح پنپتی ہے۔ اور بحری کہکشاں کے علاقے سے باہر، جزیرہ ٹرٹل کے آس پاس کے پانی تائیوان کے سب سے زیادہ مالا مال مچھلی پکڑنے کے علاقے ہیں جو گرم کروشیو لہروں کے ذریعے پیدا ہونے والی سمندری حیاتیات سے بھرپور ہیں۔

یہ گرم زیریں لہریں شمال میں جاپان کی طرف بہتی ہیں۔ ان نعمتوں کے گواہ بڑے شکاری آبی جاندار ہیں جن میں ڈولفن کے جھنڈ شامل ہیں۔ وہ جزیرے کی اصل کشش ہیں، اور درحقیقت جب میرا ٹور بحری کہکشاں سے نکل کر مشرق کی طرف آیا تو سپنر ڈولفنز کی ایک بہت بڑا جھنڈ نمودار ہوا۔ ان کے سرمئی دھار والے جسم کمان کے گرد گھومتے، اچھلتے اور قلابازیں کھاتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرٹل آئی لینڈ کے گرم آبی سوراخوں کے آس پاس رہنے والے جانوروں کا مطالعہ کرنے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیں اس بات کا اشارہ دے سکتے ہیں کہ سمندری ماحولیاتی نظام شدید قسم کی تبدیلیوں اور تغیر سے کس طرح سے نمٹ سکتا ہے۔

اس کے ساتھ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی پیش گوئیوں جیسے سمندری تیزابیت، یا مائن ٹیلنگ (ٹوٹی پھوٹی چٹانیں اور کانوں سے نکلنے والے دیگر فضلے سے پیدا ہونے والی چیزیں جو بہت زہریلی ہو سکتی ہیں) کے جمع ہونے سے کیسے نمٹ سکتا ہے۔

لیبراٹو کا کہنا ہے کہ ٹرٹل آئی لینڈ ہمیں 'اس بات کا مطالعہ کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ سمندری زندگی انتہائی قسم کے ماحول میں کیسے زندہ رہتی ہے، جو کہ سمندر کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔'

ان کے طویل دور پر مبنی مطالعے کے آخری نصف حصے میں کچھ ایسا ہوا جو ان کی تحقیق کی سمت و رفتار کو بدل دے گا۔ سنہ 2016 میں تائیوان میں 5.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ جبکہ اس کے چند ہفتوں بعد اسے کیٹیگری 5 کے طوفان نیپارتک نے تباہ کیا تھا۔ ان جڑواں آفات سے ٹرٹل آئی لینڈ پر زمین کھسکنے اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے جس کے نتیجے میں کئی آبی سوراخ بند ہو گئے۔ جب سمندر کے کئی گرم چشمے بند ہو گئے تو سمندری پانی کی کیمیائی ساخت اور پی ایچ میں زبردست تبدیلی رونما ہوئی۔

حیرت انگیز طور پر سوراخ کے پاس کے ایکو سسٹم نے اس کا اچھی طرح سے مقابلہ کیا۔ اس کا اندازہ ان کے 2019 میں شائع ہونے والے مقالے سے ہوتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کوئی بڑی آبی نسل ختم نہیں ہوئی۔

d

،تصویر کا ذریعہDr Mario Lebrato

لیبراٹو نے کہا: 'سمندری زندگی میں انتہائی تبدیلیوں کو ایڈجسٹ کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ ہماری بڑی تلاش یہ تھی کہ چاہے کتنا ہی بڑا رخنہ اور خلل کیوں نہ ہو، آبی زندگی ۔۔۔ اور مجموعی طور پر نظام دو سال بعد اپنی سابقہ حالت میں بحال ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ انتہائی واقعات رونما ہونے کے باوجود یہ سمندری نظام کی لچک کو ظاہر کرتا ہے۔'

تاہم، تمام انواع یکساں طور پر لچکدار یعنی حالات میں دھلنے یا ان سے مطابقت پیدا کرنے کی اہل نہیں تھیں۔ کیکڑے کی تعداد میں کمی واقع ہوئی جبکہ گھونگھے اور سیپیاں غیر متاثر نظر آئیں۔

سمندری طوفان اور زلزلے سے سمندری گرم چشموں کے پاس آباد حیاتیات پر ہونے والے اثرات پر تحقیق کرنے والی سائنسداں وینگ نے لکھا کہ ان سوراخوں کے گرد پائے جانے والے مخصوص کیکڑے دوسری آبی حیات کے مقابلے ان تبدیلیوں سے زیادہ متاثر نظر آئے کیونکہ یہ اپنے کھانے کے انتخاب کے بارے میں بہت نخرے والے ہیں اور انھیں غذائیت کے لیے سلفر بیکٹیریا چاہیے۔

ان کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگرچہ گرم آبی چشمے کے پاس کا ایکو سسٹم زلزلے اور طوفان کی تباہی سے بچ گیا، لیکن زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنے والی انواع زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکی ہیں، اس طرح تباہ کن واقعات کے بعد ہمیشہ کچھ فاتح اور کچھ ہارنے والے ہوتے ہیں۔

یہاں آنے والے زیادہ تر سیاح سمندر کے نیچے زندگی کی دلچسپ جدوجہد کے بارے میں کبھی نہیں غور کرتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ ڈولفن کے کرتب سے خوش ہوتے ہیں اور بحری کہکشاں کے حیرت انگیز نیلے رنگ یا بھوری اور سرمئی دھاری دار چٹانوں کی تصاویر لینے میں مگن رہتے ہیں۔

تائیوان نے مارشل لاء کے دوران سنہ 1970 کی دہائی میں جزیرے کو 23 سال کے لیے بند کر دیا تھا اور اس دوران سرنگیں تعمیر کیں، واچ ٹاورز اور دیکھنے کے مقامات بنائے جو آج تک باقی ہیں، اور دن کو سیر کرنے والے (جزیرے کے نازک ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے راتوں کو قیام کرنا منع ہے) وہاں اور اس کے ارد گرد گھومنے پھرنے آتے ہیں اور فوجی تنصیبات، متروک ماہی گیروں کے گاؤں کا دورہ کرتے ہیں اور جنگل کی سیر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

جیسے ہی میری کشتی مین لینڈ کی طرف واپس جا رہی تھی کہ بارش کا ایک جھونکا آیا جس سے منظر دھندلا پڑ گيا اور ٹرٹل آئی لینڈ یا کچھوا نما جزیرے کا خاکہ دھند میں ضم ہونے لگا یہاں تک کہ وہ بھی لہروں کے نیچے چھپی زندگی کے رازوں کے ساتھ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔