خلائی سفر اور انسانیت کا مستقبل: کیا انسانوں کے لیے کہکشاں میں جا کر بسنا ممکن ہے؟

    • مصنف, رچرڈ فِشر
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

انیس سو ستّر کے عشرے کے وسط میں ماہر طبعیات جیرارڈ اونیل خلا میں انسان کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے جب انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان کے ساتھیوں کی سوچ اس بارے میں غلط تھی۔

بہت سے لوگ دوسرے سیاروں پر جا کر بسنے کے بارے میں باتیں کر رہے تھے مگر انھوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ نظام شمسی میں ایسی ریئل سٹیٹ زیادہ نہیں ہے جہاں جا کر رہائش اختیار کی جا سکے۔

سیاروں کی زیادہ تر سطح آبادیاں قائم کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے کیونکہ وہاں کا ماحول انتہائی سخت ہے اور وہاں آنے جانے کے لیے بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہو گی۔

اونیل نے متبادل کے طور پر ایسی آبادیوں کا تصور پیش کیا جو کرّۂ ارض کے قریب خلا میں معلق ہوں۔ ان کی شکل سلینڈر نما ہو اور جن کے اندر سبزہ، جنگلات، جھیلیں اور کھیت ہوں۔ ان کے خواب نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔ اور ان میں سے ایک شخص حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سرخیوں کا موضوع رہا۔

سنہ 1980 کی دہائی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں سمینار کے دوران اونیل کے اس تصور کا ایک طالبِ علم پر بڑا اثر ہوا۔ اس نے انسان کو زمین سے باہر جا کر آباد ہونے کے امکان پر غور شروع کر دیا۔

اپنے سکول کے اخبار سے بات کرتے ہوئے اس طالبِ علم نے کہا تھا کہ ’زمین محدود ہے۔ اور اگر عالمی معیشت اور انسانی آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو صرف خلا ہی ایک ایسا ٹھکانہ رہ جاتا ہے جہاں انسان رہ سکے گا۔‘ اس سٹوڈنٹ کا نام تھا جیفری پریسٹن بیزوس۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ بیزوس جیسے کھرب پتی خلا میں کیوں جانا چاہتے ہیں، ان کے اثر و نفوذ کو جاننا ضروری ہے۔

عام آدمی کے لیے بلو آریجن اور اس کے مقابلے میں دوسرے نجی خلائی پروگرام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے کہ چند انتہائی دولت مند افراد انتہائی مہنگے راکٹ میں خلائی سفر کر کے اپنی انا کی تسکین کرنا چاہتے ہیں۔

جبکہ دوسروں کے نزدیک کلائمیٹ چینج، عالمگیر وبا، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور دیگر عالمی مسائل کے پیش نظر ایسی سیر حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہو گی۔

مگر ان کوششوں کے پیچھے ایک بڑا جذبہ کارفرما ہے۔ اور وہ ہے خلا میں جا بسنے کا۔ بیزوس تنہا وہ شخص نہیں ہیں جنھوں نے تجویز کیا کہ زمین سے باہر جا کر رہنے کا سامان کرنے میں ہی انسانی بقا کی ضمانت ہے۔

کوئی ایک صدی سے لوگ زمین کی فضا سے پرے ایک تمدن قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، اور بیزوس اور ان کے ساتھیوں کے بعد آنے والی نسلیں ایسا کرتی رہیں گی۔

انسان کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کہکشاں کو بسانے کا خیال تقریباً دو صدی پرانا ہے۔ اس سے قبل لوگ نہیں سمجھتے تھے کہ کائنات غیر آباد ہے اور اس میں نئی آبادیاں بنائی جا سکتی ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ٹامس مؤنیہین کہتے ہیں کہ اگر لوگوں میں دوسری دنیاؤں کا تصور پایا بھی جاتا تھا تو وہاں آبادیاں تھیں، یعنی وہ ان دنیاؤں کو بنجر سیارے نہیں سمجھتے تھے۔ ’اس وقت ایسا کوئی جذبہ موجود تھا کہ انسان جا کر ان جگہوں کو بسائیں۔‘

مؤنیہین کا کہنا ہے کہ انسان نے قدرے حالیہ تاریخ میں اس حقیقت کو جانا ہے کہ کائنات کا بیشتر حصہ خالی ہے جہاں انسانی آبادیوں کو پھیلایا جا سکتا ہے۔

محققین کو نظام شمسی اور اس سے بھی پرے جا کر بسنے کے بارے میں سوچنے کی تحریک اس حقیقت سے بھی ملی کہ کسی دن سورج کے بجھ جانے یا کسی اور وجہ سے نسل انسانی زمین پر سے مٹ جائے گی۔

مؤنیہین کہتے ہیں کہ 20ویں صدی کے آغاز پر اس دریافت نے کہ ایٹم کے اندر بے پناہ قوت موجود ہے کہکشاں میں آبادیاں بسانے کے خیال کو تقویت ملی۔

روسی خلائی سائنسداں کونسٹانٹِن سؤلکوفسکی نے نیوکلیئر انرجی سے چلنے والی خلائی گاڑی کی مدد سے سیارچوں پر جا کر رہنے کی دلچسپ تجویز پیش کی تھی۔ 1911 میں اپنے ایک مضمون میں انھوں نے لکھا: ’ممکنہ طور پر انسانیت کا بہترین حصہ کبھی نہیں مرے گا اور جب ایک سورج بجھ جائے گا تو وہ انسان دوسرے سورج کے نظام میں جا کر بسیرا کر لیں گے۔‘

مؤنیہین کہتے ہیں کہ یہ نظریہ سرمایہ دارنہ بالکل نہیں تھا۔ 1902 میں سؤلکوفسکی کے استاد نِکولائی فیدوروف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ لکھ پتی لوگ معدنیات نکالنے کے لالچ میں دوسرے سیاروں کو متاثر کریں گے۔

مغرب میں بھی کہکشاں میں پناہ لینے کے خیال پر بحث ہونے لگی۔ مؤنیہین کے مطابق مائع سے چلنے والے پہلے راکٹ کے خالق امریکی انجنیئر رابرٹ گوڈارڈ نے 1918 میں لکھا تھا کہ ’اگر ہم ایٹم کی طاقت کو آزاد کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم انسانوں کو نظام شمسی سے باہر بھیج سکیں گے۔‘

گوڈارڈ کے تصور کے مطابق انسان اپنی معلومات کا خزانہ ساتھ لے کر جائیں گے اور جہاں ایک تمدن ختم ہوگا وہاں سے ایک نئے تمدن کا آغاز ہو گا۔ ان کے خیال میں اگر یہ ممکن نہ ہوا تو نئی دنیاؤں کو آباد کرنے کے لیے ’پروٹوپلازم‘ بھیجا جا سکتا ہے۔

مؤنیہین کہتے ہیں کہ ان تمام تصورات سے اس خیال نے جنم لیا کہ اگر انسان ہماری کہکشاں ’مِلکی ویے‘ میں نئی آبادیاں قائم کرلیں تو وہ اربوں کھربوں برس تک زندہ رہ سکیں گے۔ ان ہی نظریات نے بیزوس اور ایلن مسک جیسے خلائی ارب پتیوں کو کہکشاؤں والی نوآبادیوں کا خواب دکھایا۔

اگر بیزوس کے بس میں ہوتا تو وہ ماحول کے لیے مضر تمام صنعتوں کو زمین پر سے کہیں اور منتقل کر دیتے اور بعد میں انسان خود اونیل کے سلینڈر میں جا بستا۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ خود ایسا مستقبل نہیں دے پائیں گے مگر وہ خود کو آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کرنے والے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مسک معدومیت کے خطرے کے بارے میں زیادہ کھل کر بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم مختلف سیاروں پر رہنے لگیں، مثلاً مِریخ پر، تو پھر نسل انسانی کو مکمل طور پر مٹ جانے کا خطرہ نہیں رہے گا۔

سپیس ایکس پروگرام کے ارب پتی مالک ایلون مسک ’گریب فِلٹر‘ نامی نظریے سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق ارتقائی عمل میں کائنات کی ہر شے کا ایک کٹ آف پوائنٹ یعنی ختم ہو جانے کا نقطہ مقرر ہے اور جب وہ اس مقام پر پہنچتی ہے تو خود بخود مر جاتی ہے۔ مسک کو توقع ہے کہ انسان اس مقام کو بحفاظت عبور کرنے والی پہلی نوع ہو گی۔

مؤنیہین کہتے ہیں انسانیت کو بچانے کے لیے خلا میں جا بسنے کی دلیل اتنی قوی نہیں جیسے ارب پتی اسے پیش کرتے ہیں، خاص طور پر اس وقت۔ ان کے خیال میں رواں صدی میں انسانیت کو دوسرے بڑے خطرات کا سامنا ہے، مثلاً لیبارٹری میں تیار کردہ عالمی وبائیں اور مصنوعی ذہانت کا بے قابو ہو جانا۔

ممکن ہے کہ یہ خطرات کرۂ زمین سے دوسرے سیاروں تک بھی منتقل ہو جائیں۔ مؤنیہین کہتے ہیں کہ ’مختلف سیاروں پر جا کر بسنا شاید ہر صورتحال کے لیے مکمل طور پر محفوظ نہ ہو۔‘

جہاں تک ماحولیاتی تبدیلی کا سوال ہے تو اگرچہ اس وقت یہ اتنا بڑا خطرہ نہیں کہ فوری طور پر انسانی بقا کا مسئلہ پیدا ہو جائے مگر قلیل مدت میں یہ اربوں انسانوں کی مشکلات میں اضافہ ضرور کرے گا۔

فی الحال نہ تو خلائی سیاحت اتنی زیادہ ہے اور نہ ہی کہکشاؤں کی آبادی موجود ہے جو اس خطرے سے نمٹنے میں آج ہماری مدد کر سکے۔

سیلابوں، جنگلی آگ اور شدید گرمی کے تناظر میں بہت سے ناقدین نے شوقیہ خلائی سفر کرنے والے ارب پتیوں پر نکتہ چینی کی ہے۔ ان مسائل کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے چند ایسے لوگ بھی ہیں جو کم سے کم اس وقت کہکشاؤں کی نو آبادیوں کے تصور سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔

ان ہی میں سے ایک آواز سائنس فکشن رائٹر سِم کرن کی ہے جن کا کہنا ہے کہ خلا ہمیں اپنی بقا کے بارے میں دلفریب تصور تو فراہم کر سکتا ہے، مگر حقیقت میں ’ہم چاہیں جتنے نوری سال سفر کر لیں، ہم اپنی پیدا کردہ آلائشوں سے دامن نہیں چھڑا سکتے۔‘

کرن لکھتے ہیں کہ اس وقت ہمارے پاس ایک اچھی آبادی تو موجود ہے۔

’یہ اتنی بڑی ہے کہ ہم سب اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس کی کشش ثقل زبردست ہے اور اس کی فضا ہمیں مضر شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے، اس کے ماحول میں ہم سانس لے سکتے ہیں۔ سورج کی شکل میں یہاں تجدید توانائی کا لا محدود ذخیرہ موجود ہے جو کم سے کم ایک ارب سال تک چلے گا۔

’ہمارے اس سپیس شِپ (کرۂ ارض) پر آٹھ ملین سے زیادہ انواع ایسی ہیں جن کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جن کو سمجھنا ہم نے ابھی شروع ہی کیا ہے۔ یہ انواع ہمیں ہوا، خوراک، ادویات اور صاف پانی مہیا کرتی ہیں، کچھ ہمارے لیے نغمہ سرا ہیں، کچھ ہماری ہوا کو معطر بناتی ہیں، اور یہ سب مل کر ہماری کرۂ ارض کو انتہائی حسین بنائے ہوئے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

لیکن اگر ہم اب سے لاکھوں برس بعد کی بات کریں تو کیا اس وقت نظام شمسی اور مِلکی وے میں جا کر بسنے کے تصور پر زیادہ سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے تاکہ انسان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے؟

جو لوگ اس وقت ایسے کسی منصوبے پر عمل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں، آنے والے وقتوں میں ان کے لیے اس پر قائم رہنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ہم اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتے جب انسانیت مکمل طور پر مٹ جائے۔ یہ تو ناقابل تصور تباہی ہو گی۔

دودھ پلانے والی انواع کی اوسط عمر ایک ملین برس ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم نے اس سلسلے میں کچھ نہ کیا تو کبھی نہ کبھی ہمارے مٹ جانے کا لمحہ بھی آن پہنچے گا۔

وقت کی گہرائیوں میں کہیں نہ کہیں ایسی آفتیں چھپی بیٹھی ہیں۔ مگر دوسرے جانداروں کے برعکس ہماری ذہانت زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اس لیے کئی محققین کا خیال ہے کہ ’خلا میں جا بسنے‘ کا راستہ ہمارے مستقبل کی بقا کی راہ سجھاتا ہے۔ اگر کہکشاں کے اندر ہمارے بہت سی آبادیاں ہوں گی تو نسل انسانی قوی تر ہو جائے گی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ایک اور محقق اینڈرس سینڈبرگ کہتے ہیں کہ میں ’تمام انڈے ایک نازک سی ٹوکری میں نہیں رکھنا چاہوں گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’خلائی کالونیاں سیاروں کے مقابلے میں کمزور ہیں، مگر آپ ایسی آبادیاں زیادہ بسا سکتے ہیں۔ آپ اگر ایک بار بڑی کالونیاں بسا لیں تو پھر بہت سی چھوٹی بستیاں بسانا بھی ممکن ہو جائے گا۔ اور اس مرحلے پر یہ ممکن ہو گا کہ آپ خطرات کو کم کر سکیں۔‘

آپ ارب پتیوں کی موجودہ نسل کے بارے میں جو بھی کہیں مگر اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ انھوں نے نہایت قلیل عرصے میں خلائی سفر میں زبردست پیش رفت کی ہے۔

سینڈبرگ نے مسک سے اپنی گفتگو کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ سپیس ایکس کے خلا میں راکٹ بھیجنے سے پہلے جب مسک ان سے ملنے آکسفورڈ یونیورسٹی آئے تھے تو وہ ’آکسفورڈ میں گرانڈ کیفے میں بیٹھے ٹشو پیپرز پر خاکے بنا کر مجھے بتا رہے تھے کہ کس طرح ان کا خلا میں جانے کا منصوبہ ناسا کے مقابلے میں کم خرچ میں پورا ہو گا۔ میں ان کی باتوں پر سر ہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’مجھے توقع ہے کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ درست ثابت ہو گا۔ آج انھوں نے خود کو ثابت کر دیا۔‘

البتہ سینڈبرگ کہتے ہیں کہ اگر انسان کو اپنے طویل المدت مستقل کی خاطر کہکشانی تمدن کی تعمیر کرنا ہی ہے تو اسے 21ویں صدی کے ایک یا دو ارب پتیوں کی خواہش پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم چاہتے ہیں کہ خلا چند لوگوں کے تصور ہی کے مطابق آباد نہ ہو تو پھر ہمیں بھی اپنی تمناؤں کا اظہار کرنا ہو گا۔‘

طویل مدت میں تو خلا میں جا بسنے کا منصوبہ چند ایک لوگوں کی خواہشات کی بجائے ایک انسانیت گیر منصوبہ ہو گا۔

کہکشاؤں کا تمدن بالآخر ہمارے تمدن کا حصہ ہو گا۔ شاید بیزوس کے اونیل کے سلینڈد کا خواب حقیقت بن جائے۔

شاید یہ ہماری نوع کو بچانے میں مدد گار ہو۔ مگر اس مستقبل کا فیصلہ ملکی وے کے باسی اپنی ترجیحات اور خواہشات کے مطابق کریں گے، جو 21ویں صدی کے امیر ترین لوگوں کے بعد زندہ ہوں گے۔