چین کی کامیاب کوششیں، پانڈا اب دنیا سے ختم نہیں ہو رہے مگر خطرہ اب بھی باقی

معدومیت کے خطرے کی زد میں موجود جائنٹ پانڈا کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اُن کی نسل ختم ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے تاہم اب بھی یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔

خطرے کا درجہ اس لیے گھٹایا گیا ہے کیونکہ ان کی جنگلی آبادی اب 1800 تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق چین طویل مدتی کوششوں کے باعث اپنے مقبول جانور کو بچانے میں کامیاب ہوا ہے اور ان کوششوں میں ان کے قدرتی ماحول کا تحفظ بھی شامل ہے۔

چین میں پانڈا کو قومی خزانہ تصور کیا جاتا ہے اور اکثر انھیں سفارتی تحفے کے طور پر دوسرے ممالک کو بھی دیا جاتا ہے۔

وزارتِ ماحولیات کے شعبہ قدرت اور ماحولیاتی تحفظ کے سربراہ کوئی شوہونگ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ تازہ ترین درجہ بندی 'چین کی جانب سے ان کے قدرتی ماحول کے تحفظ کی کوششوں اور ان کے حالات میں بہتری کی عکاس ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

عالمی تنظیم برائے تحفظِ قدرت (آئی یو سی این) نے سنہ 2016 میں پانڈا کو معدومیت کے خطرے والے زمرے سے نکال کر خطرے کے شکار کے زمرے میں منتقل کر دیا تھا۔

اس وقت چینی حکام نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے لوگوں میں یہ گمراہی پھیلے گی کہ تحفظ کی کوششیں اب شاید ماند پڑ جائیں گی۔

رواں ہفتے چینی وزارتِ ماحولیات نے قدرتی تحفظ کی اپنی فہرست میں پانڈا کی درجہ بندی میں تبدیلی کی ہے اور اس فہرست کا معیار بھی سوئٹزرلینڈ کی عالمی تنظیم برائے قدرتی تحفظ کے معیار جیسا ہی ہے۔

چینی سوشل میڈیا صارفین اس خبر پر پھولے نہیں سما رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ 'قدرتی تحفظ کی کوششوں' کی کامیابی کا 'ثبوت' ہے۔

ایک شخص نے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم ویبو پر لکھا: 'یہ سالہا سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔ تمام شریک افراد نے زبردست کام کیا۔'

ماہرین کا کہنا ہے کامیابی کی بڑی وجہ چین کی جانب سے بانس کے جنگلات کو دوبارہ اگانے اور آباد کرنے کی کوششوں کے باعث ہے۔ پانڈا کی 99 فیصد خوراک بانس پر مبنی ہوتی ہے جس کے بغیر یہ بھوک سے مر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ چڑیا گھروں نے اپنے پاس ان کی افزائشِ نسل کر کے بھی ان کی آبادی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

سنہ 1950 کی دہائی سے چین نے دنیا بھر میں سیاسی دوستیاں قائم کرنے کے لیے پانڈا کا استعمال کیا ہے۔