ٹرمینل لوسیڈیٹی: کچھ انتہائی بیمار مریض موت سے پہلے اچانک ٹھیک کیوں ہو جاتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, میتھیس میجنٹا
- عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
جب الیٹا پورٹو رئیس کی 70 سال کی عمر میں وفات ہوئی تو وہ لوگوں کے سہارے پر زندگی گزار رہی تھیں اور الزائمر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انھیں روزمرہ کے بنیادی کام کرنے میں آس پاس کے لوگوں کی مدد کی ضرورت پڑتی تھی۔
عمر کے آخری حصے میں ان کا مرض اتنا شدید ہو چکا تھا کہ وہ نہ تو خود سے کھا پی سکتی تھیں جبکہ غسل اور لباس تبدیل کرنے میں بھی انھیں مدد درکار ہوتی تھی۔ وہ بمشکل ہی کسی کو پہچان پاتی تھیں۔
تاہم زندگی کے آخری ایام میں اُن کی طبیعت میں اچانک بہتری آنے لگی۔
ان کی پوتی سمانٹا کا کہنا تھا ’ایک دن اچانک انھوں نے میری والدہ سے بات کرنا شروع کر دی۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے انھیں سب کچھ یاد آ گیا ہے۔ اگرچہ میری نانی کی ہمیشہ سے ایک مضبوط شخصیت تھی مگر بیماری کے باعث وہ بھول چکی تھیں کہ وہ خود کون ہیں، مگر آخری دنوں میں ایسا لگا کہ وہ زندگی کی طرف لوٹ آئی ہیں۔‘
اس واپسی کا ان کی بیٹی آنا لوسیہ کے لیے بھی ایک خاص معنی تھا۔
سمانٹا نے یاد کرتے ہوئے بتایا ’انھوں نے میری والدہ کو بہت پیار سے تسلی دی، انھوں نے کہا کہ 31 تاریخ کو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میری والدہ بہت روئیں کیونکہ وہ انھیں کھونا نہیں چاہتی تھیں۔ اور پھر ٹھیک 31 اگست 2011 کو وہ دم توڑ گئیں۔‘
’ایک طرح سے اس سب سے میری والدہ کی بہت مدد ہوئی کیونکہ وہ اپنی ماں کی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ وہ ایک بار پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر اُن سے بات کرنے اور انھیں الوداع کہنے کے قابل ہوئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہfamily photo
یونیورسٹی آف ساؤ پالو (یو ایس پی) سے منسلک ڈاکٹر فریڈریکو فرنینڈس یہ کہانی سُن کر حیرت زدہ نہیں ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ’ہسپتالوں میں کام کرنے والے ہر فرد کے پاس ایسی ہی ایک کہانی ہوتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ میں سنہ 2008 میں ہسپتال کے ملازمین سے کیے گئے ایک سروے میں یہ پایا گیا تھا کہ دس میں سے سات ملازمین نے ڈیمنشیا یا ذہنی عارضوں میں مبتلا مریضوں کی موت سے کچھ دن پہلے ہی اُن کی صحت میں قدرے بہتری نوٹ کی تھی۔
اس طرح کے رجحان کو بیان کرنے کے لیے مختلف زبانوں اور زمانوں میں مختلف اصطلاحات سامنے آئیں تاہم یہ سائنس کے لیے آج تک ناقابل بیان موضوع ہے۔ اسے موت سے قبل بہتری، آخری الوداع، موت سے پہلے روشن ہونا، زندگی کا خاتمہ، صحت کا دورہ، الوداعی بہتری، استقامت کی اقساط، متضاد نرمی، ٹرمینل نرمی یا چینی زبان میں سورج کی آخری کرن کہا گیا۔
لیکن دائمی بیماریوں میں مبتلا کچھ مریضوں حتیٰ کہ حالیہ کووڈ 19 میں بھی اس وائرس کا شکار ہو کر مرنے والے چند افراد میں بھی یہ پیٹرن نوٹ کیا گیا یعنی وہ موت سے قبل کچھ وقت کے لیے بہتر لگے۔
ماورائی موضوع
یہ سوال چار صدی قبل از مسیح میں پیدا ہونے والے یونانی معالج بقراط کے زمانے سے چلا آ رہا ہے، بقراط کو طب کا بانی مانا جاتا ہے۔
بقراط اور دیگر قدیم یونانی معالجین کا خیال تھا کہ کسی بھی شخص کی روح اپنا تشخص برقرار رکھتی ہے اور یہ درحقیقت یہ دماغ ہے جو کسی بھی جسمانی خرابی سے متاثر ہوتا ہے (یعنی انسانی روح پر کسی جسمانی بیماری کا اثر نہیں ہوتا۔)
بی بی سی برازیل کو وضاحت دیتے ہوئے جرمن ماہر حیاتیات مائیکل نیہم کا کہنا تھا ’ان کا خیال تھا کہ موت وقوع پذیر ہونے کے ساتھ ہی روح اپنی پوری صلاحیت کو دوبارہ حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو مادی حدود سے آزاد کروا لیتی ہے۔‘
مائیکل نے موت سے کچھ قبل ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی یادداشت واپس آنے اور صحت بہتر ہونے جیسے رجحان کے لیے ’ٹرمینل لیوسیڈیٹی‘ کی اصطلاح تجویز کی ہے اور اس کی بنیاد انھوں نے سینکڑوں برسوں کے تاریخی بیانیوں پر اٹھائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ اس حوالے سے بہت سے مفروضے ہیں جو موت سے قبل پیش آنے والے واقعات کی توجیحات پیش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی بھی مفروضے پر آج تک کوئی باقاعدہ تجربہ نہیں کیا گیا یا جاننے کے لیے کہ آیا یہ درست ہیں یا نہیں۔
ایک مفروضہ شدید بیمار مریضوں میں ہونے والے کیمیائی ردعمل پر مبنی ہے جو موت سے قبل بقا کی جبلت جیسے موضوع کی وضاحت کرتا ہے۔
نیز موقع یا موت کے دوران شعور کا استقامت۔ یا تصدیق کا تعصب مطلب ہے کہ لوگ ہر وقت مر جاتے ہیں لیکن ہم ان لوگوں کی حیرت انگیز کہانیاں یاد کرتے ہیں جو مرنے سے پہلے ہی بہتر ہو گئے تھے۔
ان مفروضوں کی جانچ میں بھی اخلاقیات سمیت بہت سی رکاوٹیں ہیں، جیسے شدید مریضوں میں ناگوار معائنہ کرنا لیکن اس سب کو سمجھنے میں کیا مطابقت ہوگی؟
نیہم کے لیے نظریاتی طور پر مطالعوں کے ذریعے اعصابی نظام سے ہٹ کر یادداشت کے ارد گرد کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے دروازے کھل سکتے ہیں۔
'اگر یادیں صرف دماغ میں ہی نہیں رکھی جاتی ہیں تو یہ یقینی طور پر میموری پروسیسنگ اور انسانی دماغ کے بارے میں ہماری فہم کو بڑھا دیتی ہے، کیونکہ اس کو محض محرک نیوران کی ایک مصنوع نہیں قرار دیتا جاسکتا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مطالعات کیا کہتے ہیں؟
محققین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کے ابتدائی سے اعتدال پسند مراحل میں ڈیمنشیا کے مریضوں میں شعور میں اتار چڑھاو عام ہے۔
محققین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کے ابتدا سے اعتدال پسند مراحل میں ڈیمنشیا کے مریضوں میں شعور میں اتار چڑھاؤ عام ہے۔
اس موضوع پر زیادہ تر مطالعے اور رپورٹس نیوروڈجینریٹو بیماریوں کے مریضوں پر مرکوز ہوتے ہیں، لیکن ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کو ٹیومر، دماغی پھوڑے، میننجائٹس، پھیپھڑوں کی بیماری، کوما یا فالج تھا۔
اور یہ اچانک بہتری ہمیشہ موت کے موقع پر نہیں ہوتی ہے۔
سنہ 2009 میں یونیورسٹی آف ورجینیا امریکہ کے سائیکاٹری اور نیورووہیوئرل سائنسز ڈپارٹمنٹ کے مائیکل نیہم اور بروس گریسن نے میڈیکل لٹریچر میں بیان کردہ 49 کیسز اکٹھے کیے۔
اتنے قلیل نمونے اس موضوع پر وسیع نتائج اخذ کرنے تو نہیں دیتے لیکن اس سے کچھ اشارے ملتے ہیں۔
49 کیسز میں سے 43 فیصد میں موت سے ایک دن پہلے اچانک بہتری آئی، 41 فیصد میں دو میں سات دن، اور 19 فیصد میں آٹھ سے 30 دن کے دوران بہتری آئی۔
زیادہ تر مریض ڈیمنشیا میں مبتلا تھے ان میں سے سب سے عام شکل الزائمر کی بیماری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہنگری، آسٹریا، روس اور لیچٹن اسٹائن کے اداروں کے محقق فلسفی اور علمی سائنسدان الیگزینڈر بتھینی کے ایک مطالعے میں موت کے موقع پر اچانک بہتری آنے والے مریضوں میں ڈیمینشیا کا پھیلاؤ بھی دیکھا گیا۔
انھوں نے ڈیمنشیا کے مریضوں کے 38 کیسز کا تجزیہ کیا۔
مجموعی طور پر 44 بہتری کے واقعات موت سے ایک دن پہلے اور 31 دو سے تین دن پہلے ہوئے تھے۔ مزید برآں 43 فیصد میں اس کا دورانیہ ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت تک رہا جبکہ 16 فیصد میں ایک دن یا اس سے زیادہ جاری رہا۔
لیکن اب تک اس بارے میں کوئی تحقیق نہیں ہے جو یہ ظاہر کرے کہ سالانہ ایسے کتنے واقعات ہوتے ہیں۔
اہم مفروضے
نہم اور بیتھینی سمیت دس محققین کے ایک گروپ نے 2018 میں شواہد کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کا امکان نہیں ہے کہ ایسا ہونے کی وجہ وقت کے ساتھ متاثرہ نیورانز کی تخلیق نو ہو۔
یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے تعلق رکھنے والے فرنینڈس کا خیال ہے کہ جب جسم کو احساس ہوتا ہے کہ یہ موت کے قریب ہے تو ایسی صورتحال جسے 'فائٹ آر فلائٹ' کہا جاتا ہے جو جسمانی تحفظ کی ایک قسم کی جبلت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وہ وضاحت کرتے ہے کہ فوری طور پر پچھلے مرحلے میں ایڈرینالائن اور دیگر مادوں کا اخراج ہوتا ہے جو جسم میں تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں، جیسے حرکت قلب میں اضافہ اور بلڈ پریشر جو دوسرے اعضا کے کام کو بہتر بناتا ہے، جیسے بہتر ایکٹیویشن نیورونل اور یہاں تک کہ مریض کے فہم کو بھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب جسم یہ محسوس کرے کہ وہ مرنے ہی والا ہے۔ پھر اس کی رہائی ہو گی، لیکن یہ عارضی ہے اور جب یہ مرکبات ختم ہوجاتے ہیں تو مریض کی حالت خراب ہوتی ہے اور وہ مر جاتا ہے۔'
ان کے بقول اگر اس نظریے کی تصدیق ہوجاتی ہے تواس سے یہ بھی اشارہ مل سکتا ہے کہ اچانک ہونے والی یہ بہتری اتنی نایاب کیوں ہے۔

،تصویر کا ذریعہfamily photo
مثال کے طور پر سانس کی شدید بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں مریض کو ایسی بہتری لانے کا موقع ملنے سے پہلے ہی تناؤ کے ہارمون کی کھپت ہوچکی ہوتی ہے۔ لیکن کچھ مریض جن کے پاس یہ ذخیرہ ہے وہ اس جسمانی آلے کا استعمال کر سکتے ہیں۔'
کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی میں مذہبی علوم کے پروفیسر سٹافورڈ بٹی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ان میں ہے جنھیں لوگ روح کہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا 'ان لمحات میں بہتری کے ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وجود کا شعور (جسے کچھ لوگ روح کہتے ہیں) خود کو دماغ سے آزاد کر کے اور اعصابی نظام سے الگ آزادانہ طور پر کام کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا یہ اس کے دوران بھی ہو سکتا ہے جسے ہم 'موت' کے نام سے جانتے ہیں؟ مشی گن یونیورسٹی امریکہ سے تعلق رکھنے والے نیورو فزیوولوجسٹ جیمو بورجیگین اس کی وضاحت کرتے ہیں 'شاید ایسا ہی ہے۔'
انھوں نے سنہ 2013 میں چوہوں کے ساتھ ایک تحقیق کی قیادت کی جس میں پتا چلا ہے کہ دل اور خون کی گردش بند ہونے کے بعد بھی دماغ کام کرتا رہتا ہے۔ خاص طور پر گاما لہریں موجود تھیں جو انسانوں میں شعور سے وابستہ ہیں۔ یہ مثال کے طور پر ٹرمینل لوسیڈیٹی کے تجربات کی وضاحت کرسکتا ہے۔
بورجیگین کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کے سبب دماغ نیند میں سانس رکنے کا شکار لوگوں کو جگاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ سانس لینا شروع کریں اور اسی طرح کا طریقہ کار دائمی بیماریوں کے مریضوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
’ان معاملات میں جب ایک حد عبور ہو جاتی ہے تو دماغ متحرک ہوجاتا ہے اور عارضی طور پر اس کی سرگرمی کو اعلیٰ سطح کے شعور کے ساتھ بڑھا دیتا ہے جو آپ کو بولنے اور عقلی طریقے سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور شاید یہی وجہ ٹرمینل لوسیڈیٹی کی وجہ ہے۔‘
بورجیگین کی زیرِ قیادت مطالعہ میں جن مفروضوں کا حوالہ دیا گیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ جیسے جیسے آکسیجن اور گلوکوز کی سطح گرتی ہے یا اس میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، اسی قدر نیورو ٹرانسمیٹرز کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دماغ عارضی یا غیر مستحکم طور پر چلنے لگتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPAOLO MIRANDA
’لیکن برقی سرگرمی یا نیورو ٹرانسمیٹر کے اخراج میں یہ اضافہ اس بات کی وضاحت نہیں کرے گا کہ دماغ میں مواصلات یا ہم آہنگی میں کس طرح بہتری آ سکتی ہے۔‘
دماغ اور ذہن
پیٹر فین وِک جو کنگز کالج لندن میں انسٹی ٹیوٹ آف سائکیٹری کے پروفیسر تھے اور 'دی آرٹ آف ڈائیونگ' کتاب کے مصنف ہیں، نے یہ ممکنہ نتیجہ اخذ کیا کہ انسانیت اب بھی دماغ اور ذہن کے مابین فرق کو مناسب اور جامع طور سمجھ نہیں سکی۔
اس کے لے 'ٹرمینل لوسیڈیٹی' کی اصطلاح ایک پرانے تصور سے جڑی ہوئی ہے جسے 'ٹرانسمیشن تھیوری' کہا جاتا ہے، جو امریکی ماہر نفسیات اور فلسفی ولیم جیمز نے 19 ویں صدی کے آخر میں پیش کیا تھا۔
فین وِک کے مطابق، دماغ ٹیلی ویژن کی طرح ہوگا لیکن ذہن کسی اور جگہ ہے ایک عالمگیر شعور کے حصے کے طور پر۔ دماغ ذہن سے سگنل اٹھاتا ہے لیکن اسے پیدا نہیں کرتا ہے۔
ایک ٹیلیویژن خود ہی کوئی پروگرام تیار نہیں کرتا بلکہ اسے ظاہر کرتا ہے گویا یہ خارجی معلومات کو فلٹر کر رہا ہے۔
اور جب دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہوتا تو سگنل موجود ہے لیکن مسخ شدہ ہے۔ مرنے سے ذرا پہلے دماغ سگنل کو مسخ کرنا بند کر دیتا ہے اور ذہن واضح طور پر ابھرتا ہے۔
ان میں سے کسی بھی فرضی تصور کو جانچنے میں لاجسٹک، سائنسی اور اخلاقی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ مریض اب خود سائنسی علوم میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ زندگی کے اس مرحلے پر لوگوں پر تجربات (چاہے وہ ناگوار ہوں یا نہیں) ان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں یا لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ اس اہم لمحے کا تجربہ کرنے سے بھی روک سکتے ہیں۔
اگر سائنس دان ان رکاوٹوں کا حل تلاش کرسکتے ہیں تو اس کے لیے کئی ممکنہ راستے موجود ہیں، جدید ڈیمینشیا کے مریضوں میں لیوسڈیٹی کے دورانیے کو سمجھنے کے لیے مطالعے کو سپانسر کرنے والے امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ایجنگ (این آئی اے) کے مطابق یہ مرنے سے پہلے ہونا ضروری نہیں ہے۔
اس وجہ سے انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین 'پیراڈوکسیکل لیوسیڈیٹی' کی بات کرتے ہیں نہ کہ 'ٹرمینل لیوسیڈٹی کی۔‘
ان دورانیوں میں ان مریضوں کی آڈیو اور ویڈیو مانیٹرنگ کے ساتھ مطالعے موجود ہیں یا صحت سے متعلق پیشہ ور افراد اور رشتہ داروں کے ساتھ سابقہ سوالنامے ہیں جو ان کی فریکوینسی، جینیاتی عوامل، گفتگو کا مواد، دوائیوں کے استعمال وغیرہ کے بارے میں ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہADAM SCHEMM
این آئی اے کے میڈیکل سپروائزر بیسز ایلدادہ کے لیے اس امر کو سمجھنے سے ڈیمینشیا کے اور علمی کمی کے حوالے سے اب تک موجود معلومات یکسر بدل جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا 'ہم ڈیمینشیا والے لوگوں میں شعور اور شخصیت کے بارے میں اپنی تفہیم کو بھی وسیع کرسکتے ہیں جس سے ان کا خیال رکھنے کے طریقے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اور پیراڈاکسیکل لیوسیڈٹی کو بہتر طریقے سے سمجھنے سے نگہداشت کرنے والوں کو اخلاقی اور فیصلہ سازی کے خدشات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔'
ایک معنی کی تلاش
اس رجحان کے لیے پیش کیے جانے والے اہم مفروضے حتمی نہیں ہوتے اور ان میں ہماری رائے کی تصدیق کے لیے ہمیشہ مزید شواہد ڈھونڈنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
کئی دہائیوں کے دوران مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے پاس تفتیش، توجہ دینے اور کسی ایسی چیز کو یاد رکھنے کا زیادہ امکان ہے جو ہمارے عقائد کو درست بناتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے ڈاکٹر فرنینڈس کہتے ہیں 'یہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قابل ذکر کہانیاں ہیں اور ہماری یادداشت میں ان کی تعداد کو ہم زیادہ حد تک بڑھاوا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہمیں یہ تاثر بھی حاصل ہوتا ہے کہ حقیقت کے برعکس یہ کہیں زیادہ ہیں۔ اور شاید اس کی وضاحت بھی ہوسکتی ہے۔ شاید وہ خوشگوار واقعات ہوں جن کو ہم آسانی سے معمول کے واقعات میں بدل دیتے ہیں۔ '
برازیلیا کے سریو لیبانی ہسپتال میں فالج کی دیکھ بھال کی خدمات کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سیولن میڈیروس ڈی میسوڈو کے مطابق شعور میں اتار چڑھاؤ سنگین بیماریوں والے مریضوں کی زندگی کے خاتمے کے سفر کا ایک حصہ ہے۔
'کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب مریض بہتر ہوتا ہے اور دوسرے دن جب اس کی حالت خراب ہوتی ہے۔ اور یہ اتفاقی طور پر بے ترتیب طور پر، مرنے سے پہلے حالت میں کسی طرح کی بہتری ہوسکتی ہے۔
لیکن وجہ اور اثرات کے مابین تعلق واضح نہ ہونے کی وجہ سے ایسے مریض زیادہ یاد رہتے ہیں جو بہتر ہوتے ہیں لیکن پھر مر جاتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو بہتر ہوتے ہیں اور جلدی نہیں مرتے۔'
ان کے مطابق ان کےشعبے میں بھی موت سے پہلے اچانک بہتری کے واقعات کی تعداد بہت کم ہے اور اسی وجہ سے ان کی نظر میں اس امر کی وجوہ اور اثرات میں تعلق سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
اس کے برعکس میڈیروس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کی حیثیت سے ان کا یہ کام نہیں کہ وہ روحانی اعتقادات کو جھٹلائیں یا رشتے داروں کے سوالات کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں: 'کیا الوداع کہنا بہتر ہے؟ یا 'کیا آپ کو چھٹی دے دی جائے گی اور کیا آپ گھر واپس جا سکیں گے۔'
ان کا کہنا تھا 'جب مجھے اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں تکنیکی وضاحتیں موجود نہیں ہوتی ہیں تو میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ خاندان کے لیے اس کے کیا معنی ہیں اور اس تجربے سے اس تکلیف سے نمٹنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ کئی برس سے انھوں نے زندگی کے آخر میں مریضوں کے ساتھ ہونے والے تجربات کے لیے تکنیکی وضاحتیں ڈھونڈیں، لیکن آخر کار اُنھیں احساس ہوا کہ اُنھیں ان کی ضرورت نہیں ہے۔
'میں کہتا ہوں کہ ہمیں لطف اٹھانا چاہیے۔ مریض بول رہا ہے۔ وہ جو کہنا چاہتا ہے وہ کہہ دے، ان کے کہے کو سنیں۔ کیونکہ یہ لمحہ زندگی کو بدل دیتا ہے۔ یہ ایک تحفہ ہے۔ اگر کل کو موت آتی ہے یا اگر صورتحال میں بہتری آتی ہے تو، ہم کل زندہ رہیں گے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مجھے ایک مریض کا کیس یاد ہے جو مرنے سے کچھ دیر قبل نیند میں تھا اور اس نے بمشکل جواب دیا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے جب موت قریب آتی ہے۔
اس کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ دو پوتے پوتیوں کی آمد تک بچ جائیں تاکہ وہ اُنھیں دعا دے سکیں۔
'جب پوتے پوتے پہنچے تو اُنھوں نے حیرت سے آنکھیں کھولیں، بیٹھ گئے اور بہت ہی کم آواز میں ہر بچے کے لیے دعا مانگی۔ یہ ان کے خاندان کے لیے ایک مقدس لمحہ تھا اور اُن کی بیوی نے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں' ہمیں یہی چاہیے تھا۔
پھر چند گھنٹوں بعد ان کی وفات ہو گئی۔









