کریپٹو کرنسی: بٹ کوائن کی قدر پہلی بار 60 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی

معروف کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قدر پہلی بار 60 ہزار امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ بٹ کوائن مسلسل اپنے ہی بنائے گئے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔

اس کرپٹو کرنسی کی قدر گذشتہ سال کے مقابلے تین گنا بڑھی ہے۔ اسے کئی کمپنیوں نے اپنی ادائیگیوں کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قدر میں اس تازہ اضافے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے رواں ہفتے ایک سٹیمولس پیکیج کی منظوری دی ہے۔

گذشتہ ماہ مارکیٹ میں بٹ کوائن کی مجموعی قدر ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔

یہ کرپٹو کرنسی 2009 میں بنائی گئی تھی اور پہلے بھی کئی بار اس کی قدر میں حیرت انگیز اُتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ کئی بار اس کی قدر کم بھی ہوئی ہے مگر قدر میں حالیہ اضافے کی وجہ بڑی کمپنیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فروری میں مشہور کاروباری شخصیت ایلون مسک نے کہا تھا کہ ان کی الیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا نے 1.5 ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن خرید لیے ہیں۔ مستقبل میں وہ بٹ کوائن کے عوض گاڑیوں کی خرید و فروخت کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ماسٹر کارڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگیوں کا ایک نیا نظام متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں جبکہ دنیا میں اثاثوں کی نگرانی کے لیے سب سے بڑی کمپنی بلیک راک بھی ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا میں بٹ کوائن کی قدر کافی بڑھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ آن لائن شاپنگ پہلے سے زیادہ کر رہے ہیں۔ کئی افراد نے اب نوٹ یا سکے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔

بٹ کوائن کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی کرنسی نہیں بلکہ افواہوں کی بنیاد پر تجارت کا ایک ذریعہ ہے جس میں مارکیٹ کے ذریعے رد و بدل ہو سکتی ہے۔ ماحول پر اس کے اثرات بھی باعث تشویش ہیں۔ بٹ کوائن کی ڈیجیٹل منتقلی کے لیے کافی توانائی درکار ہوتی ہے۔