انڈونیشیا: ساڑھے 45 ہزار سال قبل غار میں بنائی گئی قدیم ترین تصویر دریافت

،تصویر کا ذریعہMAXIME AUBERT
ماہرین آثار قدیمہ نے انڈونیشیا میں ایک غار کی دیوار پر بنی دنیا کی قدیم ترین تصویر دریافت کی ہے۔ یہ تصویر ایک جنگلی سور کی ہے، اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ 45 ہزار پانچ سو سال پہلے بنائی گئی تھی۔
اس تصویر میں گہرے سرخ رنگ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ’سلواسی وارٹی سور‘ کے اصل سائز کی تصویر ہے۔
اس پینٹنگ کو سلواسی جزیرے پر ایک دور افتادہ وادی میں لیانگ ٹیدونگنے غار میں دریافت کیا گیا ہے۔ یہ اس خطے میں انسانی آبادی کا قدیم ترین ثبوت ہے۔
اس پینٹنگ پر ’سائنس ایڈوانسس جرنل‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے شریک مصنف میکسیم آبرٹ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے یہ تصویر بنائی ہوگی وہ پوری طرح سے جدید تھے، وہ ’بالکل ہماری طرح تھے، اور کسی بھی طرح کی تصویر بنانے کے لیے درکار آلات اور صلاحیت رکھتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہA.A. OKTAVIANA
میکسیم آبرٹ آثار قدیمہ کی تاریخ طے کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ انھوں نے تصویر کے اوپر جم جانے والے ایک ’کیلسائٹ ڈپازٹ‘ کی یورینیم ڈیٹنگ کر کے یہ اندازہ لگایا ہے کہ وہ ڈپازٹ ساڑھے 45 ہزار سال پرانا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تصویر کم سے کم اتنی ہی پرانی ہے۔ لیکن میکسیم آبرٹ کہتے ہیں، ’یہ تصویر اس سے بھی زیادہ پرانی ہو سکتی ہے، کیونکہ ہم صرف ڈپازٹ کی عمر کا ہی پتا لگا سکتے ہیں۔‘
یہ تصویر 136 سینٹی میٹر چوڑی اور 54 سینٹی میٹر لمبی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں ایک سور دیکھا جا سکتا ہے جس کے چہرے پر سینگ نما مسے ہیں۔ جو کہ سور کی اس قسم کی نشانی ہیں۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سور کی پیٹھ کے اوپر ہاتھوں کے دو نشان بھی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ سور دو دیگر سوروں کے سامنے کھڑا ہے، لیکن ان دو کے خاکے پوری طرح محفوظ نہیں رہ پائے ہیں۔
شریک مصنف ایڈم برم کہتے ہیں، ’ایسا لگتا ہے کہ یہ سور دو دیگر سوروں کے درمیان جاری لڑائی یا کچھ ایسا دیکھ رہا ہے۔‘
تحقیق کاروں کے مطابق ہاتھوں کے نشان بنانے کے لیے مصور کو اپنے ہاتھ ایک جگہ پر رکھ کر ان پر رنگ کو تھوکنا پڑا ہوگا۔ ٹیم کو امید ہے کہ وہ ان سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر سکے گی۔

،تصویر کا ذریعہA.A. OKTAVIANA
یہ تصویر کسی چیز کی قدیم ترین پینٹنگ ضرور ہے لیکن جنوبی افریقہ میں دریارفت ہونے والی ایک ڈرائنگ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 73 ہزار سال پرانی ہے۔
مزید دریافتیں
بی بی سی کے نامہ نگار برائے سائنسی امور سپانڈنٹ جاناتھن ایموس کا کہنا ہے کہ سلواسی اس طرح کے آثار قدیمہ کے لیے مرکزی مقام ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’یہ والاسیہ نامی جزیروں کے ایک گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس گروپ کے درمیان سے ایک لکیر سی گزرتی ہے اور اس لکیر کے دونوں اطراف پر بالکل مختلف اقسام کے پودے اور جانور پائے جاتے ہیں۔
لیکن والاسیہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جس کے ذریعے جدید انسانوں نے آسٹریلیا تک رسائی حاصل کی ہو گی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں، ’ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان تقریباً 65 ہزار سال پہلے وہاں موجود تھے۔ اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت یا اس سے پہلے بھی سلواسی میں بھی موجود ہوتے۔ اور اس سے اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ ہمیں اس علاقے میں اور بھی قدیم تصاویر مل سکتی ہیں جو کہ ساڑھے 45 ہزار سال سے بھی پرانی ہوں۔ یعنی مزید دریافتوں کے لیے تیار رہیں!‘

،تصویر کا ذریعہA.A. OKTAVIANA










