کرپٹو کرنسی: 'ایک دن ہر کوئی چینی ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرے گا'

    • مصنف, ڈینی ونسنٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، ہانگ کانگ

کرپٹو کرنسی، یعنی وہ ڈیجیٹل کرنسی جو حکومتوں اور وفاقی بینکوں کے قواعد کی پابندیوں سے مستثنی ہوتی ہیں اور انھیں خود سے بنایا جا سکتا ہے اور انفرادی طور پر استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، اور چانڈلر گؤو کرپٹو کرنسی کی صنعت میں ایک رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آج سے چھ سال قبل 2014 میں انھوں نے چین کے مغربی حصے میں ایک خفیہ مقام پر ایسی ہی ایک کرنسی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا جس کا نام 'بٹ کوائن' رکھا گیا۔

بٹ کوائن کو تیار کرنا آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے بجلی اور توانائی استعمال کرنے کے لیے بہت وسائل اور درجنوں کمپیوٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے چانڈلر نے اپنے منصوبے کے لیے ایک مقامی سرکاری اہلکار کی مدد سے ہائڈرو پاور پلانٹ سے بجلی حاصل کی۔

اپنے عروج پر چانڈلر گؤو کی مشینیں دنیا میں موجود بٹ کوائن کا 30 فیصد تیار کرتی تھی۔ ان کو امید تھی کہ ایک دن بٹ کوائن نہ صرف دنیا بدل دے گا بلکہ ڈالر کا نعم البدل بن جائے گا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

لیکن اب وہ ایک نئے نظام کو ابھرتا ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

یہ نظام رقم ادا کرنے کا ایک خود کار نظام ہے جو چینی حکومت نے تیار کیا ہے اور اس کا نام 'ڈیجیٹل کرنسی الیکٹرانک پے منٹ' یعنی (ڈی سی ای پی) رکھا گیا ہے۔

یہ نظام چین کی اپنی کرنسی، یوان کا ڈیجیٹل نعم البدل ہے اور چانڈلر گؤو کا خیال ہے کہ آنے والے وقتوں میں ڈی سی ای پی ہی ایک عالمی کرنسی بن کر ابھرے گا۔

'ایک دن ایسا آئے گا جب ہر کوئی اسے استعمال کر رہا ہوگا۔ یہ اس لیے بھی کامیاب ہوگی کیونکہ دنیا بھر میں چینی افراد پھیلے ہوئے ہیں اور اگر ان کا چین سے کوئی تعلق ہے، تو وہ ڈی سی ای پی استعمال کریں گے اور اس کی مدد سے اس کو عالمی کرنسی بنا سکیں گے۔'

لیکن کئی لوگوں کا اس پر سوال ہے کہ کیا یہ کامیاب ہو سکے گی، اور کہیں اس کی مدد سے چینی حکومت اپنی ہی شہریوں کی جاسوسی تو نہیں کر رہی ہوگا۔

بٹ کوائن کی طرح ڈی سی ای پی بھی بلاک چین ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی میں نیٹ ورک پر پوری دنیا میں کیے جانے والی رقوم ترسیل (جسے ٹرانزیکشن کہا جاتا ہے) کا ریکارڈ ہوتا ہے اور اسے استعمال کرنے والے صارفین مل کر تصدیق کرتے ہیں کہ ہونے والی ٹرانزیکشن حقیقی ہے یا نہیں۔

عام استعمال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو بینک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

چینی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ڈی سی ای پی کا اس سال آغاز کرنا چاہتے ہیں لیکن چین کے سرکاری بینک 'پیپلز بینک آف چائنا' نے ابھی تک ملک بھر میں شروعات کی کوئی تاریخ نہیں متعین کی ہے۔

چین نے اپنے چند مخصوص شہروں میں اس سال کے شروع میں ڈی سی ای پی کا تجرباتی استعمال شروع کیا تھا۔

باضابطہ آغاز کے بعد صارفین کے پاس سہولت ہوگی کہ وہ ڈیجیٹل والٹ ڈاؤن لوڈ کر لیں اور اس کی مدد سے رقم کی ترسیل کر سکیں یا وصول کر سکیں۔

بیجنگ میں ٹریوئیم کمپنی سے منسلک ایک تجزیہ کار لنگہاؤ باؤ کا کہنا تھا کہ 'وقت کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز بینک آف چائنا پر اس منصوبے کو شروع کرنے کا بہت دباؤ ہے کیونکہ وہ یہ نہیں چاہیں گے کے فیس بک کی جانب سے شروع کردہ ڈیجیٹل کرنسی 'لبرا' کو عالمی مقبولیت مل جائے جسے وہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام سے بھی زیادہ برا سمجھتے ہیں جو کہ امریکی کنٹرول میں ہے۔'

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کی خواہش ہے کہ یوان ایک عالمی کرنسی بن جائے تاکہ وہ ڈالر سے مقابلہ کر سکے۔

چین کی کرپٹو کرنسی پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ 'چینی حکومت کو یقین ہے کہ اگر دوسرے ممالک چین کی کرنسی استعمال کرنا شروع کر دیں تو اس سے امریکی کی مالیاتی اجارہ داری ٹوٹ سکتی ہے۔ امریکہ نے موجودہ مالیاتی نظام اور اس میں استعمال کرنے والے طور طریقے تیار کیے ہیں۔'

بٹ فول کے نام سے معروف اس تجزیہ نگار نے کہا کہ ڈیجیٹل کرنسی ہی مستقبل ہیں۔

'روایتی بینکنگ نظام کے تحت کسی غریب ملک میں کام نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس دس ڈالر ہوں تو بینک اس کی مدد سے پیسے نہیں بنا سکتا۔ لیکن اگر آپ کے پاس ڈیجیٹل کرنسی ہوئی تو ہر کوئی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔'

یہ حقیقت ہے کہ فیس بک نے لبرا شروع کرنے کے منصوبے کو ملتوی کر دیا ہے لیکن یہ ابھی بھی چین کے لیے خطرہ ہے۔ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اس سال کے آخر میں 'نووی' نامی ایک ڈیجیٹل والٹ کا آغاز کریں گے۔

تجزیہ نگار لنگہاؤ باؤ کہتے ہیں کہ دونوں فریقین اس وقت مالیاتی جنگ میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک ان دونوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔

دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس معاملے میں امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگے ہے۔

یہ بات عالمی طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ چین کا ڈیجیٹل پے منٹ نظام دنیا میں سب سے عمدہ اور جدید ہے اور جس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، بہت جلد چینی معاشرہ کرنسی نوٹس سے چھٹکارا حاصل کر لے گا۔

اوسطاً دیکھا جائے تو گذشتہ سال چین میں ہونے والی ہر پانچ میں سے چار پے منٹس میں چین کی ٹیکنالوجی کمپنیاں ٹین سینٹ کے ڈیجیٹل نظام یا علی بابا کے ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوئی تھیں۔

بٹ فول کہتے ہیں کہ امریکہ عالمی مالیاتی نظام میں سب سے آگے ہے لیکن وہ چین کی طرح اس بات کی خواہش نہیں رکھتے کہ وہ مالیاتی نظام اور ڈیجیٹل کرنسی میں کوئی تبدیلی لائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین اس کا استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن امریکہ کے لیے لبرا صرف ایک عارضی متبادل ہے۔

'غریب ممالک میں اور حتی کہ چین میں بھی کئی افراد گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس بہت دولت نہیں ہے لیکن وہ بھی سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ اور اگر آپ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو آپ ڈی سی ای پی استعمال کر سکتے ہیں۔'

دوسری کرپٹو کرنسی جیسے بٹ کوائن یا ایتھریم کسی سرکاری نگرانی سے بالاتر ہوتی ہیں لیکن ڈی سی ای پی مکمل طور پر سرکاری کنٹرول میں ہوگی۔

اور بن کوائن استعمال کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ انھیں اسی بات کا ڈر ہے کہ چینی حکومت اس کرنسی کو جاسوسی کے آلے کے طور پر استعمال کرے گی۔

اس کی مدد سے حکام کو ہر وقت یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ رقم کب کہاں اور کیسے خرچ کی جا رہی ہے اور اس پر وہی قواعد لاگو ہوں گے جو کہ یوان پر ہیں۔

یوان کی قدر چینی حکومت کی مرضی سے اوپر نیچے ہوتی ہے اور چینی کرنسی کا شرح مبادلہ امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات کی ایک اہم وجہ ہے۔

امریکہ چین پر الزام لگاتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر یوان کو کمزور رکھتا ہے تاکہ چینی معیشت کو فائدہ پہنچ سکے۔

ہانگ کانگ میں کرپٹو کرنسی کے ایک ماہر سٹیوارٹ میک کنزی کا کہنا ہے کہ ڈی سی ای پی بٹ کوائن کے بالکل متضاد چیز ہے۔

'کرپٹو کرنسی کا بنیادی مقصد تھا کہ روپے پیسے کو سرکاری نگرانی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے کہنا آسان ہے کہ یہ بٹ کوائن جیسا ہے لیکن وہ ویسا بالکل بھی نہیں ہے۔'

لنگہاؤ باؤ بھی اسی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

'ڈی سی ای پی مرکزی کنٹرول کے نظام کے تحت بنایا گیا ہے۔ جبکہ ڈی سی ای پی کی قدر اس بات میں تھی کہ وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے اور روایتی مالیاتی نظام سے علیحدہ ہے۔'

تجزیہ نگار بٹ فول نے کہا: 'میں بٹ کوائن پر زیادہ اعتماد کرتا ہوں، کیونکہ وہ واقعی میری کرنسی ہے۔'