بریسٹ کینسر: شہد کی مکھی کا زہر ’چھاتی کے سرطان کے کچھ خلیوں کو تلف کرتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں کیے جانے والے تجربوں سے معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھیوں میں پایا جانے والا زہر چھاتی کے سرطان کے چند جارحانہ خلیوں کو تلف کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ زہر جو دراصل میلیٹن نامی ایک کمپاؤنڈ ہوتا ہے اور اسے ایسی اقسام کے سرطان کے خلاف استعمال کیا گیا جن کا علاج مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ان میں ٹرپل نیگیٹو اور ہر2-اینرچڈ شامل ہیں۔
اس دریافت کو ’دلچسپ‘ قرار دیا جا رہا ہے لیکن سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی مزید تجربات اور تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں خواتین میں خاصا عام ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے ہزاروں کیمیائی اجزا ہیں جو لیبارٹری میں سرطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت کم انسانوں میں علاج کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مکھیوں میں پائے جانے والے زہر میں اس سے پہلے بھی سرطان مخالف خصوصیات پائی گئی تھیں جن سے میلانوما سمیت سرطان کی دیگر اقسام کا علاج کیا جا سکتا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی ہیری پرکنز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کی یہ تحقیق نیچر پریسیژن آنکولوجی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
محققین کو کیا معلوم ہوا؟
اس تحقیق کے دوران 300 سے زائد شہد کی چھوٹی اور بڑی مکھیوں کے زہر کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے۔
25 سالہ پی ایچ ڈی ریسرچر سیارا ڈفی اس تحقیق کی سربراہی کر رہی تھیں اور اُن کے مطابق شہد کی مکھیوں سے ملنے والے زہر کے اثرات ’انتہائی طاقتور تھے۔‘
زہر کی ایک مقدار کے نتیجے میں سرطان کے خلیے ایک گھنٹے میں تلف ہو گئے اور ان سے دوسرے خلیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم مقدار بڑھانے سے اس کے اثرات بھی زیادہ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہHARRY PERKINS INSTITUTE
محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ میلیٹن کمپاؤنڈ ازخود بھی کینسر کے خلیوں کی افزائش کو ’روکنے‘ میں مدد دیتا ہے۔
میلیٹن قدرتی طور پر شہد کی مکھی کے زہر میں پایا جاتا ہے لیکن اسے کیمیائی تجربے کے ذریعے بھی بنایا جا سکتا ہے۔
عام طور پر ٹرپل نیگیٹو کینسر بریسٹ کینسر کی سب سے موذی قسم سمجھا جاتا ہے اور اس کا سرجری، ریڈیوتھیراپی اور کیمیوتھیراپی کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ یہ قسم چھاتی کے سرطان کا کل 10 سے 15 فیصد ہوتا ہے۔
کیا اسے مستقبل میں استعمال کیا جا سکے گا؟
بدھ کے رؤز ویسٹرن آسٹریلیا کے چیف سائنسدان نے اس تحقیق کو ’انتہائی دلچسپ‘ قرار دیا۔
پروفیسر پیٹر کلنکین نے کہا کہ ’یہ تحقیق ایک انتہائی اہم انکشاف کرتی ہے کہ کیسے میلیٹن چھاتی کے سرطان کے خلیوں میں داخل ہو کر ان کے سگنلنگ کے نظام میں خلل پیدا کرتا ہے جس سے یہ مزید بڑھ نہیں پاتے۔
’یہ ایک انتہائی خوبصورت مثال ہے کہ کیسے ہم قدرت میں موجود کمپاؤنڈز کے ذریعے انسانی بیماریوں کا علاج ڈھونڈ سکتے ہیں۔‘
تاہم محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ زہر کینسر سے لڑنے والی دوا کے طور پر استعمال کی جا سکتا ہے۔
سرطان پر تحقیق کرنے والے دیگر محققین اس بات سے متفق ہیں۔
’سڈنی کے گارون انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ اسوسیئیٹ پروفیسر ایلکس سواربک کہتے ہیں کہ ’ابھی یہ سب بہت قبل از وقت ہے۔ متعدد کمپاؤنڈز ایک ڈش یا چوہوں میں چھاتی کے سرطان کے خلیے کو تلف کر سکتے ہیں۔ لیکن ابھی اس حوالے سے کلینکل پریکٹس تبدیل کرنے میں خاصا وقت اور مزید تحقیق درکار ہو گی۔‘











