زیتون کے درختوں کو لگنے والی بیماری سے ’اربوں کا نقصان ہو سکتا ہے‘

    • مصنف, میٹ میگراہ
    • عہدہ, ماحولیات کے نامہ نگار

تحقیق کاروں کے مطابق پیتھوجن یا مرض پھیلانے والا جرثومہ یورپ میں زیتون کے درختوں کو تباہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے معیشت کو 20 ارب یورو کے نقصان کا خطرہ ہے۔

انھوں نے زائیلیلا فاسٹڈیوسا نامی پیتھوجن کے مستقبل میں انتہائی بدترین اثرات کے متعلق ایک ماڈل تشکیل دیا ہے۔ اس جرثومے نے اٹلی میں بڑے پیمانے پر زیتون کے درخت تباہ کر دیے ہیں۔

یہ بیکٹیریا کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور اب سپین اور یونان میں زیتون کی فصلوں کو اس سے سے ممکنہ نقصان کا خطرہ بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق ’اس بیماری کی وجہ سے زیتون کا تیل مہنگا ہو سکتا ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔‘

زائیلیلا کو ایک انتہائی خطرناک جرثومہ سمجھا جا رہا ہے، جو پودوں کے لیے دنیا میں کہیں بھی شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

فی الحال اس جرثومے سے ہونے والے انفیکشن کا کوئی علاج نہیں ہے۔

یہ زیتون کے علاوہ چیری، بادام اور آلوبخارے کے درختوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2013 میں اٹلی کے جنوبی علاقے پگلیا میں زیتون کے درختوں میں اس کے سٹرین دیکھے گئے تھے۔

یہ رس چوسنے والے کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے جیسا کہ سپٹل بگز۔

یہ انفیکشن درخت کی پانی اور غذائی اجزا کو اوپر تک لے جانے والی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور آہستہ آہستہ پودا مرجھانے کے بعد مر جاتا ہے۔

اٹلی میں اس بیماری کے پھیلنے کے اثرات بہت نقصان دہ نظر آئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس جرثومے کے سنہ 2013 میں پہلی بار سامنے آنے کے بعد سے فصلوں کی پیداوار میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اٹلی میں سی این آر انسٹیٹیوٹ فار سسٹین ایبل پلانٹ پروٹیکشن کی ڈاکٹر ماریا ساپوناری کہتی ہیں کہ ’زیتون میں نقصان کی وجہ سے زمین کی قیمت اور علاقے میں سیاحت میں دلچسپی بھی کم ہو گئی ہے۔

’اس سے مقامی معیشت اور زراعت سے منسلک پیشوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

اٹلی کے علاوہ زائیلیلا بیکٹیریا سپین، فرانس اور پرتگال میں بھی پایا گیا ہے۔

اس بیماری سے اس وقت نمٹنے کے لیے متاثرہ درختوں کو کاٹا جا رہا ہے اور پودوں کے مواد کو لانے لے جانے میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ جو کیڑے اس بیماری کو پھیلاتے ہیں، انھیں بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن اگر یہ اقدامات بھی ناکام ہو گئے تو اس کا معیشت پہ کیا اثر پڑے گا؟

اس نئی تحقیق میں تحقیق کاروں نے مختلف مفروضوں کے ماڈل بنائے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر درخت مر جاتے ہیں تو کیا ہو گا۔

انھوں نے اس بدترین صورت کے خاکے کا موازنہ مزاحمت کرنے والی قسموں سے انھیں بدلنے سے کیا ہے۔

ٹیم نے اٹلی، سپین اور یونان کے حوالے سے تخمینے لگائے ہیں۔

یہ تینوں ممالک مل کر 95 فیصد زیتون کا تیل بناتے ہیں۔

اگر سپین میں یہ انفیکشن مزید پھیل گیا تو زیادہ تر درخت متاثر یعنی مر جائیں گے، جس سے اگلے 50 برسوں کے عرصے تک 17 ارب یورو تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔

اس بیماری سے اٹلی پانچ ارب یورو سے زیادہ جبکہ یونان میں دو ارب یورو کے قریب نقصان ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر انفیکشن آہستہ ہو گیا یا پودوں کی ایسی قسمیں لگائی گئیں جن میں اس بیماری کے خلاف مدافعت ہوئی تو اس سے نقصان بہت حد تک کم ہو جائے گا۔

تاہم جو بھی ہو، اس تحقیق کے مصنفین کو یقین ہے کہ اس کا اثر صارفین پر پڑے گا۔

تحقیق کے سربراہ کیون شنائیڈر، جن کا تعلق نیدر لینڈ کی ویجیننجن یونیورسٹی سے ہے، کہتے ہیں کہ اس کا ’ممکنہ اثر سپلائی میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

’اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر قیمتیں اوپر جاتی ہیں تو سب سے زیادہ نقصان صارفین کا ہو گا۔‘

محققین کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے تجزیے میں معاشی نقصان پر روشنی ڈالی گئی ہے لیکن بیکٹریا سے بڑے پیمانے پر ہونے والے سیاحتی اور ثقافتی نقصانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر شنائیڈر کہتے ہیں کہ ’آپ کو یقیناً ایسی تباہ کن کہانیاں سننے کو ملیں گی کہ جو باغات کئی نسلوں سے وراثت میں چلے آ رہے تھے وہ متاثر ہو گئے ہیں۔

’یہ وہی باغ ہے جہاں کبھی ان کا دادا کام کرتا تھا۔ سو آپ اس طرح کے نقصان کے آگے اقتصادی نمبر کس طرح لگا سکتے ہیں؟ ثقافتی ورثے کی قدر اس نقصان سے کہیں زیادہ ہو گی جس کا ہم حساب لگائیں گے۔‘

بیکٹیریا سے سائنسی بنیادوں پر لڑنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جن میں کیڑوں کو بگھانے والی مٹی، پودوں سے بنائی گئی سرحدیں اور جینیاتی تجزیے کہ کیوں کچھ پودے انفیکشن سے دوسرے پودوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

تحقیق کار سمجھتے ہیں کہ اس جرثومے کے حتمی خاتمے کے لیے آخر کار ان درختوں کی ضرورت ہو گی جو اس سے پیدا ہونے والی بیماری کے خلاف مدافعت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر ساپوناری کہتی ہیں کہ ’ایسی فصل کاشت کرنا جو مدافعت رکھتی ہو یا مدافعت والی سپیشیز ہی سب سے زیادہ امید افزا اور ماحولیاتی طور پر پائیدار، دیرپا حکمت عملی ہے، جس پر یورپی سائنسی برادری متعلقہ تحقیقاتی کوششیں کر رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کیڑوں کی نسل کو کم کرنے کی پائیدار حکمتِ عملی اس بیماری پر کنٹرول کرنے کا ایک ستون ہے اور اس حوالے سے بہار میں جڑی بوٹیوں کو مکینیکل طریقے سے اکھاڑنا ایک نہایت کار آمد عمل ہے۔

’یقیناً کیڑوں پر کنٹرول کے لیے دوسری کئی حکمتِ عملیوں پر بھی غور ہو رہا ہے۔‘

اگرچہ زیتون کے درخت کی دو قسموں میں اس بیماری کے خلاف کچھ مزاحمت دیکھی گئی ہے، تاہم محققین کا خیال ہے کہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) میں شائع ہوئی ہے۔