#coronavirus: وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ووہان شہر سے پروازیں، ٹرینیں منسوخ، شہریوں میں اضطراب

چین، ووہان، شنگھائی، کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر ووہان کے رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہر سے نہ نکلیں

چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کی وبا کے سبب اب تک 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی حکومتی کوششوں نے شہریوں کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔

حکام نے شہر سے ٹرینوں، پروازوں، بسوں، سب وے ٹرینوں اور کشتیوں کے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی ہے کہ کہیں ان میں سفر کرنے والوں کے ذریعے وائرس دوسرے علاقوں تک نہ پھیل جائے۔

ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر ووہان کے رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہر سے نہ نکلیں۔ اسی دوران مقامی افراد کی جانب سے غذائی قلت کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسی ہفتے چینی نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے جسے منانے کے لیے بڑی تعداد میں شہری چھٹیوں پر سفر کرنے کی تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پروازیں منسوخ

ووہان کے ایک شہری نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر لکھا کہ جب انھیں ان بندشوں کی اطلاع ملی تو وہ ’رونے والے‘ تھے۔

مگر جمعرات کو بھی شہر سے باہر جانے والی تمام پروازیں معطل رہی ہیں۔ شہر میں بظاہر اب بھی کئی پروازیں آ رہی ہیں مگر زیادہ تر پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔

سنگاپور اور ووہان کے درمیان روزانہ ایک پرواز آپریٹ کرنے والی سنگاپور ایئرلائنز کی ذیلی کمپنی سکوٹ نے بھی جمعرات کو اس روٹ پر اپنی پرواز منسوخ کر دی۔

یاد رہے کہ اب تک اس وائرس کے 500 سے زائد تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں اور 17 افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین، ووہان، شنگھائی، کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن23 جنوری کو شنگھائی سے ووہان جانے والی ایک ٹرین میں تعطیلات کے موسم کے باوجود چند ہی افراد سوار ہیں

ہانگ کانگ میں اولین کیسز رپورٹ

جمعرات کو چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ہلاک ہونے والے 17 افراد کی تفصیلات جاری کیں جن کے مطابق ہلاک شدگان کی کم سے کم عمر 48 اور زیادہ سے زیادہ 89 تھی۔

ان میں زیادہ تر افراد عمر رسیدہ تھے اور ذیابیطس اور پارکنسن جیسے دیگر تکلیف دہ امراض کے شکار تھے۔

تمام ہلاکتیں ووہان کے نزدیکی صوبے ہوبئی میں واقع ہوئی ہیں جبکہ اب یہ وائرس بیرونِ ملک بھی پھیل چکا ہے۔

بدھ کو ہانگ کانگ کے حکم نے اپنے زیرِ انتظام علاقے میں اولین دو کیسز رپورٹ کیے جبکہ قریبی شہر مکاؤ سے بھی ایک کیس رپورٹ ہوا۔

امریکہ میں اس وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق منگل کو ہوئی۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجمعرات سے ووہان شہر سے نکلنے والی تمام ٹرین اور پرواز بند کر دی جائیں گی

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس پر اپنی ایمرجنسی میٹنگ بلائی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ فی الوقت اس وائرس کی وجہ سے 'عالمی ایمرجنسی' نافذ نہیں کی جائے گی۔

ماضی میں ڈبلیو ایچ او نے ایبولا وائرس، زیکا وائرس اور سوائن فلو کے پھیلاؤ کے موقع پر عالمی ایمرجنسی نافذ کی ہیں۔

ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس غیب ریئسوس نے کہا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں ابھی مزید معلومات درکار ہیں اور ماہرین صحت کی کمیٹی اس حوالے سے جمعرات کو دوبارہ جنیوا میں ملاقات کرے گی۔

ووہان شہر میں کیا احکامات جاری کیے گئے ہیں؟

شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر کم سے کم جائیں اور بڑے مجمع میں جانے سے گریز کریں۔

گذشتہ سال ووہان میں نئے سال کی آمد کے موقع پر گئیوان ٹیمپل میں تقریب ہوئی تھی جس میں سات لاکھ افراد نے شرکت کی تھی مگر اس سال وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔

چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے نائب منسٹر لی بن نے وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پہلی عوامی پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ووہان مت جائیں، اور جو لوگ ووہان میں رہتے ہیں، وہ شہر مت چھوڑیں۔‘

وائرس

،تصویر کا ذریعہKEVIN FRAYER

’پاکستان میں کورونا وائرس کا الرٹ جاری‘

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم سے ہلاکتوں کے بعد پاکستانی حکام بھی حرکت میں آ گئے ہیں اور یہاں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

چین میں محکمہ صحت کے عہدیداروں خبردار کر چکے ہیں کہ یہ نیا وائرس میوٹیشن یا تغیر کی صلاحیت رکھتا ہے اور انسان سے انسان میں منتقلی کی وجہ سے اس کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس، جسے 2019 این سی او وی بھی کہا جاتا ہے، کورونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے، جس کی اس سے قبل انسانوں میں شناخت نہیں ہوئی تھی۔

اس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس کی قلت اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔

یہ وائرس چینی صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں ایک غیرقانونی مویشی منڈی سے شروع ہوا تھا اور اب تک اس کے 440 مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں۔

اسی حوالے سے پاکستان کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے بدھ کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے متن کے مطابق چین میں اس وائرس کی تشخیص کے بعد اب تک 200 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ چین کے علاوہ امریکہ، تھائی لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا سے بھی اس کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین کے علاوہ اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد ہانگ کانگ، امریکہ اور دیگر ممالک میں پائے گئے ہیں

بی بی سی اردو کی سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے انفیکشن اور قرنطینہ کے شعبے کے ترجمان ڈاکٹر ممتاز علی خان نے بتایا کہ چین سے پاکستان آنے والی پروازوں کے مسافروں کے معائنے کے لیے سکریننگ ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں اور کراچی، لاہور اور اسلام آباد پر تعینات ہیلتھ افسران کی حال ہی میں ٹریننگ بھی کروائی گئی ہے۔

ڈاکٹر ممتاز نے بتایا ’سکریننگ ڈیسکس پر چین سے آنے والی پروازوں سے اترنے والے مسافروں کا طبی معائنہ کیا جائے گا، جسے ہم ریپڈ سکریننگ کہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگر کسی بھی مسافر میں وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو اسے اسلام آباد میں پمز، کراچی میں جناح اور لاہور میں میو ہسپتال منتقل کیا جائے گا جہاں تیاریاں کر لی گئی ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ’چین سے متصل سوست اور خنجراب کی سرحد پر بھی ایک ٹیم تعینات کی گئی ہے جس میں دو ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف شامل ہے۔‘

این آئی ایچ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس وائرس کی تشخیص اب تک اُن افراد میں ہوئی ہے جو یا تو چین میں گوشت کی مارکیٹ میں کام کرتے تھے یا وہاں کچھ خریدنے کی غرض سے گئے تھے۔

وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس وائرس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ چین کے شہر ووہان سے جانوروں کی ایک غیر قانونی مارکیٹ سے پھوٹا

کورونا وائرس کے بارے میں تازہ ترین معلومات کیا ہیں؟

اب تک ملنے والے شواہد کے مطابق، انسانوں میں اس وائرس کے پھیلنے کی چند بڑی وجوہات میں کسی بیمار جانور کے نزدیک جانا، ایسے جانور کا گوشت کھانا یا پہلے سے اس وائرس میں مبتلا انسان سے دوسرے میں منتقل ہونا شامل ہے۔ ان شواہد کی تصدیق چینی حکام نے کی ہے۔

چین نے اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کی ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ملک اس وائرس کی روک تھام اور کنٹرول کے ’انتہائی نازک مرحلے‘ پر ہے۔

اس وائرس کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ بیماری ’بنیادی طور پر سانس کی نالی کے ذریعے پھیلی۔‘

لیکن چین ابھی تک اس وائرس کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

لی بن نے کہا ’اگرچہ ابھی تک اس وائرس کے ٹرانسمیشن روٹ کو پوری طرح سے سمجھا جانا باقی ہے لیکن اس وائرس میں تغیر کی صلاحیت موجود ہونے کا امکان اور اس وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 2197 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے۔

ایک ایسے مریض کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے جس نے 10 سے زائد افراد میں یہ وائرس منتقل کیا۔

ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان میں کم از کم 15 طبی کارکن، جو اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے وہ بھی اس کا شکار ہیں۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی حکام کی جانب سے کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے

یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے؟

امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔

امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔

امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہائی میں ہے اور سی ڈی سی کے مطابق وہ 15 جنوری کو چین سے واپس امریکہ آیا تھا۔

سی ڈی سی کے اعلامیے کے مطابق مریض نے واشنگٹن ریاست کے ایک ہسپتال میں اپنے علاج کے لیے رابطہ کیا تھا جہاں ان کی مرض کی تشخیص اور علاج ہوا۔

’مریض کے سفری ریکارڈ اور طبی علامات کو دیکھ کر ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ انھیں کورونا وائرس ہے۔ ان کے سائنسی تجزیے اور تجربے کرنے کے بعد 20 جنوری کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مریض کورونا وائرس ہے۔‘

جنوبی کوریا نے بھی پیر کے روز اپنے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے جبکہ تھائی لینڈ میں دو اور جاپان میں بھی ایک کیس سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد حال ہی میں ووہان سے واپس آئے تھے۔

ان کیسز میں تیزی سے اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاکھوں چینی باشندے نئے قمری سال کے موقع پر سفر کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناب تک کورونا وائرس سے 17 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے

سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔

برطانوی ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1700 کے قریب ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین میں اس وقت اس وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد 218 ہے۔

یہ وائرس کیا ہے؟

اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا جہاں ان پر تحقیق کی گئی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔

ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اس نئے وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق انسانوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنھیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔