جنسی وائرس ایچ پی وی کے بارے میں غلط فہمیاں

،تصویر کا ذریعہLAURA FLAHERTY
ایک تازہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 80 فیصد لوگوں کو متاثر کرنے والے اور جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہونے والے ایچ پی وائرس سے بڑے پیمانے پر شرم اور خجالت کا تصور وابستہ ہے۔
برطانوی حکومت ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) کی ٹیسٹنگ کو سروائیکل کینسر کی سکریننگ کے حصے کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔
سروے میں حصہ لینے والی نصف کے قریب خواتین کا خیال تھا کہ اگر وہ ایچ پی وی سے متاثرہ ہیں تو ان کے ساتھی نے ضرور بےوفائی کی ہو گی۔ لیکن یہ وائرس برسوں تک خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔
کارکنوں کو خدشہ ہے کہ بہت سی عورتیں اس بیماری سے وابستہ کلینک کے باعث سکریننگ میں حصہ نہیں لیتیں۔
جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس سروے میں دو ہزار عورتوں نے حصہ لیا۔
اس سے ظاہر ہوا کہ وائرس سے متاثرہ نصف کے قریب عورتیں شرمندگی محسوس کرتی ہیں اور انھوں نے 'جنسی تعلقات ترک کر دیے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
35 فیصد خواتین کو سرے سے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایچ پی وی ہوتا کیا ہے اور 60 فیصد نے کہا کہ اس کا مطلب ہے انھیں کینسر ہو گیا ہے۔
سروے میں حصہ لینے والی 31 سالہ لارا فلیرٹی نے کہا: ’جب مجھے معلوم ہوا کہ میں ایچ پی وی سے متاثرہ ہوں تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب میں نے گوگل کیا تو پتہ چلا کہ یہ جنسی تعلق سے منتقل ہونے والا مرض ہے، اس لیے قدرتی طور پر مجھے گمان گزرا کہ میرا ساتھی مجھ سے بےوفائی کر رہا ہے۔
’مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہ غلیظ محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے احساس نہیں تھا یہ وائرس اتنے عرصے تک خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی۔ میرے کسی ساتھی نے اس کے بارے میں نہیں سنا تھا، حالانکہ یہ اکثر خواتین کو لاحق ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSIPHOTOGRAPHY
ایچ پی وی کے بارے میں عام غلط فہمیاں
غلط فہمی 1: یہ وائرس صرف جنسی تعلق سے پھیل سکتا ہے
حقیقت: یہ درست ہے کہ عام طور پر یہ وائرس جنسی تعلق سے پھیلتا ہے، لیکن یہ جلد کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور جنسی اعضا اور منھ کے آس پاس کی جگہوں سے۔
غلط فہمی 2: ایچ پی وی کا مطلب بےراہ روی ہے
حقیقت: 80 فیصد لوگ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایچ پی وی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں پھیل سکتا ہے اور پہلے جنسی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
غلط فہمی 3: ایچ پی وی کا مطلب کینسر ہے
حقیقت: ایچ پی وی کی 200 کے قریب اقسام ہیں۔ ان میں سے 13 کینسر کا باعث بن سکتی ہیں، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
(ماخذ: جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ)
ایچ پی وی کے خلاف ایک موثر ویکسین موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔
گذشتہ برس برطانیہ میں مردوں میں بھی ویکسین متعارف کروائی گئی تھی۔










