آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: چین سے پھیلنے والے نئے وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں اور اس سے بچاؤ کے طریقے کیا ہیں؟
چین میں حکام نے اپنے شہریوں کو اس شہر آنے جانے سے منع کر دیا ہے جہاں سے آنے والے ایک مہلک نئے وائرس سے اب تک نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک کروڑ دس لاکھ آبادی والے شہر ووہان کے رہائشیوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے نکلنے اور عوامی مقامات پر اکٹھا ہونے سے گریز کریں۔
دنیا میں تاحال اس وائرس کے 440 کے قریب کیس سامنے آئے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ وائرس یہاں سے دیگر چین اور آگے امریکہ، جاپان، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا تک بھی پھیل چکا ہے اور پاکستان میں بھی حکام نے کورونا وائرس کے حوالے سے تنبیہ جاری کی ہے۔
اس وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں، کیا یہ کوئی نئی بیماری ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟ ہم نے ماہرین سے ان ہی سوالوں کے جواب لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
عالمی ادارہ صحت کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کورونا وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔
ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے، سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ اس نئے وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جتا ہے۔
اس سے متاثر ہونے والے افراد میں ووہان سے تعلق رکھنے والے میں کم از کم 15 طبی کارکن بھی شامل ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
جنوبی کوریا نے بھی پیر کے روز اپنے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے جبکہ تھائی لینڈ میں دو اور جاپان میں بھی ایک کیس سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد حال ہی میں ووہان سے واپس آئے تھے۔
احتیاطی تدابیر
سنگاپور اور ہانگ کانگ سے سفر کرنے والوں کی دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر سکریننگ کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کے اقدامات امریکہ نے بھی جمعے کو اپنے تین بڑے ہوائی اڈوں پر شروع کیے ہیں جن میں سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور نیو یارک کے ایئرپورٹ شامل ہیں۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ پبلک ہیلتھ کے صدر گیبرئیل لیونگ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔
- اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں اور اپنے ناک یا چہرے کو مت رگڑیں۔
- احتیاط کریں اور باہر جاتے ہوئے ماسک پہن کر رکھیں۔
- پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں۔
- اگر آپ نے چین کے شہر ووہان کا سفر کیا ہے تو اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں۔
- اپنے ڈاکٹر سے ہرگز یہ بات مت چھپائیں کہ آپ نے ووہان کا سفر کیا ہے۔
آپ کے سوالات
بی بی سی نے صارفین کے سوالات مرتب کر کے ماہرین سے ان کے جوابات طلب کیے ہیں۔
کیا اس بیماری کے لیے کوئی ویکسین موجود ہے؟
چونکہ یہ اس وائرس کی ایک ایسی نئی قسم ہے جو انسانوں میں پہلے کبھی نہیں پائی گئی، اس لیے اب تک کوئی ایسی ویکسین سامنے نہیں آئی جو اس وائرس کے خلاف کارامد ثابت ہو۔ تاہم محققین ویکسین تشکیل دینے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔
میں فروری میں چین جا رہا ہوں؟ مجھے کیا احتیاط کرنی چاہیے؟
چینی حکام اور عالمی ادارہ صحت کی جانب اس وقت سے صرف چین کے شہر ووہان آنے جانے پر پابندی ہے۔ تاحال چین کے کسی اور شہر کے بارے میں کوئی ایسی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔
تاہم آپ کو سفر کرنے سے پہلے متعلقہ ملک کے سفارت خانے کی طرف سے جاری کی جانے والی تازہ ترین ٹریول ایڈوائزری ضرور دیکھ لیجیے گا۔
جن لوگوں نے گذشتہ سال کے اواخر میں چین کا سفر کیا ہو، کیا انھیں کوئی خطرہ ہے؟
انسانوں میں اس وائرس کے پہلے کیسز چین کے شہر ووہان میں دسمبر کے مہینے میں سامنے آئے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے قبل اس وائرس کی انسانوں میں موجودگی کے کوئی واقعات نہیں ہیں۔
اس وائرس کی افزائش میں، یعنی انفیکشن ہونے سے اور علامات نظر آنے تک محض چند دن لگتے ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو تو چند ہی دن میں علامات دکھائئ دے جاتی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شروع میں یہ وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہوا۔