سپریڈ شیٹس کی کمپنی ایئر ٹیبل: ’میرا ایک ارب ڈالر کا آئیڈیا پہلے کوئی نہیں سمجھتا تھا‘

،تصویر کا ذریعہBLOOMBERG
- مصنف, ڈیو لی
- عہدہ, جنوبی امریکہ ٹیکنالوجی رپورٹر
سیلیکون ویلی میں ہاوی لیو ایک نئی کمپنی ایئر ٹیبل کے بانی اور چیف ایگزیکیٹو ہیں۔ ان کی فرم سپریڈ شیٹس کو سہل بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ سپریڈ شیٹس سے مراد ایک الیکٹرانک دستاویز ہے جس سے حساب کتاب رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
سپریڈ شیٹس ڈیٹا اور حساب کتاب کے لیے کام میں لائی جاتی ہیں اور ان کا استعمال زیادہ تر اکاؤنٹینٹس کرتے ہیں جو ان کی مدد سے چارٹس بناتے ہیں اور جمع تفریق کرتے ہیں۔ مگر عام لوگوں کے لیے یہ ایک پیچیدہ کام ہے۔
ہاوی لیو کا کہنا ہے کہ ان کی ایپ ’ایئر ٹیبل‘ نے یہ مشکل آسان کر دی ہے اور اس کی مدد سے عام لوگ، مثلاً کسان اور گلہ بان، بھی سپریڈ شیٹس کو اپنے روز مرہ کام کے لیے بروئے کار لاسکتے ہیں۔ کیونکہ اب اس کی وجہ سے کمپیوٹر سیکھنا یا کوڈِنگ میں مہارت حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ: ’یہ ایک بڑا موقع ہے۔ ایمازون، فیس بک یا گوگل سے اس کا موازنہ غلط نہ ہوگا۔‘
’ایپ پر لوگوں کر نظریں‘
یہ ایپ بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اسے انٹرٹینمیٹ فراہم کرنے والی بین الاقوامی کمپنی نیٹ فلِکس، برقی کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور ٹائم میگزین جیسے اداروں نے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس ایپ کو آئے چار ہی برس ہوئے ہیں لیکن اس کی مالیت 1.1 بلین ڈالر ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہاوی لیو کہتے ہیں کہ ابتدا میں سرمایہ کاروں کو اپنا آئیڈیا سمجھانا دشوار تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ کوئی نیا خیال نہیں۔ کمپیوٹر کی تشکیل سے بھی پہلے سپریڈ شیٹس اپنا وجود رکھتی تھیں۔‘
تو جب وہ اور ان کے پارٹنر سرمایہ کاروں سے ملاقات میں گئے تو ان کے پاس کہنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں تھا جس کی توقع سرمایہ کار عام طور پر رکھتے ہیں۔
اس وقت ایئرٹیبل ان کے پاس محض ایک خیال کی صورت میں تھا۔ مگر اب یہ پیشہ ورانہ دنیا کو بدل رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAIRTABLE
ہاوی لیو اس وقت کو ذہن میں لاتے ہوئے کہتے ہیں ’بہت سی آنکھیں محض ہمیں تکے جا رہی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بعض نے کہا کہ آپ کی بات ہمارے پلے نہیں پڑی۔‘
آخر کار ایئر ٹیبل کی ٹیم کی محنت رنگ لائی اور اس پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے لگا۔
کامیابی کا سہرا اپنی ٹیم کے سر باندھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’ایک عظیم آئیڈیا بُری ٹیم کے ہاتھوں میں آ کر ناکام ہو سکتا ہے اور ایک کم معروف خیال ایک اچھی ٹیم کے ہاتھوں میں آ کر کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتا ہے۔‘
ہاوی لیو اپنے خاندانیِ پس منظر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ان کے اجداد کوریا سے چین جا کر آباد ہوئے تھے۔ ان کے والدین چین میں پیدا ہوئے مگر دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ امریکہ ہجرت کر گئے۔ وہ خود امریکہ ہی میں پیدا ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہHOWIE LIU
13 برس کی عمر میں ان کے والد کی کتابوں میں پروگرامِنگ لینگویج یا زبان سی پلس پلس ( C++) سے متعلق ایک کتاب ان کے ہاتھ لگی اور انھوں نے یہ زبان سیکھنا شروع کر دی۔
کمپیوٹِنگ کی دنیا سے دلچسپی انھیں نارتھ کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی میں لے گئی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں مختلف تجربات کیے مگر کوئی باقاعدہ کاروبار شروع نہیں کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہAIRTABLE
البتہ اس دوران کاروباری دنیا کے بااثر لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات استوار ہوگئے۔ ان میں سیلز فورس کے چیف ایگزیکیٹیو مارک بینوف بھی شامل ہیں۔
ہاوی لیو کہتے ہیں کہ مارک بینوف نے انھیں کئی مفید مشورے دیے۔
سنہ 2017 میں جب ہریکین ہاروی ریاست ٹیکساس اور لوئیزیانا سے ٹکرایا تو اعداد و شمار اور تفصیلات یکجا کرنے کے لیے ایئرٹیبل کو استعمال کیا گیا جو متاثرین تک امداد پہنچانے اور ان کی بحالی میں مفید ثابت ہوا۔












