کچھ لوگوں کو سبزیوں سے نفرت کیوں ہوتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا آپ کو کچھ سبزیاں کھانے سے نفرت ہے؟ امریکی سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق اس کی وجہ شاید آپ کی جینیات میں چھپی ہے۔
اگر آپ کو وراثت میں مخصوص ’ناگوار ذائقے کی جین‘ کی دو کاپیاں ملتی ہیں اور آپ ہری گوبھی اور سپراؤٹ جیسی سبزیاں کھاتے ہیں تو یقیناً یہ ’آپ کا پورا دن خراب کرنے والی کرواہٹ‘ پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے سبزیوں کو اپنی غذا میں شامل کرنا بہت مشکل ہے۔
اس جین کی وجہ آپ کے لیے بیئر، کافی اور ڈارک چاکلیٹ کا ذائقہ بھی بدمزہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارتقائی لحاظ سے اگر کوئی کڑوے ذائقے کے معاملے میں حساس ہے تو یہ اچھی بات ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو زہریلی چیزیں کھانے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن ڈاکٹر جینیفر سمتھ اور یونیورسٹی کنٹکی سکول آف میڈیسن میں ان کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو ایک دن میں پانچ مرتبہ تجویز کردہ سبزیاں اور پھل کھانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
ہر کسی کو وراثت میں ذائقے کی جین کی دو کاپیاں ملتی ہیں جسے TAS2R38 کہا جاتا ہے۔ اس جین میں ایک ایسی پروٹین پائی جاتی ہے جو زبان کو کڑوے ذائقے کے بارے میں بتاتی ہے۔
بعض لوگوں میں ذائقے کی اس جین کی ایک مختلف قسم یعنی ’اے وی آئی‘ کی دو کاپیاں پائی جاتی ہیں اور ایسے لوگ چند مخصوص کیمیائی مرکبات کے ذائقوں کے حوالے سے حساس نہیں ہوتے۔
جن لوگوں میں ’اے وی آئی‘ کی ایک کاپی ہوتی ہے اور دوسری کاپی ’پی اے وی‘ کی ہوتی ہے وہ کیمیائی مرکبات کے ذائقے کو تو محسوس کر سکتے ہیں لیکن اس کی شدت اتنی نہیں ہوتی جتنی ایسے لوگوں کی ہوتی ہیں جن میں اس جین کی دو کاپیاں ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھیں ’سوپر ٹیسٹرز‘ بھی کہا جاتا ہے جنھیں یہ غذا انتہائی کڑوی لگتی ہے۔
سائنسدانوں نے 175 افراد پر تحقیق کی جس سے انھیں معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں اس جین کی ’پی اے وی‘ قسم کی دو کاپیاں ہیں وہ سبز پتوں والی سبزیوں کی تھوڑی مقدار ہی کھا سکتے ہیں، جو دل کے اچھی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر سمتھ نے ڈاکٹروں کو متبنہ کیا کہ آپ کو چیزوں کے ذائقوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ مریض آپ کی جانب سے دی گئی غذائی ہدایات کی پیروی کریں۔
محققین پرامید ہیں کو وہ مستقبل میں اس بات کا کھوج لگا سکیں گے کہ کیا مرچوں کے استعمال سے سبزیوں کی کڑواہٹ دور کی جا سکتی ہے اور ایسے لوگوں کے لیے سبزیاں زیادہ پرکشش بنائی جا سکتی ہیں جنھیں وراثت میں ہی ان کی کچھ اقسام سے نفرت ملی ہے۔










