ٹوائلٹ میں اپنی ’پوزیشن‘ کا خیال رکھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ یہ مضمون ٹوائلٹ میں بیٹھے پڑھ رہے ہیں اور آپ کو زیادہ وقت لگ رہا ہے تو شاید آپ کو بیٹھنے کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ جس کام کے لیے آئے تھے وہ تسلی سے مکمل ہو جائے۔
ہو سکتا ہے آپ کو یہ بات مضحکہ خیز لگے، لیکن یہ بات اتنی معمولی بھی نہیں۔
اوسط صحت کا مالک ہر شخص اپنی زندگی کے تقریباً چھ ماہ بیت الخلاء میں گزارتا ہے جس دوران وہ 145 کلوگرام وزن کے برابر مواد سے جان چھڑاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں ہر شخص ہر سال اپنے وزن سے تقریباً دو گنا زیادہ فضلہ خارج کرتا ہے۔
تو اب جب ہم طے کر چکے ہیں کہ یہ معاملہ ہماری زندگی میں کس قدر اہم ہے، اب دیکھتے ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی سب سے اچھی حکمت عملی کیا سکتی ہے۔
ٹوائلٹ میں بیٹھنے کا دورانیہ
اس بارے میں کوئی شک نہیں ہم میں سے کچھ لوگ اس کام میں ہم سے آگے ہیں۔
سنہ 1920 کے عشرے میں افریقہ کے دیہی علاقوں میں کام کرنے والی یورپی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم یہ جان کر حیران ہو گئی تھی کہ مقامی لوگوں کو ہاضمے یا معدے کی بیماریاں بہت کم ہی ہوتی ہیں۔
نہ صرف افریقہ، دنیا کے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔
ان مشاہدات کا مطلب یہ تھا کہ یہ صرف مختلف خوراک کی بات نہیں، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر بھی تھا کہ لوگ یہ عمل کتنی دیر میں مکمل کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اس مقصد کے لیے بیٹھتے کس انداز میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحقیق بتاتی ہے کہ مغربی دنیا میں لوگ جب بھی ٹوائلٹ جاتے ہیں تو وہ اوسطاً 114 سے 130 سیکنڈ تک سیٹ پر بیٹھتے ہیں۔
اس کے برعکس کئی ترقی پذیر ممالک میں، جہاں لوگ بیت الخلاء میں گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہیں، وہاں یہ معاملہ 51 سیکنڈ میں رفع دفع ہو جاتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ملکوں کے لوگوں کا ’طریقۂ واردات‘ زیادہ صحت مندانہ ہے۔
ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھنے سے ہم یہ مقصد 90 ڈگری کے زاویے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس سے ہماری بڑی آنت کے سرے پر واقع پٹھے (یا مسل) میں بل پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کو سیٹ پر بیٹھے ہوئے خاصا زور لگانا پڑتا ہے۔
ماہرین بتاتے ہیں ٹوائلٹ میں زور لگانے سے بواسیر (ہیمرایڈز)، بے ہوشی، حتیٰ کہ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹوائلٹ سیٹ کا استعمال ہے کیوں؟
کہا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ بنیادی نوعیت کے بیت الخلاء کا استعمال آج سے تقریباً چھ ہزار سال قبل قدیم عراق یا میسوپوٹیمیا میں ہوا تھا۔
سنہ 315 عیسوی تک روم میں 144 عوامی بیت الخلاء بنائے جا چکے تھے اور باتھ روم جانا ایک قسم کی معاشرتی سرگرمی بن چکا تھا۔
کھدائی کے دوران روم میں واقع ماؤنٹ پیلاٹائن کی پہاڑی پر ایک عوامی بیت الخلاء دریافت ہوا تھا جس میں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ پچاس سے زیادہ سوراخ تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ رازداری کی باتیں بیت الخلاء میں کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے کیے پر پانی بہانے کے لیے فلش سسٹم سے آراستہ پہلا ٹوائلٹ انگریز درباری جان ہیرنگٹن نے ایجاد کیا تھا اور انہوں نے اپنی ایجاد کا نام ’ایجیکس‘ رکھا تھا۔
لیکن یہ 1880 میں برطانوی پلمبر تھامس کریپر تھے جنھوں نے انگریزی حرف یو ’ u‘ کی شکل کی ٹوائلٹ بنا کر بحث ہی ختم کر دی۔
’یو‘ کی شکل میں ٹوائلٹ کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ کا کیا دھرا نظروں سے اوجھل ہو گیا اور بدبو سے بھی جان چھوٹ گئی۔
یوں ٹوائلٹ سیٹ، یورپی تہذیب کی علامت بن گئی۔ لیکن اس نے کچھ چیزوں کو مشکل بنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صحت کو خطرہ
ہم میں سے کئی ایسے ہیں جنھیں اس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے کہ سیٹ پر بیٹھے اس وقت تک اپنے دانت پسیجتے رہتے ہیں جب تک ہماری رگیں سوج نہیں جاتیں اور دل کی دھڑکن تیز نہیں ہو جاتی۔
اس کی وجہ قبض، بدہضمی یا انتڑیوں کا کوئی اور مسئلہ ہو سکتا ہے۔
لیکن کئی ماہرین ہمیں اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار یورپی ٹوائلٹ کو سمجھتے ہیں۔
امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر الیگزینڈر کیرا نے 1960 کے عشرے میں سیٹ والے ٹوائلٹ کو ’تاریخ کی سب سے غیر معقول ایجاد‘ قراد دیا تھا۔
مشہور امریکی گلوکار ایلوس پریسلے کے ذاتی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ دل کا دورہ جو ’راک اینڈ رولز کی دنیا کے اس بادشاہ‘ کے لیے جان لیوا ثابت ہوا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ ایلوس کی بڑی آنت میں مواد سخت ہو جانے کی وجہ سے مروڑ آ چکا تھا اور وہ ٹوائلٹ سے فراغت کے لیے زور لگا رہے تھے۔
ایک سادہ حل
لیکن اگر آپ اپنے باتھ روم میں پہلے ہی چینی مٹی (پورسیلین) کا بنا ہوا تخت لگا چکے ہیں اور آپ کو اس پر براجمان ہونا پسند ہے، تو اس سے جان چھڑانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے لیے ایک سادہ حل موجود ہے۔
بس اپنے گھٹنوں کو 90 کے زاویے پر رکھنے کی بجائے اوپر اٹھا کر 35 ڈگری کے زاویے پر لیں آئیے۔
یوں گھٹنوں کا زاویہ بدلنے سے آپ کے جسم کے نچلے دھڑ کے پٹھے پھیل جاتے ہیں اور بڑی آنت میں مروڑ نہیں پڑتا۔
یہ جا وہ جا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب یہ بھی ہم بتائیں کہ اس کے لیے آپ چھوٹا سا سٹول استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر ایمرجنسی میں ٹوائلٹ جانا پڑ جائے اور آپ کو پاؤں کے نیچے رکھنے کے لیے کوئی چیز نہیں مل رہی تو ان پرانی کتابوں کو ہی ایک دوسرے پر رکھ کے اپنا معیار بلند کر لیں۔
اس کا مطلب ہے جو کتابیں اور میگزین آپ گھنٹوں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر کنگھال چکے ہیں، انہیں پھینکنے کی ضرورت نہیں۔ ایمرجنسی تو کسی وقت ہو سکتی ہے!
نوٹ: یہ مضمون پہلی بار 24 ستمبر 2019 کو شائع کیا گیا تھا۔







