آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مصنوعی ذہانت نے مونا لیزا میں جان ڈال دی
مصنوعی ذہانت کے محققین نے لیونارڈو ڈی ونچی کی مشہور پینٹنگ مونا لیزا میں نظر آنے والی خاتون میں جان ڈال دی ہے۔
پینٹنگ کی مدد سے بنائی جانے والی ویڈیو میں خاتون اپنے سر، آنکھوں اور منہ کو حرکت دیتی نظر آ رہی ہیں۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی تازہ ترین ویڈیو ماسکو میں قائم سام سنگ کی مصنوعی ذہانت کی ریسرچ لیبارٹری میں بنائی گئی۔
سام سنگ کے ایلگوردمز کو سلیبریٹیز کی یوٹیوب سے اکٹھی کی گئی 7000 تصاویر پر تربیت دی گئی۔
کچھ لوگوں نے قابلِ یقین ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے عروج پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تصویر میں جان ڈالنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے نظام نے تصویر میں موجود چہرے کے نقوش اور حرکات کی نقشہ کشی کی۔ اس نظام کی مدد سے ایلبرٹ آئنسٹائن اور میرلِن مُنرو کی ویڈیوز بھی بنائی گئی ہیں۔ سسٹم کے اپنے بارے میں بنائی جانے والی ویڈیو کو ملا جلا ردِعمل ملا۔
یہ بھی پڑھیے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جعلی اوباما
سنہ 2017 میں تل ابیب یونیورسٹی کے محققین نے ملتا جلتا سسٹم متعارف کروایا۔ اس سسٹم کا استعمال کر کے ڈاکٹر سوپاسون نے صدر اوباما کی جعلی ویڈیو بنائی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سوپاسون نے اعتراف کیا کہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کا اچھا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سوگواران کو مرنے والے افراد کے ایواٹارز بنا کر دیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ سیاستدانوں کی جعلی ویڈیوز عوام کو بیوقوف بنا سکتی ہیں اور یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے سلیبریٹیز کی تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور ان سے فحش مواد بنایا گیا۔
مصنوعی ذہانت کنسلٹنسی 'دا اینوژنرز' کے چیف ایگزیکیٹو ڈیو کوپلِن کہتے ہیں کہ اگر ہم اس بارے میں یہ بات نہ کریں تو قابلِ یقین ڈیپ فیک ویڈیوز کی بڑھتی تعداد بہت بڑا مسئلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کے خیال میں عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قابلِ یقین جعلی ویڈیوز بنانا نہایت ہی آسان کام ہے۔