آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوکین کا نشہ: ’میں بیڈروم میں کوکین کا نشہ کرتی اور میرا بیٹا دوسرے کمرے میں سو رہا ہوتا تھا‘
- مصنف, لوئس لی رے
- عہدہ, وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام
برطانیہ اور ویلز میں گذشتہ 10 برس میں کوکین کا استعمال بڑھا ہے اور منشیات کے کاروبار کو فروغ دینے کا الزام متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر لگایا جاتا ہے۔
دو ماؤں نے ہمیں بتایا کہ نشے کی عادت نے ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کیا۔
سوزی ایک کاروباری خاتون ہیں اور وہ کہتی ہیں 'میں ایسی سہیلیوں کے گھر جایا کرتی تھی جو اپنے بچے اکیلے پال رہی تھیں۔ میرا بچہ زمین پر موجود جھولے میں ہوتا تھا اور میں کوکین استعمال کرنے کے لیے باتھ روم چلی جاتی تھی یا ہم کچن میں کوکین کر لیتے۔'
یونیورسٹی میں سوزی کوکین کا نشہ کیا کرتی تھیں لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اکیلی ماں کے طور پر تنہائی ان کی پریشانی میں اضافے کا باعث بنی۔
یہ بھی پڑھیے
وہ نشے کی عادیت والی اپنی خفیہ زندگی سے تنگ آ گئیں اور انھوں نے دوبارہ ماں بننے کا فیصلہ کیا کہ شاید حاملہ ہونے کے بعد وہ نشہ کرنے سے رک جائیں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ انھوں نے بتایا '20 ہفتے کے بعد ہونے والے سکین سے پہلے میں اپنی سہیلی سے ملی جو اپنے اس وقت منشیات کے ڈیلر دوست کے ہمراہ تھی۔ اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس پر کوکین کا ایک ٹکڑا رکھ دیا اور میں اسے استعمال نہ کرنے کی ہمت نہ کر سکی اور کمزور پڑ گئی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوزی مزید کہتی ہیں کہ ’اگلے دن میں سکین کروانے گئی تو پیٹ میں بچہ بالکل بے قابو ہو گیا اور میں نے سوچا کہ 'تہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار میں ہوں'۔
خوبصورت گاڑی، گھر اور بچے
برطانیہ میں نشے کا علاج فراہم کرنے والے مشہور نجی ادارے کا کہنا ہے کہ 2015 سے اب تک ادارے نے کوکین کے نشے کے عادی افراد کی تعداد میں 128 فیصد اضافہ دیکھا ہے۔
گزشتہ سال یو کے ایڈیکشن ٹریٹمنٹ یا یوکیٹ نے پاؤڈر کوکین کے عادی 504 افراد کا علاج کیا اور یہ تعداد چار سال پہلے 283 تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ہیلتھ سروس میں نفسیانی صحت کے علاج کے لیے داخل کیے جانے والے کوکین کے عادی افراد کی تعداد گزشتہ دس برسوں میں تین گنا بڑھ گئی ہے۔
ماں بننے کے بعد کوکین کے نشے کی عادی ہونے والی جین کہتی ہیں 'ہمارے پاس خوبصورت گاڑی اور گھر تھا، قرضہ لیا ہوا تھا اور تین بچے تھے جن کی اچھی پروریش ہو رہی تھی۔'
جین اور سکول میں چند بچوں کے والدین ہفتے میں دو بار بچوں کو ساتھ کھیلانے کا انتظام کرتے جس کے دوران والدین کوکین استعمال کرتے۔
جب ان کی اپنے شوہر کے ساتھ علیحدگی ہوئی تو جین کے پاس کافی رقم آ گئی اور منشیات کا استعمال شدت اختیار کر گیا۔ وہ کہتی ہیں 'میں کچھ ہی عرصے میں مردوں کو گھر لانے لگی۔ میں بیڈ روم میں کوکین استعمال کرتی اور میرا بیٹا دوسرے کمرے میں سو رہا ہوتا۔ پھر صبح کے چھ بج جاتے اور میں خود سے کہتی کہ میرے خدایا! میں نے پھر وہی کیا۔۔۔ اور بیٹے کو سکول چھوڑنے کے لیے الارم بجنے لگتا اور کئی بار وہ سکول نہ جا پاتا'۔
سوزی کے لیے زندگی میں پست ترین مقام آ چکا تھا۔
ان کا کہنا ہے 'میں نے خالص کوکین کے کئی گرام اور شراب کی چند بوتلیں خریدیں۔ میں گھر آئی اور خود کو بیڈروم میں بند کر کے پوری شام نشہ کرنے میں گزار دی۔'
اگلی صبح انھیں دورہ پڑا۔ 'میرے کمرے میں طبعی معاون موجود تھے اور مجھے یاد ہے میں یہ کہتے ہوئے زاروقطار رو رہی تھی کہ میں مرنا چاہتی ہوں۔ پلیز مجھے مرنے دیں۔'
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے متعدد بار نشہ چھوڑنے کی کوشش کی اور بلآخر ایک نجی بحالی کے مرکز میں جانا شروع کر دیا۔ ’میں نے خود کو بہتری کی طرف دھکیلا اور آہستہ آہستہ میں بہتر ہوتی گئی۔'
'میں ان تمام برسوں میں اپنے خاندان کے لیے ایک بوجھ تھی۔ بلآخر میں چیزیں بہتر کرنے کے قابل ہوئی۔‘
'میں مر سکتی تھی'
نشے سے چھٹکارے میں مدد دینے والے سپورٹ گروپ میں جین نے دوسروں پر نشے سے پاک ہونے کے اثرات دیکھے اور وہ نشہ چھوڑنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے ’ان سب کے روشن مسکراتے ہوئے چہرے تھے۔ وہاں پر مائیں بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ہر وقت موجود ہوتی ہیں اور میں نے سوچا کہ مجھے بھی ایسا بننا ہے۔'
جین کو احساس ہوا کہ وہ اپنے بچوں یا گھر کا صحیح طرح سے خیال نہیں رکھ رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں 'میرا خیال ہے کہ اگر میں نہ رکتی تو میرے بچے مجھ سے لے لیے جاتے یا میں مر جاتی۔'
یوکیٹ کے چیف ایگزیکیٹیو ایٹن ایلیگزینڈر کے مطابق کوکین کو اچھے وقت کے ساتھ منسوب کیا جاتا تھا مگر حقیقت میں اس کا اثر الٹا ہے۔ ان کا کہنا ہے 'یہ زندگیاں تباہ کرتا ہے، خاندانوں اور دوستوں کو الگ کر دیتا ہے اور کچھ لوگوں کو یہ مزید طاقتور منشیات جیسے ہیروئن کے استعمال کی طرف لے جاتا ہے۔‘
ایٹن کے خیال میں کوکین کے بارے میں تصورات جلد بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو کوکین کے نشے کی عادت کے بحران سے روکا جا سکے۔
'مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا تھا'
جین کہتی ہیں کہ کسی بھی قسم کی تنبیہ شاید ہی انھیں نشہ کرنے سے روک پاتی۔
وہ کہتی ہیں 'میرے کچھ دوست کوکین کو بہت محتاط ہو کر استعمال کرتے تھے اور انھیں ندامت محسوس ہوتی تھی لیکن میں نے احتیاط کرنا بالکل چھوڑ دی اور مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا تھا۔'
سوزی متفق ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ اپنے کوکین کے استعمال کے اثرات سے 'بخوبی واقف' تھیں مگر نشے کی لت اتنی زیادہ تھی کہ ان کا ارادہ نہیں بدلا جا سکتا تھا۔ تاہم وہ امید کرتی ہیں کہ کبھی کبھار استعمال کرنے والوں تک پیغام پہنچے گا۔
ان کا کہنا ہے 'یہ چیزیں جہاں سے آتی ہیں اس بارے میں ذرا سی آگاہی ان لوگوں کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دے گی‘۔