آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا آپ لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کھائیں گے؟
دنیا میں گوشت خوری کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ کیا سان فرانسسکو کے کھیت میں بھاگنے والی مرغیاں اس کا حل ہیں۔
سنہ 1931 میں چرچل نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک دن انسان مرغیوں کے جسم کے کچھ حصوں ’سینہ‘ یا ’ٹانگیں‘ کھانے کے لیے انھیں ایک مخصوص ماحول میں تیار کریں گے۔'
87 برس بعد وہ دن آ گیا ہے۔ رواں برس جون میں ہم نے سان فرانسسکو کی ایک فوڈ کمپنی کے تیار کردہ چکن نگٹس کھائے جو فراصل مرغی کے پروں سے تیار کیے گئے تھے۔
چکن جس کا ذائقہ چکن جیسا ہی تھا اب بھی زندہ تھا۔ اور بتایا گیا کہ وہ فارم کے پاس موجود لیبارٹری میں ہی گھوم رہا تھا۔
دو دن لگتے ہیں چکن نگٹس کو بنانے میں ایک چھوٹے سے بائیو ریکٹر میں۔ ہوتا یہ ہے کہ اس میں پروٹین کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ خلیے بڑھنے کے عمل سے گزریں۔
ابھی اس کے نتائج کمرشل بنیادوں پر سامنے نہیں آئے لیکن فوڈ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو جن کا نام جوش ٹیٹرک ہے کہتے ہیں کہ اس سال کے آخر تک کچھ ریسٹورانٹس کے مینیو میں یہ چکن شامل ہو جائے گا۔
'ہم کچھ اشیا جیسے انڈے یا آئس کریم یا مکھن پودوں سے بناتے ہیں اور ہم گوشت سے گوشت بناتے ہیں۔آپ کو جانوروں کو مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔'
میکڈونلڈ یا کے ایف سی کا کہنا ہے کہ ہم غیر معمولی ذائقہ دیتے ہیں اور نتائج بہت متاثر کن ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیٹرک اور دیگر جو خلیاتی گوشت پر کام کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جانوروں کو ذبیحہ بند ہو اور ماحول فارمنگ فیکٹری انڈسٹری سے محفوظ ہو سکے۔
مزید پڑھیے
ان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کی کثیر آبادی کے کھانے کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بغیر پودوں کو تباہ کیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی جانب سے بنایا جانے والا گوشت جنیاتی طور تبدیل شدہ نہیں ہوتا اس لیے اسے تیار کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خوراک کے لیے جانوروں کی افزائش کرنا عالمی حدت اور فضائی اور آبی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔
خلیوں سے گوشت کی تیاری کی ایک بڑی کمپنی سے منسلک کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر یوما ولیتی کہتے ہیں کہ ہرسال ستر ارب جانوروں کو سات ارب انسانوں کے لیے ذبح کیا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ گوشت کے لیے عالمی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے اور سنہ 2050 تک دنیا کی آبادی نو ارب تک پہنچ جائے گی۔
بہت سے امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب کم گوشت کھاتے ہیں لیکن امریکی محکمہ زراعت کے مطابق اب بھی ایک بندہ سالانہ 100 کلو گوشت اور پولٹری خوراک کھاتا ہے۔ اور یہ 1970 کے مقابلے میں 20 اونس زیادہ ہے۔
سیلیولر ایگریکلچر کی بنیاد ولندیزی سائنس دان مارک پوسٹ نے رکھی تھی۔ انھوں نے سنہ 2013 میں ہیم برگر لیبارٹری میں تیار کیا تھا جس کی قیمت تین لاکھ ڈالر تھی۔
ابھی تک کسی اور کمپنی نے اس قسم کی خوراک کی تیاری نہیں کی۔
ٹیٹرک کہتے ہیں کہ ایشیا اور یورپ میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جن سے ہم بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس حوالے سے ابھی قوانین و ضوابط واضح نہیں کیونکہ دو ادارے ایف ڈی اے اور یو ایس ڈی اے اسے دیکھ رہے ہیں۔
دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل بل گیٹس اور رچرڈ برینسن جیسی شخصیات نے اس سلسلے میں متعلقہ ٹیکنالوجی پر رقم خرچ کی ہے۔
ٹائسن امریکہ میں گوشت کی پیداوار کے لیے سب سے بڑی کمپنی ہے جو چار لاکھ 24 ہزار سور، ایک لاکھ تین ہزار گائے اور ساڑھے تین لاکھ چکن تیار کرتی ہے۔ لیکن وہ کیوں سیلولر میٹ میں پیسہ لگا رہی ہے۔
اس کمپنی کے چیف فنانشل افسر کا کہنا ہے کہ فرم نے میٹ کمپنی سے پروٹین کمپنی می منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اب مغرب میں یہ بحث بھی کی جارہی ہے کہ اس نے پروڈکٹ کی مارکیٹنگ کیسے کی جائے گی۔ اسے صاف گوشت کہا جائے گا، سیلولر گوشت یا ذبحہ سے پاک گوشت یا اخلاقی پروٹین یا پھر فقط گوشت ہی کہا جائے گا۔
میزوری کے پہاڑوں موجود ایک کھیت میں کھڑے کسان کیلینا اور بلی بروس اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان کی ایک چار سالہ بیٹی ویلا ہیں۔
بلی بروس کا کہنا ہے کہ 'میرا خیال ہے کہ خوراک کو لیبل کرنا چاہیے کہ یہ لیبارٹری میں بنی ہے۔۔۔۔ جب میں گوشت کے بارے میں سوچتا ہوں تو میں اپنے پیچھے کھڑے ایک سانس لیتے جانور کے بارے میں سوچتا ہوں۔'
میزوری ریاست کے قانون دانوں نے وہاں کے کسانوں کے اصرار پر یہ فیصلہ دیا ہے کہ لائیو سٹاک میں گوشت سے بنی اشیا پر لیبل لگایا جائے گا۔
کیلینا بروس سمجھتی ہیں کہ یہ شفافیت ہے کہ خریدار کو معلوم ہو گا کہ وہ کیا خرید رہا ہے اور اپنے خاندان کو کیا کھلا رہا ہے۔ میرے خیال سے اسے کچھ مختلف کہنا چاہیے۔'
لیا بیونڈو امریکہ میں موشیوں سے متعلق ایسوسی ایشن کی پالیسی سازی اور متعلقہ امور کی ڈائریکٹر ہیں۔ ان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ میزوری میں موجود قانون کو دوسری ریاستوں میں بھی لاگو کیا جائے گا۔
'ہم ان کمپنیوں پہ چھوڑیں گے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انھوں نے ان پروڈکٹس کو کیا کہنا ہے جنھیں وہ گوشت نہیں کہتیں۔'