آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روبوٹ گاڑیوں نے ریوگو سیارچے کی نئی تصاویر بھیج دیں
جاپان کے خلائی ادارے نے ایک سیارچے پر دو روبوٹ گاڑیاں اتار کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور اب روبوٹ گاڑیاں سیارے کی سطح کی تصاویر زمین تک بھیج رہی ہیں۔
یہ دونوں گاڑیاں ہایابوسا-2 نامی خلائی جہاز سے سیارچے سے بھیجی گئیں جو ایک کلومیٹر چوڑے سیارچے 'ریوگو' کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔
یہ گاڑیاں سیارچے کا درجۂ حرارت ناپیں گی اور اس کی تصویریں لیں گے۔ ریوگو کی کششِ ثقل بہت کم ہے جس کی وجہ سے یہ گاڑیاں وہاں آسانی سے اچھل بھی سکتی ہیں۔
اسی بارے میں
جاپانی خلائی ادارے نے ہفتے کو تصدیق کی کہ 'دونوں گاڑیاں اچھی حالت میں ہیں، سیارچے پر چل پھر کر رہی ہیں اور تصویریں لے رہی ہیں۔'
ہایابوسا-2 اس سال جون میں ساڑھے تین سال کے سفر کے بعد 32 کروڑ کلومیٹر دور ریوگو سیارچے تک پہنچا تھا۔
اس کی اہمیت کیا ہے؟
اس سے قبل یورپی خلائی ادارہ ایک دمدار ستارے پر خلائی گاڑی اتار چکا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیارچے پر گاڑی اتاری گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیارچے بنیادی طور پر نظامِ شمسی کی باقیات میں سے ہیں۔ چار ارب 60 کروڑ سال پہلے جو بچا کھچا مواد سیاروں اور سورج کے بننے میں کام نہ آ سکا، اس سے سیارچے بن گئے۔
ریوگو خاصی قدیم قسم کا سیارچہ ہے، اور اس پر تحقیق سے نظامِ شمسی کے ابتدائی حالات اور زمین کی تشکیل کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں گی۔
ایک کلوگرام وزنی خلائی گاڑیوں میں وائیڈ اینگل اور سٹیریو کیمرے نصب ہیں جن سے وہ تصاویر لے کر واپس زمین تک بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سینسر بھی لگے ہوئے ہیں جو سیارچے کی سطح کا درجۂ حرارت ناپ سکتے ہیں۔
یہ گاڑیاں موٹروں کی مدد سے چل پھر سکتی ہیں۔
سیارچے کی سطح سیاہ ہے اور یہ ہر ساڑھے سات گھنٹے بعد اپنے محور پر گھومتا ہے۔
تین اکتوبر کو ہایوبوسا-2 خلائی جہاز خود سیارچے کی سطح پر اترے گا اور وہاں سے مٹی اور پتھروں کے نمونے حاصل کرے گا۔
اس کے بعد سائنس دان ریوگو کی سطح میں سوراخ کر کے نیچے سے بھی نمونے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
بعد میں خلائی جہاز یہ نمونے 2020 میں زمین پر لے آئے گا تاکہ ان پر مزید تحقیق کی جا سکے۔