آبی حیات پلاسٹک کیوں کھاتی ہے؟

چھوٹی مچھلیوں سے لے کر بڑی وہیلز مچھلیوں تک آبی حیات پلاسٹک کھا رہی ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف پلاسٹک خوراک جیسے دکھتی ہے بلکہ اس کی بو بھی خوراک جیسی ہوتی ہے۔

رائل نیدرلینڈز انسٹیٹیوٹ فار سی ریسرچ کے مائیکربیئل اکالوجسٹ ایرک زیٹلر کہتے ہیں کہ ’اگلی بار جب بھی آپ ساحل سمندر پر جائیں تو پانی سی پلاسٹک نکال کر اسے سونگھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘

’اس سے مچھلیوں جیسی بو آتی ہے۔‘

ایرک زیٹلر کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ سمندر میں پلاسٹک جلد ہی مائیکروبز کی باریک طے پر بیٹھ جاتی ہے، عام طور پر اسے ’پلاسٹسفر‘ کہا جاتا ہے۔

اس باریک طے سے کیمیکلز نکلتے ہیں جو اسے خوراک جیسا بناتے ہیں اور اس سے خوراک جیسے بو آتی ہے۔

ایک خاص مرکب ڈیمیتھل سلفائیڈ (ڈی ایم ایس) کیمیکل کی طرح کام کرتا ہے اور قطار میں پلاسٹک سے نکلتا رہتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جانور جن میں مچھلیاں بھی شامل ہیں اس کی جانب کھچی چلی آتی ہیں۔

ایسا ہی کچھ آبی پرندوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو اپنی خوراک سونگھ کر تلاش کرتے ہیں۔

لیکن دیگر جاندراوں جیسے کہ بیلین وہیل، پلاسٹک کو حادثاتی طور پر نگل لیتی ہیں جب وہ چھوٹی مچھلیوں کو تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔

سمندر میں پلاسٹک بڑھ رہی ہے

دنیا بھر کے سمندروں میں پلاسٹک تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سنہ 2015 کی تحقیق کے مطابق ہر سال سمندروں میں تقریباً 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں داخل ہوتی ہے۔

اس تحقیق کو بہترین کوشش قرار دیا گیا ہے جس کی مدد سے یہ جاننے میں مدد ملی ہے کہ کتنی مقدار میں پلاسٹک سمندر میں پھینکی جاتی ہے یا بہا دی جاتی ہے۔

لیکن رازکلڈ یونیورسٹی کے کرسٹن سیبرگ اس تحقیق کے اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بنیادی طور پر دو وجوہات کی بنا پر یہ اصل مقدار کا ناکافی اندازہ ہے۔‘

’پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ڈیٹا سمندر میں جال پھنک کر حاصل کیا گیا ہے جس میں سے عام طور پر 0.3 ملی میٹر سے چھوٹے ذرات چھوٹ جاتے ہیں۔‘

’اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جن ذرات کا تجزیہ کیا گیا ہے وہ ممکنہ طور پر ان ذرات کی کل تعداد جو سمندر میں موجود ہیں کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہیں۔‘

سنہ 2015 کی اس تحقیق کے مطابق اگر اس حوالے سے کچھ نہ کیا گیا تو 2025 تک ہر سال سمندر میں داخل ہونے والی پلاسٹک کی تعداد 17.5 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔

لہروں کے نیچے زندگی متاثر ہو رہی ہے؟

اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ جانور مسلسل پولیمرز کو نگل رہے ہیں ایک انتہائی اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا اس مواد کا ماحولیاتی اثر ہے اور ہم جدید سائنس کا استعمال کر کے مسائل پیدا کرنے والی پراڈکٹس کی جگہ محفوظ متبادل تلاش کیوں نہیں کر رہے؟

ڈاکٹر مارک براؤن نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اگر ماہر ماحولیات اور انجینیئر مل کر ان اشیا کی شناخت کریں جن کے ماحولیاتی اثرات ہوتے ہیں اور انھیں ختم کریں تو یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے۔‘

لیکن نقصان کے بارے میں تاحال مکمل طور پر معلوم نہیں ہے۔

سیبرگ کا کہنا ہے کہ ’اس کے اثرات بڑے جانوروں جیسے کہ وہیل اور پرندوں پر پر واضح ہیں۔‘

’وہ بھوک اور اختناق سے مر سکتے ہیں کیونکہ اگر وہ پلاسٹک نگل لیں تو وہ ان کے خوراک کے راستے کو بند کر دیتی ہے۔‘

بلیو پلینٹ 2 کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود البَترُوس نامی پرندوں کے قریب پلاسٹک کو پایا۔ ایگزیکٹیو پروڈیوسر جیمز ہنی بورن کا کہنا ہے کہ ’ان پرندوں نے یہ سوچ کر پلاسٹک بیگ اٹھا لیے ہوں گے کہ شاید یہ کھانے کی چیز ہے اور اپنے بچوں کو کھلا دی ہوگی۔‘

’ایک چھوٹا پرندہ پلاسٹک ٹوتھ پک کھانے سے مر گیا تھا جس نے اس معدہ چھلنی کر دیا تھا۔‘

لیکن ایرک زیٹلر کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے بھی جانور ہیں جنھوں نے پلاسٹک نگل تو لی لیکن اس کا ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

ہم پلاسٹک کو کیسے سمندر سے دور رکھ سکتے ہیں؟

بحرالکاہل میں سے آٹھ ستمبر کو پلاسٹک نکالنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر صفائی کا کام شروع کیا گیا ہے۔

یہ اقدام ’دی اوشن کلین اپ‘ کی جانب سے اٹھایا گیا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ ایک چھ سو میٹر طویل فلوٹر پانی میں چھوڑیں گے جو ہر ماہ سمندر میں سے پانچ ٹن سے زائد پلاسٹک اکھٹی کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح 2040 تک سمندر سے 90 فیصد پلاسٹک کم ہو جائے گی۔

سیبرگ کا کہنا ہے کہ ’صفائی اچھی بات ہے اور اس سے مدد ملے گی، خاص طور پر اگر ساحلی علاقوں پر توجہ دی جائے جہاں سے بڑے پیمانے پر پلاسٹک سمندر میں جاتی ہے۔‘

بہرحال سب سے بنیادی حل تو یہ ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی کو روکا جائے نہ کہ بعد میں اس کی صفائی کی جائے۔ یہ تب ہی ہوگا جب ’ہم سب پلاسٹک کو استعمال کرنے اور اسے ضائع کرنے کے اپنے طریقے تبدیل کریں۔‘

ایرک زیٹلر اس حوالے سے سیبرگ کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’اس اور کوئی فوری حل نہیں ہے۔‘

’ماحول سے پلاسٹک کو ختم کرنے کے لیے کئی چیزوں کو یکجا کرنا پڑے گا، انسانی رویوں میں تبدیلی، حکومتی قوانین اور صنعتوں کی شرکت۔‘